aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ruud-e-marg"
تو اے کاویری ہے رشک رود نیلتیری اک اک موج موج سلسبیل
گواہ عظمت ٹیپو ہے رود کاویرییہیں ہوا تھا نبرد آزما وہ خوش فرجام
ہائے وہ مست گھٹا ہائے وہ سلمیٰ کی اداآہ وہ رود چناب آہ وہ گجرات کی رات
موت سے کیوں ڈروں میں آج بھلاموت تو زندگی کی وسعت ہےجس ممات سے ڈرتے ہیں لوگوہ تو پا چکا تھا بہت پہلے میںمیرے ارمانوں کی موتمیرے جذبات کی موتاپنوں سے ملاقات کی موتان سارے محاکات کی موتکون روئے گا بھلا اس کمیں کی کھٹیا پرمر گیا تھا ان کے لئے ایک عہد ہی پہلےسب مجھے چھوڑ چلے چھوڑ چلے چھوڑ چلےاب کہیں سے خبر نہیں آتیاپنی یاسین خود ہی پڑھ لوں گا
اے حسن کوزہ گرتو نے جانا کہ میںجسم و جاں کے تعلق کی روشن گزر گاہ سےاک جہاں کا سفر جھیل کراس رفاقت کی دہلیز تک آئی ہوںاے حسن کاش تو جان سکتاکہ اس صحن خانہ سے دہلیز تک کے سفر میںجہاں زاد کو کیوں زمانے لگے ہیںحسناس سفر میں جہاں زاد کو ایک اک گام پروقت کے تازیانے لگے ہیںحسنوقت مالک بھی ہے دیوتا بھیمحافظ بھی ہے اور خواجہ سرا بھییہ دیکھا ہے میں نےکہ جب بھی دریچوں میں تازہ شگوفہ کھلا ہےہوا سے وہ ہنس کر ذرا سا گلے بھی ملا ہےتو خواجہ سرا کی نظر سے کہاں بچ سکا ہےمگر دیکھ مجھ کوکہ میں نے یہاں ٹھیک نو سال تکپھول کاڑھے ہیں خوابوں کے بستر پہ لیکنابھی تک کوئی ان پہ سویا نہیںپھول تازہ شگفتہ اور آزردہ ہیںمیں نے نو سال صورت گری کی ہے تیرے ہر اک لمس کیرات بھر میں نے آنکھیں بھگوئی ہیں کوزوں میں اور صبح دمحلق کو تر کیا آنسوؤں سے بہتیہ مسافتیہ نو سال کی بے محابا مسافتترے در کے آگے مجھے کھینچ لائیمگر تو یہاں چاک پر اپنی دھن میں مگن ہےنگاہیں اٹھادیکھ تو میں جہاں زاد تیری ترے سامنے ہوںمگر تو نے سچ ہی کہا تھازمانہ جہاں زاد وہ چاک ہےجس پہ مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں کی مانندبنتے بگڑتے ہیں انساںسو اب ہم جو صدیوں کی لمبی مسافت سے لوٹے ہیںتو اپنے رنجور کوزوں میں جوجھا ہوا ہےیہ تیرا قصور اور نہ میری خطا ہےکوئی کوزہ گر تو ہمارا بھی ہوگاسو یہ اس کی حکمتکہ اس نے ہمیں چاک پر ڈھالتے وقتلمحوں کا پھیر اس نزاکت سے رکھاکہ ہم اپنی اپنی جگہ صرف ششدر کھڑے تھےکئی دست چابک کے بے جان پتلےمرے اور ترے درمیاں سج گئے تھےسو یہ اس کی حکمتمگر وقت اس درجہ سفاک کیوں ہےیہ مشاطۂ زندگی اتنی چالاک کیوں ہےمرے اور ترے درمیاں نو برس جس نے لا کر بچھائےیہ نو سال کس طرح میں نے بتائےکہ ساحل سے کشتی تک آتے ہوئےجیسے تختے کے ہم راہ دل ڈگمگائےوہی نو برسجو مرے اور ترے درمیاں وقت کی کرچیاں ہیںزمانہ بھی کیسی عجب کہکشاں ہےیہ دنیائے سیارگاں ہے کہ جس میںہزاروں کواکبمسلسل کسی چاک پر گھومتے ہیںیہ اجسام کے گرد اجسام کا رقص ہی زندگی ہے مری جاںمری جان تو چاک کے ساتھ مٹی کے رشتے کو پہچانتا تھاحسن تو نے مٹی کے بے جان پتلوں سےتخلیق کے جاں گسل مرحلوں میںسدا گفتگوسو طرح گفتگو کیذہانت کے پتلے محبت کے خالقفقط یہ بتا دےکہ تیرے عناصر کے اجزائے ترکیبی میںواہمہ کیسے آیاحسن تو وہاں جھونپڑے میںاکیلا گلے مل کے رویا تھا کس سےلبیب اور تو اور میںاور حقیقت میں کوئی نہیں تھاترا واہمہمیرے لب میرے گیسو سے لپٹا رہا تھالبیب ایک سایاجسے تو نے روگ اپنی جاں کا بنایایہ سایا کہیں گر حقیقت بھی ہوتاتو آخر کو تو اس حقیقت سے کیوں بے خبر تھاکہ ہر جسم کے ساتھ اک آفتاب اور مہتاب لازمیہ تثلیث قائم ہے قائم رہے گیحسن میں ترے سامنے آئنہ تھیترے ہجر اور وصل کا آئنہانہماک و تعلق کی مٹی سے گوندھے ہوئے جسم کوتیری آنکھوں کی حدت نے چمکایا تھاتیری خلوت کی حیرت نے وہ رنگ و روغن کئے تھےکہ آئینے ششدر کھڑے رہ گئے تھےمگر تیری خلوت کی حیرت میں وحشت کا جو شائبہ تھانگاہوں سے میری کہاں چھپ سکا تھامرے اور ترے درمیاں وصل کی ہر گھڑی میںنہ جانے کہاں سےوہی سوختہ بخت تیریکہ جو جانفشانی کے شعلوں سے دہکے ہوئےزندگی کے ابد تاب تنور پرانگلیاں تیرے بچوں کی تھامے کھڑیبھوک سے برسر جنگ تھیجس کے نزدیک یہتیرے کوزے ترا فن تری آگ سبمیری آنکھیں مرے پھول اور خواب سبزندگی کے ابد تاب تنور کی راکھ تھےتیری اس سوختہ بخت کو کیا خبرجب زمیں اپنے محور کی تجدید میںحرف لا سے گزر جائے گیتو ہزاروں برس بعد بھییہ ازل کے گھروندوں کی مٹی میں مدفونپھول اور بوٹے یہ کوزےاور ان میں انہی قاف آنکھوں سے چھلکے ہوئےسرخ پانی کی تلچھٹکسی کوزہ گر کے جواں لمس سے جی اٹھے توجہاں زاد اس کے لیے پھر جنم لے گیاور نو برس رقص کرتے گزر جائیں گےتیری اس سوختہ بخت کو کیا خبروہ راتوہ حلب کی کارواں سرا کا حوضجس کو میں نے جسم و جاں کی خوشبوئیں کشید کر کےقطرہ قطرہ نو برس میں آنسوؤں سے پر کیاوہ ایک رات صرف ایک رات میںتمام خشک ہو گیاہم اپنے وصل کی تمازتوں میں ایسے جل بجھےکہ راکھ تک نہیں بچییہ ایک جاں کی تشنگیمجھے تجھے بیک زماںبھلا کہاں کہاں نہ کھینچتی پھریمگر یہ تو نے کیا کہاکہ تیرے جیسی عورتیں جہان زادایسی الجھنیں ہیں جن کو آج تک کوئی نہیں سلجھا سکاکہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پرجواب جن کا ہم نہیںتو پھر یہ جام و مینا و سبو و حوض و رود نیلاس زمیں کی گود میںازل کے حرف گیر تابناک خواب کے لیےکہیں بھی کچھ رقم نہیںاے حسنچاک پر سے ذرا اپنی نظریں ہٹاتو مرے نو برس تک بنائے گئے پھول تو دیکھ لےپھول تازہ شگفتہ اور آزردہ ہیںیوں نہ ہو کہ انہیںبھوک اور مفلسی کے ستائے ہوئےمیرے بچے بھی نیلام کر آئیں جا کر کہیںتیرے کوزوں کے مانند بغداد میںاے حسندامن وقت پر جتنے پھول اور بوٹے سجے ہیںجہاں زاد کی زخمی پوروں نےرنگ ان میں اپنے جنوں کے بھرے ہیںیہ تاوان ہیں چمپئی انگلیوں کاترے جام و مینا پہجس خال و خد کی نزاکت کی پرچھائیاں تھیںتجھے کیا خبر یہ کن آنکھوں کی بینائیاں تھیںحسن یہ محبتکہ جس کو تری سوختہ بخت گردانتی ہےامیروں کی بازیتو میرے تئیں یہ امیروں کی بازی کہاںصرف بازی گری تھیمحبت ہمیشہ سے مفلس کا سرمایۂ جاں رہی ہےیہی تو وہ پونجی ہےجس تک امیروں کے ہاتھ اب بھی پہنچے نہیں ہیںتجھے یہ گماں تھاکہ عورت محبت کی بازی میں بے جان پتے کی صورتکسی دست چابک کی مرہون منتوہ اس کھیل میں ایک مہرے کی صورتکہ جب جس نے چاہااسے ایک گھر سے اٹھا کرکسی دوسرے گھر کا مالک بنایاکہ عورت فقط ایک پتھر کی مورتیہ تصویر حیرتیوںہی چپ کھڑی ہےیوںہی چپ رہے گیمگر یوں نہیں ہےحسن تو نے دیکھاکہ میں قید اوہام و بند روایات میںبوڑھے عطار یوسف کی دکان پراپنی آنکھیں تجھے نذر کرتی رہیبوڑھا عطار وہ کیمیا گرکہ جس نے زمانوں کے جنگل سےچہروں کے پھول اور بوٹے چنےوہ مجھے اور تجھے جانتا تھا مگرمیں نے بازار میںتجھ سے آنکھوں کا اور دل کا سودا کیااے حسنمیرے ایک اک دریچے پہکہنہ روایات و ظالم عقائد کا جنگل اگا تھاحسنکاش تو میری آنکھوں سے میرے دریچے کو تکتاتو یہ جان سکتاجہاں تو کھڑا تھا وہاں ایک اک درز سےمیری آنکھیں مرا جسمچھن چھن کےکٹ کٹ کے گرتا رہا تھا
میری یادوں میں سے ایک یاد مجھےتا دم مرگ نہیں بھولے گیمیری اس یاد کا روزن دریچہ ہے جس میں سے مجھےکتنے گزرے ہوئے پل صاف نظر آتے ہیں
مری نگاہ کی خنک اداسیاں ہیں ہر طرفمرے خیال کی لکیر ہے وہ رود نورکوہ برف پوش پرمری دعائے نیم شب وہ ابر کوہسار ہے
کلفت زیست سے انسان پریشاں ہی سہیزیست آشوب غم مرگ کا طوفاں ہی سہیمل ہی جاتا ہے سفینوں کو کنارا آخرزندگی ڈھونڈ ہی لیتی ہے سہارا آخراک نہ اک روز شب غم کی سحر بھی ہوگیزندگی ہے تو مسرت سے بسر بھی ہوگیزندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست!
انہیں مختار بن کر بیکسی کے خون کی موجیںحصار مرگ نے محصور کر لیں جنگ جو فوجیں
تجھے معلوم نہیں،اب بھی ہر صبح دریچے میں سے یوں جھانکتا ہوںجیسے ٹوٹے ہوئے تختے سے کوئی تیرہ نصیبسخت طوفان میں حسرت سے افق کو دیکھے:کاش ابھر آئے کہیں سے وہ سفینہ جو مجھےاس غم مرگ تہہ آب سے آزاد کرے
سخت حیرت ہے لوگ اس پر بھیماتم مرگ کر رہے ہیں مگرماتم زندگی نہیں کرتے
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اچھا یا برا کچھ بھی نہیں ہےتقریب ولادت ہو یا ہنگام دم مرگاک لمحے کو تصویر میں ڈھلنا ہے وہ ڈھل جاتا ہے آخروہ نغمہ ہو یا گریہ یا انداز تکلمسب عکس ہیں اسرار فسوں کار کے شایدیکساں ہیں مکافات کی یورش میں سبھی رنگسرگوشیاں کرتے ہیں گزر جاتے ہیں آنکھوں کے جہاں سےپیمانۂ جاں سے
پس مرگ خاک ہوئے بدن وہ کفن میں ہوں کہ ہوں بے کفننہ مری لحد کوئی اور ہے نہ تری چتا کوئی اور ہے
سکون مرگ نہ آ تو ابھی خدا کے لئےکہ دل میں تاب غم روزگار باقی ہے
میں اجنبی وہ اجنبیاسیر آرزو بھی مگر سیاہ کا دل دل بے خبروہ دائرہ رواں ہے جس کے ہر سفر کی انتہامقام مرگ تازگی مقام مرگ نغمگیہوا نمی سفید دھوپ زرد پھول دیکھتے ہی دیکھتے گزر گئےہماری آرزو کے بیچ موسموں پہ چھا گئے
وہ شام کے وقت خوں میں لت پتسڑک کے کنارے پڑا ہوا تھاگزرنے والوں سے کہہ رہا تھاہمیں ہمارے محافظوں سےنجات کا راستہ بتاؤوہ خواہش اقتدار و دولت میںہم کو نیلام کر رہے ہیںاخوت و اتحاد کا درد دینے والےخود اپنے بچوں کے خوں سےحرص و ہوس کی شمعیں جلا رہے ہیںہماری اقدارآج متروک فیشنوں کے لباس کی طرحان کی نظروں سے گر چکی ہیںاب ان کی اولاد ان کی ریشہ دوانیوں سے پناہتازہ بتازہ نشوں میں ڈھونڈتی ہےانہی کی شہ پا کے نسل نواپنی پیاس اک دوسرے کے خوں سے بجھا رہی ہےیہ سنگ دل جشن مرگ انبوہ بے گناہاں منا رہے ہیںکوئی ہمیں ان نجیب صورتحریص بے مہر کرگوں سےنجات کا راستہ بتاؤ
مرا دل گرو مری جاں گروچلا آ کہ ہے مرا در کھلاتو مرا نصیب ہے راہرویہ ہوا یہ برق یہ رعد و ابر یہ تیرگیرہ انتظار کی نارسیمرے جان و دل پہ ہیں لو بتومرے میہماں مرے راہرواے گریز پا تو سراب دشت خلا نہ بنوہ نوا نہ بن جو فریب راہ گزار ہووہ فسون ارض و سما نہ بنجسے دل گرفتوں سے عار ہوجو تجھے بلاتی ہے پے بہ پےوہ صدا جلاجل جاں کی ہےوہ صدا مرور زماں کی ہےکسے اس صدا سے فرار ہومرا دل گرو مری جاں گروتری کن مکن تری رو مرومجھے بار جاںکہ میں حرف جس کا بیاں ہے تومیں وہ جسم جس کی رواں ہے توتو کلام ہے میں تری زباںتو وہ شمع ہے کہ میں جس کی لوکسی نقش کار کا اک نفسکئی صورتیں جو سدا سے تشنۂ رنگ تھیںہوئیں وصل معنی سے بارورکسی بت تراش کی اک نگہکئی سنگ اذیت یاس و مرگسے بچ گئےہوئے سمت راہ سے با خبرچلا آ کہ میری ندا میں بھیوہی رویت ازلی کہ ہےجسے یاد غایت رنگ و بوجسے یاد راز مے و سبوجسے یاد وعدۂ تار و پوچلا آ کہ میری ندا میں بھیاسی کشف ذات کی آرزو
اس کے دم سے ہم پہ واضح عقدۂ مرگ و حیاتاس کے دم سے ہم پہ روشن ہے جہان کائنات
اب کچھ نہیں تو نیند سے آنکھیں جلائیں ہمآؤ کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم!
عبادت کا طریقہ حرکتیں ہیں تشنہ و مبہمکبھی روح صنم بیدار خواب مرگ مہمل سےکسی اندر سبھا کی لاکھ پریاں آ کے بہلائیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books