تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "pechvaan"
نظم کے متعلقہ نتیجہ "pechvaan"
نظم
کبھی ہم سن حسینوں میں بہت خوش کام و دل رفتہ
کبھی پیچاں بگولہ ساں کبھی جیوں چشم خوں بستہ
اختر الایمان
نظم
نظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہے
الکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودے
اکبر الہ آبادی
نظم
وہاں عشق پیچاں کی بیلوں میں لپٹا ہوا اک مکاں ہو
اگر میں کبھی راہ چلتے ہوئے اس مکاں کے دریچوں کے