aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "phate"
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
جو خوش ہیں وہ خوشی میں کاٹے ہیں رات ساریجو غم میں ہیں انہوں پر گزرے ہے رات بھاریسینوں سے لگ رہی ہیں جو ہیں پیا کی پیاریچھاتی پھٹے ہے ان کی جو ہیں برہ کی ماریکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
اب سب منظربدل چکے ہیںچھوٹے چھوٹے چوراہوں سےچوڑے رستے نکل چکے ہیںنئے نئے بازارپرانے گلی محلے نگل چکے ہیںنظم سے مجھ تکاب کوسوں لمبی دوری ہےان کوسوں لمبی دوری میںکہیں اچانکبم پھٹتے ہیںکوکھ میں ماؤں کےسوتے بچے کٹتے ہیںمذہب اور سیاستدونوںنئے نئے نعرے رٹتے ہیںبہت سے شہروںبہت سے ملکوں سےاب چل کرنظم مرے گھر جب آتی ہےاتنی زیادہ تھک جاتی ہےمیرے لکھنے کی ٹیبل پرخالی کاغذ کوخالی ہی چھوڑ کے رخصت ہو جاتی ہےاور کسی فٹ پاتھ پہ جا کرشہر کے سب سے بوڑھے شہری کیپلکوں پر!آنسو بن کر سو جاتی ہے
نہیں میرا آنچل میلا ہےاور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیںکسی ہوا نے ان کو اب تک چھونے کی جرأت نہیں کی ہےتیری اجلی پیشانی پرگئے دنوں کی کوئی گھڑیپچھتاوا بن کے نہیں پھوٹیاور میرے ماتھے کی سیاہیتجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتیاچھے لڑکےمجھے نہ ایسے دیکھاپنے سارے جگنو سارے پھولسنبھال کے رکھ لےپھٹے ہوئے آنچل سے پھول گر جاتے ہیںاور جگنوپہلا موقع پاتے ہی اڑ جاتے ہیںچاہے اوڑھنی سے باہر کی دھوپ کتنی ہی کڑی ہو!
اس کارواں میں طفل بھی ہیں نوجواں بھی ہیںبوڑھے بھی ہیں مریض بھی ہیں ناتواں بھی ہیںمیلے پھٹے لباس میں کچھ دیویاں بھی ہیںسب زندگی سے تنگ بھی ہیں سرگراں بھی ہیںبے زار زندگی سے ہیں پیر و جواں سبھیالطاف شہر یار کے ہیں نوحہ خواں سبھی
دیکھو غریب کتنی زحمت اٹھا رہا ہےگلیوں میں بھیڑ والی رکشا چلا رہا ہےمحروم ہے اگرچہ دنیا کی نعمتوں سےہر بوجھ زندگی کا ہنس کر اٹھا رہا ہےبرسات میں بھی دیکھو پھرتا ہوا سڑک پررکشا بھی بھیگتا ہے خود بھی نہا رہا ہےگرمی کی دھوپ میں بھی رکتا نہیں ہے گھر میںپر پیچ راستوں کے پھیرے لگا رہا ہےسردی سے کانپتا ہے کپڑے پھٹے ہوئے ہیںٹھنڈی ہوا سے خود کو کیسے بچا رہا ہےمستی میں دوڑتا ہے رکشا لیے سڑک پرنغمہ کوئی سریلا اب گنگنا رہا ہےرکشے کے پیڈلوں پر رکھے ہیں پاؤں دونوںآنکھیں ہیں راستے پر گھنٹی بجا رہا ہےماں باپ منتظر ہیں گھر پر سبھی کے عادلؔبچوں کو اب وہ لینے اسکول جا رہا ہے
تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمروہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفرپوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبراور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پرآنکھ وقف دید تھی لب مائل گفتار تھادل نہ تھا میرا سراپا ذوق استفسار تھا
گلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںچہروں پہ خاک دھول کے پونچھے ہوئے نشاںتو اور رنگ غازہ و گلگونہ و شہابسوچا بھی کس کے خون کی بنتی ہیں سرخیاںگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںمیلے پھٹے لباس ہیں محروم شست و شوتو اور عطر و عنبر و مشک و عبیر و عودمزدور کے بھی خون کی آتی ہے اس میں بوگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںتن ڈھانکنے کو ٹھیک سے کپڑا نہیں ہے پاستو اور حریر و اطلس و کم خواب و پرنیاںچبھتا نہیں بدن پہ ترے ریشمی لباسگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںچاندی کا کوئی گنجھ نہ سونے کا کوئی تارتو اور ہیکل زر و آویزۂ گہرسینہ پہ کوئی دم بھی دھڑکتا ہے تیرا ہارگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںصدیوں سے ہر نگاہ ہے فاقوں کی رہ گزرتو اور ضیافتوں میں بصد ناز جلوہ گرکس کے لہو سے گرم ہے یہ میز کی بہارگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںتاریک مقبروں سے مکاں ان کے کم نہیںتو اور زیب و زینت الوان زر نگارکیا تیرے قصر ناز کی ہلتی نہیں زمیںگلنار دیکھتی ہے یہ مزدور عورتیںمحنت ہی ان کا ساز ہے محنت ہی ان کا راگتو اور شغل رامش و رقص و رباب و رنگکیا تیرے ساز میں بھی دہکتی ہے کوئی آگگل نار دیکھتی ہیں یہ مزدور عورتیںمحنت پہ اپنے پیٹ سے مجبور عورتیں
راستہ نہیں ملتامنجمد اندھیرا ہےپھر بھی با وقار انساںاس یقیں پہ زندہ ہےبرف کے پگھلنے میںپو پھٹے کا وقفہ ہےاس کے بعد سورج کوکون روک سکتا ہے
یہ مانا رات آنکھوں میں کٹیایک ایک پل بت سا بن کر جم گیااک سانس تو اک صدی کے بعد پھر سے سانس لینے کا خیال آیایہ سب سچ ہے کہ رات اک کرب بے پایاں تھیلیکن کرب ہی تخلیق ہےاے پو پھٹے کے دل ربا لمحو گواہی دو
عید بہت ہی دھوم سے آئیبازاروں میں رونق لائیپہن کے اچھے اچھے کپڑےبچے اپنے گھر سے نکلےکپڑے گوٹے اور پھٹے کےجھلمل کرتے جھم جھم کرتےعید ملن کو پہنچے گھر گھرکتنے خوش تھے باہم مل کرپھینی اور مٹھائی کھائیمیٹھی میٹھی عید منائیملے انہیں عیدی کے پیسےکھیل کھلونے خوب خریدےجا کر باغ میں جھولا جھولےدنیا کے سارے غم بھولےسب نے دل سے عید منائیمگر ہمیں تو ذرا نہ بھائیتم جو نہیں تھیں پاس ہمارےدل بھر آیا غم کے مارےمیری سیمیںؔ میری پیاریتم کو مبارک عید تمہاریتم نے منائی خوب یہ عیدہمیں تمہاری ہوئی نہ دیدہم تو جب تم کو دیکھیں گےعید اسی دن کی سمجھیں گے
گوشت مچھلی سبزیاں بنیے کا راشن دودھ گھیمجھ کو کھاتی ہیں یہ چیزیں میں نے کب کھایا انہیںمیرا گھر رہتا ہے مجھ میں گھر میں میں رہتا نہیںبیوی بچوں کے پھٹے کپڑوں میں ہوںاور نئے جوڑوں کی خوشیوں میں چھپا جو کرب ہے وہ بھی ہوں میںفیس میں اسکول کی کاپی کتابوں میں بھی میںمیں ہی ہوں چولھے کی گیسمیں ہی ہوں اسٹو کا گیسمیرے جوتے جونک کی مانند میرے پاؤں سے لپٹے ہوئے ہیںچوستے ہیں میرا خونمیرا اسکوٹر میرے کاندھوں پہ بیٹھا ہےمیں اس کے ٹائروں میں لپٹا ہوں اور گھستا ہوں
سڑک مسافت کی عجلتوں میںگھرے ہوئے سب مسافروں کوبہ غور فرصت سے دیکھتی ہےکسی کے چہرے پہ سرخ وحشت چمک رہی ہےکسی کے چہرے سے زرد حیرت چھلک رہی ہےکسی کی آنکھیں ہری بھری ہیںکبیر حد سے ابھر رہا ہےصغیر قد سے گزر رہا ہےکسی کا ٹائر کسی کے پہیے کو کھا رہا ہےکسی کا جوتا کسی کی چپل چبا رہا ہےکسی کے پیروں میں آ رہا ہے کسی کا بچہکسی کا بچہ کسی کے شانے پہ جا رہا ہےکوئی ٹھکانے پہ کوئی کھانے پہ جا رہا ہےحبیب دست رقیب تھامےغریب خانے پہ جا رہا ہےامیر پنجرہ بنا رہا ہےغلام کرتب دکھا رہا ہےاور اپنے بیٹے کے ساتھ چھت پرامین کنڈا لگا رہا ہےنظام ٹانگہ چلا رہا ہےکسی کلائی پہ جگمگاتی ہوئی گھڑی ہےمگر ابھی وہ رکی ہوئی ہےکسی کے چہرے پہ بارہ بجنے میں پانچ سیکنڈ رہ گئے ہیںکسی کی ہاتھی نما پراڈوسڑک سے ایسے گزر رہی ہےسوائے اس کے کہیں بھی جیسے کوئی نہیں ہوکسی کی مونچھیں جھکی ہوئی ہیںکسی کی بانچھیں کھلی ہوئی ہیںکسی کی ٹیکسی کسی کی فوکسی ملی ہوئی ہیںکسی کے لب اور کسی کی آنکھیں سلی ہوئی ہیںکسی کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیںکسی کی پگڑی چمک رہی ہےکسی کی رنگت کسی کی ٹوپی اڑی ہوئی ہےشریف نظریں اٹھا اٹھا کرکمان جسموں پہ اپنی وحشت کے تیر کب سے چلا رہا ہےنظیر نظریں چرا رہا ہےنفیس اپنے کلف کی شکنوں کو رو رہا ہےحکیم اپنے مطب کے شیشوں کو دھو رہا ہےکسی کی آنکھوں کے دھندلے شیشوں میں اس کے ماضی کی جھلکیاں ہیںکسی کی آنکھوں میں آنے والے حسین لمحوں کی مستیاں ہیںکسی کی آنکھوں میں رت جگوں کی کچھ ارغوانی سی ڈوریاں ہیںکسی کے کاندھے پہ اس کے خوابوں کی بوریاں ہیںکباڑ خانے پہ باسی ٹکڑوں کی اور کتابوں کی بوریاں ہیںبزرگ برگد کے نیچے بوڑھا کھڑا ہوا ہےاور اس کے ہاتھوں میں ٹیپ لپٹی ہوئی چھڑی ہےپولیس کی گاڑی پکٹ لگا کرسڑک پہ ترچھی کھڑی ہوئی ہےاور ایک مزدور اپنا دامن اٹھائے بے بس کھڑا ہوا ہےاور اک سپاہی کہ اس کے نیفے میں انگلیوں کو گھما رہا ہےوہیں پہ شاہد سیاہ چشمہ لگا کے خود کو چھپا رہا ہےنیوز چینل کی چھوٹی گاڑی بڑی خبر کی تلاش میں ہےدو سبزی والے بھی اپنی پھیری لگا رہے ہیںتو پھول والے کے سر پہ پھولوں کی ٹوکری ہےکسی کی آنکھوں میں نوکری ہےکسی کی آنکھوں میں چھوکری ہےوقار سر کو جھکا رہا ہےفراز کھائی میں جا رہا ہےتو گیلی سگریٹ کے کش لگا کرنواب رکشا چلا رہا ہےسلیم کنی گھما رہا ہےوکیل وردی میں جا رہا ہےضمیر بغلیں بجا رہا ہےاور ایک واعظ بتا رہا ہےخدا کو ناراض کرنے والے جہنمی ہیںخدا کو راضی کرو خداراخدا کو راضی کرو خدارااور اس کے آگے نصیر اکمل کمال شاداب غلام سارےنظر جھکائے کھڑے ہوئے ہیںکہ چشم بینا اگر کہیں ہےتو سمجھو پاتال تک گڑھی ہےکسی کو اے سی خریدنا ہےکسی کو پی سی خریدنا ہےکسی کی بس اور کسی کی بی سی نکل رہی ہےعقیلہ خالہ کے دونوں ہاتھوں میں آٹھ تھیلے لٹک رہے ہیںاور آتے جاتے سبھی مسافرانہیں مسلسل کھٹک رہے ہیںضیا اندھیرے میں جا رہا ہےگلاب کچرا جلا رہا ہےعظیم مکھی اڑا رہا ہےکلیم گٹکا چبا رہا ہےتو گھنٹہ پیکج پہ جانے کب سےفہیم گپیں لڑا رہا ہےسبق مساوات کا سکھانےوزیر گاڑی میں جا رہا ہےثنا ندا کو نئے لطیفے سنا رہی ہےحنا ہتھیلی کو تکتے تکتے پرانے رستے سے آ رہی ہےاور اپنی بھاوج کا ہاتھ تھامےزبیدہ چیک اپ کو جا رہی ہےوہ اپنی نظریں کبھی ادھر کو کبھی ادھر کو گھما رہی ہےمگر کوئی شے اسے مسلسل بلا رہی رہی ہےعجیب عجلت عجیب وحشت عجیب غفلت کا ماجرا ہےکہوں میں کس سے مرے خدایا یہ کیسی خلقت کا ماجرا ہےکہ اپنی مستی میں مست ہو کریہ سب مسافر گزر رہےنئے مسافر ابھر رہے ہیںسڑک جہاں تھی وہیں کھڑی ہےمگر حقیقت بہت بڑی ہےسڑک پہ بلی مری پڑی ہے
دیش ہے اپنا مانتے ہو نادکھ جتنے ہیں جانتے ہو ناپیڑ ہے ایک پر ڈالیں بہت ہیںڈالوں پر ٹہنیاں بہت ہیںپتے ہیں روزانہ اگتےپیلے لیکن گرتے رہتےتم ہو مالی نظر کہاں ہےچمن کی سوچو دھیان کہاں ہے
رات کی کالی بارش نےچہروں کی وردیکیچڑ سے بھر دی ہےمیرے سینے کے پنجرے میںخون کا گردش کرنے والا لٹونفرت کے پودوں کے اوپرگھوم رہا ہےتم نے ایسے کانٹےمیری شریانوں میں بوئے ہیںایسی دوپہروں کی زردیمیرے گالوں پہ لیپی ہےکہ میں بستر کی شکنوں میںاپنی آنکھیں بو کر روتا ہوںپہلی بار جب غم کی پتلی قاش کوچہرے سے نوچا تھاجب غربت کے اوراقہوا میں اڑتے تھےجب خالی معدے کی تصویر بنا کراس میں چیزیں رکھتا تھاپھٹے ہوئے کپڑوں میں جبتصویر چھپا کر رکھتا تھامیری شہوتکنوار پنے کی دہلیزوں پراپنا خطبہ لکھتی تھیبیس برس ان گلیوں کی دیواروں سےٹکرا ٹکرا کرمیرے کندھے ریت کے پشتے بن کرڈھیتے جاتے ہیںمیں جو تیری رانوں کے جنگل میںکالے پھول کو توڑنے نکلا تھااب دیکھ رہا ہوںدل کی کوری مٹی میںتیرے جسم کی پتلی شاخیں اگی ہوئی تھیںاور اک آوارہ سناٹاچھتوں پر بھاری قدموں سےبڑی آہستگی کے ساتھ چلتا ہےتو وہ چپکے سے میرے پاس آتی ہےاور اپنے دھیمے لہجے میںوہ ساری داستانیں کہہ سناتی ہےجنہیں سن کر میں دھیمی آنچ پرپہروں سلگتا ہوںکسی گرجے کے ویراں لان میںجب جنوریاپنے سنہری گیسوؤں کو کھول کرکوئی پرانا گیت گاتی ہےتو وہ اک ان چھوئی نن کی طرحپتھر کے بینچوں پرمرے کاندھے پر سر رکھےمرے چہرے پہ اپنی انگلیوں میںکبھی جب شام روتی ہےسیہ کافی کے پیالوں سےلپکتی بھاپ میںپھر آندھی کی آمد سے ایسی گرد ہوئیایسا حبس مری سانسوں میں پھیلاتیرے جسم کی کشتی میںمیں اپنے کپڑے بھول آیاپر تم نے آدھی رات کو ایسی چٹکی لینیند کی ڈھولکگھٹنوں کی ضربوں سے چکناچور ہوئیاب منہ سے شیرہ بہتا ہےان زخموں کاجن کے ٹانکے اندر ہی اندر ٹوٹے ہیںبجلی کی تاروں کے اوپرکوے قطار میں بیٹھے ہیںبارش کے پانی میں جن کےعسکری بازو ہلتے ہیںرانوں کی یہ نیلی وریدیںجن میں دعا کا نقشی کوزہالٹ گیا ہےمیں نے ان گلیوں میںاپنے مرنے کی افواہ سنی ہےخوش الحان موذن کیآواز سے چڑیاں اڑتی ہیںاے رستوں کی رادھاتیرے وصل کی خاطرجسم کے نجی حصے دھو کرلوٹ کے پھر میں آیا ہوں
ہم پیڑوں کے عذاب سہیںیا دکھوں کے پھٹے کپڑے پہنیں
گھڑی کی ٹک ٹک بول رہی ہے رات کے شاید ایک بجے ہیںبٹلہ ہاؤس کی ایک گلی میں موٹے کتے بھونک رہے ہیںایک کھنڈر میں تیز روشنی چاروں جانب پھیل رہی ہےبغل میں لیٹا ساتھی میرا اب تک پب جی کھیل رہا ہےمیں بھی اب تک جاگ رہا ہوں آنکھیں موندے سوچ رہا ہوںنیچے جانا کیسا ہوگا باہر کتنی سردی ہوگیقطب ستارہ کدھر کو ہوگا رات کی رانی کیسی ہوگیصبح کا سورج کہاں پہ ہوگا ابھی خدا کیا کرتا ہوگاسڑک کنارے سونے والے جوڑے کیسے سوتے ہوں گےان کو مچھر کاٹتے ہوں گےنوم چومسکی لان میں بیٹھے بچے آخر کیسے ہوں گےان کو کتے چاٹتے ہوں گےکیا ان بھوک زدہ بچوں کے خواب میں پریاں آتی ہوں گیکٹے پھٹے ہاتھوں کے تکیے کے نیچے کچھ رکھتی ہوں گیکیسی باتیں کرتے ہو جی کیا پریوں کا کام یہی ہےمحل سرائے چھوڑ کے اب وہ سڑک کنارے آئیں گی کیارات کے شاید ڈیڑھ بجے ہیں بٹلہ ہاؤس کا چوک کھلا ہےرات کو جاب سے آنے والے رات میں جاب کو جانے والےایک ہاتھ میں لیے چائے کپ ایک ہاتھ میں چھوٹی سگریٹسڑک پار کیوں دیکھ رہے ہیںبریانی کو ڈھونڈھ رہے ہیںان کے پیچھے سڑک کنارے قبرستان کا گیٹ کھلا ہےاندر کتے گھوم رہے ہیں شاید کھانا ڈھونڈھ رہے ہیںباہر سگریٹ اور کافی ہے اندر کافی تاریکی ہےمیں بھی اندر جھانک رہا ہوں ہولے ہولے سوچ رہا ہوںقبرستان کے اندر میں یہ لیٹرین کس نے بنوایاکیوں بنوایاشاید مردے رات میں اٹھ کر اس کے اندر جاتے ہوں گےحاجت پوری کرتے ہوں گےیا پھر سگریٹ پینے والے لڑکے اندر جاتے ہوں گےخاکی وردی گھر والوں سے چھپ کر سگریٹ پیتے ہوں گےایک کنارے ادب کی ملکہ سب کچھ بیٹھی دیکھ رہی ہےآگ کا دریا چاندنی بیگم شیشے کا گھر لکھنے والیعینی آپا سوچ رہی ہےمیرا قاری کیوں آیا ہےشاید اس کو گوتم شنکر طلعت نے الجھایا ہوگایا پھر اس کو خیاباں کی چمپا نے پگلایا ہوگایا پھر اس پاگل لڑکے نے شعور کی رو کو چھیڑا ہوگایا پھر اس نے آگ کا دریا آدھا پڑھ کر چھوڑا ہوگافلسفیانہ باتیں سن کر سارے مردے سوچتے ہوں گےکوئی اپنی خواب گاہ کو چھوڑ کے آخر کیوں آیا ہےمیں بھی بیٹھا سوچ رہا ہوںاتنی رات کو کیوں آیا ہوں
ادھ پھٹے پوسٹروں کے پیراہنآہنی بلڈنگوں کے جسموں پرکتنے دل کش دکھائی دیتے ہیںبس کی بے حس نشستوں پر بیٹھیدن کے بازار سے خریدی ہوئیآرزو غم امید محرومینیند کی گولیاں گلاب کے پھولکیلے امردو سنترے چاولپینٹ گڑیا شمیز چوہے دانایک اک شے کا کر رہی ہے حسابعہد حاضر کی دل ربا مخلوق!
حاملہ بدلیوں نےاپنے کٹے پھٹے کناروں میںچاندی کی جھالریں لٹکا رکھی تھیںاور اپنی دلائیوں کے بخیوں میںرنگوں کی بچکاریاں چھپا رکھی تھیںافق سرخ تھاجیسے شہر کے شہدےڈرپوک دکان داروں پراپنی دھاک جمانےنئی کٹائیاں کمانے پر مقرر ہوںسوڈے کی بوتلوں سےایک دوسرے پر حملہ آور ہوںاور فٹ پاتھوں پرشیشوں کے ٹکڑوں سےاجنبی راہگیروں کےننگے پیروں سےصرف عناب دستیاب ہوزمین گلنار بنےبس اسی طرح کا رنگ آسمان میںکھلا ہوا ملارات کی فصیل کے قریبشام کا محاصرہ کیےپڑا ہوا تھا میں
جب چارلیؔ کے پیروں میںپھٹے ہوئے جوتے ہوا کرتے تھےایک عورت نے اس کی محبتمسترد کر دی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books