aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "savere"
نہ آرام شب کو نہ راحت سویرےغلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرےجو بگڑیں تو اک دوسرے کو لڑا دوذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دویہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والےیہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والےمظلوم مخلوق گر سر اٹھائےتو انسان سب سرکشی بھول جائےیہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیںیہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیںکوئی ان کو احساس ذلت دلا دےکوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے
اکثر ایسا ہواشہر در شہراور بستی بستیکسی بھی دریچے میںکوئی چراغ محبت نہ تھابے رخی سے بھریساری گلیوں میںسارے مکانوں کےدروازے یوں بند تھےجیسے اک سردخاموش لہجے میںوہ کہہ رہے ہوںمروت کا اور مہربانی کا مسکنکہیں اور ہوگایہاں تو نہیں ہےیہی ایک منظر سمیٹے تھےشہروں کے پتھریلے سب راستےجانے کس واسطےآرزو کے مسافر بھٹکتے رہے
جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیاہل ہوس نے جب تک اپنے دام بکھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیمغرب کے چہرے پر یارو اپنے خون کی لالی ہےلیکن اب اس کے سورج کی ناؤ ڈوبنے والی ہےمشرق کی تقدیر میں جب تک غم کے اندھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیظلم کہیں بھی ہو ہم اس کا سر خم کرتے جائیں گےمحلوں میں اب اپنے لہو کے دئے نہ جلنے پائیں گےکٹیاؤں سے جب تک صبحوں نے منہ پھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گیجان لیا اے اہل کرم تم ٹولی ہو عیاروں کیدست نگر کیوں بن کے رہے یہ بستی ہے خودداروں کیڈوبے ہوئے دکھ درد میں جب تک سانجھ سویرے ہیںاپنی جنگ رہے گی
مرا کمرے سے بس نیندوں کا رشتہ تھااور اس زینے سے خوابوں کاجو لہراتا ہوا جاتا تھا چھت تکوہ چھتجہاں سے آسماں نزدیک تھاجہاں آرام فرماتی تھیں آنکھیںوو آنکھیں جن میں سپنے تھےوہ سپنے جن میں دنیا تھیوہ دنیا جس میں سب کچھ تھاوہی چھتجہاں پر ایک چڑیا کی سریلی چہچہاہٹ تھیپتنگوں کی سجاوٹ تھیفلک کی جھلملاہٹ تھیمگر افسوسوہ چڑیا جو سویرے گھر میں سب سے پہلے اٹھتی تھیکسے معلوم تھا اک دن وہ زیر دام آئے گیپتنگ کاغذی جو آسماں چھونے ہی والی تھیکسے معلوم تھا وہ لوٹ کر ناکام آئے گیفلک جس پر تمناؤں کے کتنے چاند روشن تھےکسے معلوم تھا اس پر اماوس کی بھی کوئی شام آئے گیوہ چھت جو گھر کا سب سے پر سکوں اور پیارا حصہ تھیکسے معلوم تھا وہ خودکشی کے کام آئے گی
رب کا شکر ادا کر بھائیجس نے ہماری گائے بنائیاس مالک کو کیوں نہ پکاریںجس نے پلائیں دودھ کی دھاریںخاک کو اس نے سبزہ بنایاسبزے کو پھر گائے نے کھایاکل جو گھاس چری تھی بن میںدودھ بنی اب گائے کے تھن میںسبحان اللہ دودھ ہے کیساتازہ گرم سفید اور میٹھادودھ میں بھیگی روٹی میریاس کے کرم نے بخشی سیریدودھ دہی اور میٹھا مسکادے نہ خدا تو کس کے بس کاگائے کو دی کیا اچھی صورتخوبی کی ہے گویا مورتدانہ دنکا بھوسی چوکرکھا لیتی ہے سب خوش ہو کرکھا کر تنکے اور ٹھیٹھرےدودھ ہے دیتی شام سویرےکیا ہی غریب اور کیسی پیاریصبح ہوئی جنگل کو سدھاریسبزے سے میدان ہرا ہےجھیل میں پانی صاف بھرا ہےپانی موجیں مار رہا ہےچرواہا چمکار رہا ہےپانی پی کر چارا چر کرشام کو آئی اپنے گھر پردوری میں جو دن ہے کاٹابچے کو کس پیار سے چاٹاگائے ہمارے حق میں ہے نعمتدودھ ہے دیتی کھا کے بنسپتبچھڑے اس کے بیل بنائےجو کھیتی کے کام میں آئےرب کی حمد و ثنا کر بھائیجس نے ایسی گائے بنائی
گیا دن ہوئی شام آئی ہے راتخدا نے عجب شے بنائی ہے راتنہ ہو رات تو دن کی پہچان کیااٹھائے مزہ دن کا انسان کیاہوئی رات خلقت چھٹی کام سےخموشی سی چھائی سر شام سےلگے ہونے اب ہاٹ بازار بندزمانے کے سب کار بہوار بندمسافر نے دن بھر کیا ہے سفرسر شام منزل پہ کھولی کمردرختوں کے پتے بھی چپ ہو گئےہوا تھم گئی پیڑ بھی سو گئےاندھیرا اجالے پہ غالب ہواہر اک شخص راحت کا طالب ہواہوئے روشن آبادیوں میں چراغہوا سب کو محنت سے حاصل فراغکسان اب چلا کھیت کو چھوڑ کرکہ گھر میں کرے چین سے شب بسرغریب آدمی جو کہ مزدور ہیںمشقت سے جن کے بدن چور ہیںوہ دن بھر کی محنت کے مارے ہوئےوہ ماندے تھکے اور ہارے ہوئےنہایت خوشی سے گئے اپنے گھرہوئے بال بچے بھی خوش دیکھ کرگئے بھول سب کام دھندھے کا غمسویرے کو اٹھیں گے اب تازہ دمکہاں چین یہ بادشہ کو نصیبکہ جس بے غمی سے ہیں سوتے غریب
میرے دونوں بھائی اب بھیمسجد میں پڑھنے جاتے ہیںاحکام خداوندی سارےپڑھتے ہیں اور دہراتے ہیںآپا مرے حصے کی روٹیچنگیر میں ڈھک کر رکھتی ہےاور صبح سویرے اٹھ کر وہروٹی چڑیوں کو دیتی ہے
آج سویرے سےبستی میںقتل و خوں کاچاقو زنی کاکوئی قصہ نہیں ہوا ہےخیرابھی تو شام ہےپوری رات پڑی ہے
آوارہ آوارہ پھرنا چھوڑ کے منڈلی یاروں کیدیکھ رہے ہیں دیکھنے والے انشاؔ کا اب حال وہیکیا اچھا خوش باش جواں تھا جانے کیوں بیمار ہوااٹھتے بیٹھتے میر کی بیتیں پڑھنا اس کا شعار ہواطور طریقہ اکھڑا اکھڑا چہرا پیلا سخت ملولراہ میں جیسے خاک پہ کوئی مسلا مسلا باغ کا پھولشام سویرے بال بکھیرے بیٹھا بیٹھا روتا ہےناقوں والو! ان لوگوں کا عالم کیسا ہوتا ہے
مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناجنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیںاور ایسے مطمئن ہیں جیسے ان کونہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ کوئی دیکھ سکتا ہےمگر یہ وقت کی جاسوس نظریںجو پیچھا کرتی ہیں سب کا ضمیروں کے اندھیرے تکاندھیرا نور پر رہتا ہے غالب بس سویرے تکسویرا ہونے والا ہے(۲)مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناکچھ اندھے سورما جو تیر اندھیرے میں چلاتے ہیںصدا دشمن کا سینہ تاکتے خود زخم کھاتے ہیںلگا کر جو وطن کو داؤ پر کرسی بچاتے ہیںبھنا کر کھوٹے سکے دھرم کے جو پن کماتے ہیںجتا دو ان کو ایسے ٹھگ کبھی پکڑے بھی جاتے ہیں(۳)مرے بیٹے انہیں تھوڑی سی خودداری بھی دے دیناجو حاکم قرض لے کے اس کو اپنی جیت کہتے ہیںجہاں رکھتے ہیں سونا رہن خود بھی رہن رہتے ہیںاور اس کو بھی وہ اپنی جیت کہتے ہیںشریک جرم ہیں یہ سن کے جو خاموش رہتے ہیںقصور اپنا یہ کیا کم ہے کہ ہم سب ان کو سہتے ہیں(۴)مرے بیٹے مرے بعد ان کو میرا دل بھی دے دیناکہ جو شر رکھتے ہیں سینے میں اپنے دل نہیں رکھتےہے ان کی آستیں میں وہ بھی جو قاتل نہیں رکھتےجو چلتے ہیں انہیں رستوں پہ جو منزل نہیں رکھتےیہ مجنوں اپنی نظروں میں کوئی محمل نہیں رکھتےیہ اپنے پاس کچھ بھی فخر کے قابل نہیں رکھتےترس کھا کر جنہیں جنتا نے کرسی پر بٹھایا ہےوہ خود سے تو نہ اٹھیں گے انہیں تم ہی اٹھا دیناگھٹائی ہے جنہوں نے اتنی قیمت اپنے سکے کییہ ذمہ ہے تمہارا ان کی قیمت تم گھٹا دیناجو وہ پھیلائیں دامن یہ وصیت یاد کر لیناانہیں ہر چیز دے دینا پر ان کو ووٹ مت دینا
سویرے سویرے جگاتی ہیں امیمرے ہاتھ منہ پھر دھلاتی ہیں امی
آسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیںبے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیںمنظروں کے آئینے اپنے اپنے چہروں کو خود ہی دیکھ سکتے ہیںخود ہی جان سکتے ہیں اپنی بے نوائی کووسعتوں کی چادر پر سلوٹیں بہت سی ہیںاس خموش دنیا میں آہٹیں بہت سی ہیںآتی جاتی لہروں کا ازدحام رہتا ہےوقت ایک خنجر ہےبے نیام رہتا ہےیہ عجیب دنیا ہے جس میں کچھ نہیں ملتاپھر بھی ایک لمحے میں بے شمار تاریخیںیوں بدلتی رہتی ہیںجیسے خشک پتوں کا ڈھیر اڑتا پھرتا ہےبے کنار سمتوں میںبے شمار سمتوں میں بے شمار آنکھیں ہیںکچھ نہیں ہے تکنے کو اور ہزار آنکھیں ہیںراستوں کے دھاگے سے ہر طرف لٹکتے ہیںخاک کے جزیرے سےہر طرف بھٹکتے ہیںپھر بھی آسمانوں پر رات کے اندھیرے میںصبح کے سویرے ہیںیہ عجب معمہ ہےجس طرف بھی ہم دیکھیںٹوٹتے ہوئے لمحے بھاگتے ہوئے رستے جاگتے ہوئے منظرآئنوں کے اندر بھی آئنوں کے باہر بھیایک شور برپا ہےجس کو ہم نہیں سنتےاور وہ ہم سے کہتا ہےتم بھی میرے جیسے ہومیں بھی مٹنے والا ہوں تم بھی مٹنے والے ہوآسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیںبے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیںمنظروں کے آئینےرنگ رنگ آئینے کے جواب منظر ہیںمنظروں کے اندر بھی صد ہزار منظر ہیںوہ بھی مٹنے والے ہیںہم بھی مٹنے والے ہیں
۔۔۔۔اور چادر پر شب باشی کا زندہ لہو تھااس نے اٹھ کے انگڑائی لیآئینے میں چہرہ دیکھاسرشاری میں اطمینان کی ٹھنڈی سانس لیاس کی تھکی ہوئی آنکھوں میںدیوانی مغرور چمک تھیفتح کے نشے سے پلکیں بوجھل تھیںاس نے سوچا ہائیڈ پارک میںجو لڑکی اک جاسوسی ناول میں ڈوبیاسے ملی تھیوہ تو جیسے فاختہ نکلیاس نے اپنی سیکس اپیل کا کمپا مار کےرام کیا تھااس کی لچھے دار انوکھی باتیں سن کراس کے ساتھ چلی آئی تھیصبح سویرےچائے بنا کربوسہ دے کرچلی گئی تھیوہ تو سچ مچ باکرہ نکلی(ورنہ سولہ سترہ برس کی لڑکی حرافہ ہوتی ہے)اس نے سوچااس نے شب بھربند کلی پراک زنبوری رقص کیا تھااور چادر پر اتنا لہو تھاجیسے جنگ عظیماسی بستر پر لڑی گئی تھیاس نے اپنی مونچھوں کے گچھے میںاپنی ہنسی دبائیایک خیال سےآنکھوں میں سایہ لہرایاسر چکرایا۔۔۔۔یہ تو اس کی مہواری کا مردہ لہو تھاجو چادر پر پھیل گیا تھا
گئے لیٹنے رات ڈھلتے ہوئےاٹھے صبح کو آنکھ ملتے ہوئےنہا دھو کے کپڑے بدلتے ہوئےاٹھائی کتاب اور چلتے ہوئےسویرے کا جب تک کہ اسکول ہےیہی اپنا ہر روز معمول ہےکھڑے ہیں سڑک پر کہ اب آئی بسگزرتا ہے اک اک منٹ اک برسبس آئی تو رش اس قدر پیش و پسکہ اللہ بس اور باقی ہوسبڑھے ہم بھی چڑھنے کو جب سب کے ساتھتو ہینڈل پہ تھا پاؤں پیڈل پہ ہاتھپسنجر کی وہ بھیڑ وہ بس کا گیٹگزرتے ہیں مچھر جہاں پر سمیٹکوئی ہو گیا چوٹ کھا کر فلیٹکسی کی ہے کہنی کسی کا ہے پیٹکھڑے ہوں کہاں پاؤں رکھیں کدھراندھیرا ادھر ہے اندھیرا ادھرمگر حکم چیکر کا ہے آئیےکھڑے کیوں ہیں آگے بڑھے جائیےجہاں میں جہاں تک جگہ پائیےکھسکتے کھسکتے چلے جائیےستاروں سے آگے جہاں اور ہیںزمیں اور ہیں آسماں اور ہیں
جگت ماں تھی وہسو چھوٹا بڑا ہر کوئی اس کو مائے ہی کہہ کر بلاتا تھاسویرے ہی سویرے مائے کے ہاتھوں کےان مولی بھرے خستہ پراٹھوں کے بناکب سردیوں کا لطف آتا تھا
کسے خبر تھیایک مسافر مستقبل زنجیر کرے گا اور سفر کے سب آداب بدل جائیں گےکسے یقیں تھاوقت کی رو جس دن مٹھی میں بند ہو گئی ساری آنکھیں سارے خواب بدل جائیں گےہمیں خبر تھیہمیں یقیں تھاتبھی تو ہم نے توڑ دیا تھا رشتۂ شہرت عامتبھی تو ہم نے چھوڑ دیا تھا شہر نمود و ناملیکن اب مرے اندر کا کمزور آدمی شام سویرے مجھے ڈرانے آ جاتا ہےنئے سفر میں کیا کھویا ہے کیا پایا ہے سب سمجھانے آ جاتا ہے
آگے پیچھے دائیں بائیںکائیں کائیں کائیں کائیںصبح سویرے نور کے تڑکےمنہ دھو دھا کر ننھے لڑکےبیٹھتے ہیں جب کھانا کھانےکوے لگتے ہیں منڈلانےتوبہ توبہ ڈھیٹ ہیں کتنےکوے ہیں یا کالے فتنےلاکھ ہنکاؤ لاکھ اڑاؤمنہ سے چیخو ہاتھ ہلاؤگھورو گھڑکو یا دھتکاروکوئی چیز اٹھا کر ماروکوے باز نہیں آتے ہیںجاتے ہیں پھر آ جاتے ہیںہر دم ہے کھانے کی عادتشور مچانے کی ہے عادتبچوں سے بالکل نہیں ڈرتاان کی کچھ پروا نہیں کرتادیکھا ننھا بھولا بھالاچھین لیا ہاتھوں سے نوالاکوئی اشارہ ہو یا آہٹتاڑ کے اڑ جاتا ہے جھٹ پٹاب کرنے دو کائیں کائیںہم کیوں اپنی جان کھپائیں
اکثرلکھتے ہوئے آتا ہےدل میں یہ سوالکیا لکھوںاوس اجلے سویرے کوجو لاتا ہے اپنے ساتھ ڈھیروں امیدیںیا لکھوںرات کے اس اندھیرے کوجو دے جاتا ہے آنکھوں میں ہزاروں سپنےکیا لکھوںان مہکتی ہواؤں کوجو ہر پل احساس دلاتی ہیںکہ زندہ ہو تمیا لکھوںان ان گنت دعاؤں کوجن میں ہوں میں صرف میںکیوں نہ لکھوںاس حسین چاند کوجو سکھاتا ہے مجھےسر اٹھا کر آسماں کی اور دیکھنایا لکھ دوںان اجلے ستاروں کوجو سکھاتے ہیںکھد کو سمیٹ کر چمکتے رہنااور اگر بکھرو بھیتو ٹوٹ کر دعا بن جانا
صبح سویرےوہ بستر سے سائے جیسی اٹھتی ہےپھر چولھے میں رات کی ٹھنڈی آگ کوروشن کرتی ہےاتنے میں دن چڑھ جاتا ہےجلدی جلدی چائے بنا کر شوہر کو رخصت کرتی ہےسیارے گردش کرتے ہیںشہر میں صحرا صحراؤں میں چٹیل میداںکہساروں کے نشیب و فراز بنا کرتے ہیںسارے گھر کو دھوتی ہےکپڑے تولیے ٹوتھ برش بستر کی چادرکوئی کتاب اٹھاتی ہے رکھ دیتی ہےریڈیو آن کیا پھر روکا آن کیاپھر کوئی پرانا خط پڑھتی ہے(گھنٹی بجی)''مریم! آ جاؤ''''تم کیسی؟ ہو وہ کیسے ہیں''''کیا اس کا کوئی خط آیا؟''(تھوڑی خاموشی کا وقفہ)''تم کیسی ہو''''تم سے مطلب؟ سچ کہہ دوں تو کیا کر لو گی''دیکھو سب کی سب بیٹھی ہوں''اچھا''''اچھا''(دروازہ پھر بند ہو گیا)''اب کیا کرنا!گھر تو بالکل صاف پڑا ہےکوئی شکن بستر پہ نہیں ہےدیوار و در دھلے دھلائےکوئی دھبہ یا مکڑی کا جالا تنکاکہیں کچھ نہیںکیا کرنا ہے!اف! وہ کلنڈرکتنے برس ہو گئے پھر بھیآئیں تو ان سے کہتی ہوںبالکل نیا کلنڈر لائیںکچھ بھوک نہیںاب کیا کرنا ہےلیٹ رہوں؟ لیکن کیا لیٹوںجانے کتنا لیٹ چکی ہوںکھڑی رہوںہاں کھڑی رہوںپر میں تو کب سے کھڑی ہوئی ہوںکھڑکی کا پردہ ہی کھولوںدھوپ کہاں تک آ پہنچی ہےلاؤ اپنا البم دیکھوںنیر شبنم شفق صبوحی اختر جوہیکیسے ہوں گےآں! یہ میں ہوںاتی پیاری پیاری تھی میںمیں بالکل ہی بھول گئی تھیسب کتنا اچھا لگتا تھاابا، اماں، بھیا، اپیسب زندہ تھےسایہ نانی گلشن آپاہاں اور وہ گوریا باباآنسو نغمے شور ٹھہاکے سارے اک سر میں ہوتے تھےساری دنیا گھر لگتی تھیاماں ادھر بلایا کرتیںابا ادھر پکارا کرتےبھیا ڈانٹتےاپی ڈھیروں پیار جتاتیںکھانا، پینا، سونا، جاگنا، ہنسنا، روٹھنا، منناڈور بندھی تھیایک میں ایک پرویا ہوا تھاکل نمو کے گھر شادی ہےپاس ہی کوئی موت ہوئی ہےکالج کی چھٹی کب ہوگیعید پھر اب کی تیس کی ہوگیہم بھی لیل قدر جاگیں گےشہلا کی منگنی کیوں ٹوٹی؟کیا اقبال کوئی شاعر تھا؟چپ بڑکے ابا سن لیں گےسائے دوڑ رہے ہیں گھر میںہر گوشے میں اوپر نیچے اندر باہر دوڑ رہے ہیںلمبے چھوٹے سبز و زرد ہزاروں سائےباہر شہر میں کوئی نہیں ہےدھوپ سیہ پڑتی جاتی ہےقد آدم آئینے میںاس کا ننگا جسم کھڑا ہےجسم کے اندر سورج کا غنچہ مہکا ہےسیارے گردش کرتے ہیںسب انجانے سیاروں میں بھولے بسرے گھر روشن ہیںکس لمحے کا ہے یہ تماشہہست و بود کے سناٹے میںلا موجود کی تاریکی میںصرف یہی آئینہ روشنصرف اک عکس گزشتہ روشنبچھڑے گھر کا سایہ روشن
آج سرحد پہ خاموش توپوں کے ہونٹوں پہپپڑی کی تہ بھی چٹخ کر گری ہےہر اک روز صبح سویرے سے تاریکیوں کی تہوں تکاکیلا ہی چلتا ہے سورجاداسی سے ہر آنکھ کو اپنی جانب توجہ کی خاطربلاتا ہے لیکننگاہیں ملانے کا ہر حوصلہہر بدن میںفقط سسکیوں کی طرح جاگتا ہےاب فقط آبرو کا دھواں کہر بن کے رکا ہےبس اب بلبلوں کے ترنم میں بھینوحۂ زندگی کے ستم خیز طوفان ہیںاب فقط میرے اپنے چہیتوں کی لاشوں کے انبار ہیںاب تو خر بھی یہاں ہنہناتے نہیںجنگ بندی نہیں سرحدیں بھی نہیںاے مری مجھ سے روٹھی ہوئیمیرے پدما کی اے زندہ تر سر زمیںمیری آنکھوں ترے آسمانوںتری اور مری سرحدوں کے وہ سب فاصلےجو مگر قربتوں کے سوا کچھ نہ تھےآج کیوں آنکھ میں اشک بن کے رکے ہیںبھلا کیوں مجھےتیری قربت کے سایوں کو دھندلاھٹوں میں بدلتے ہوئےدیکھنے کے لئے زندہ رہنا پڑا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books