aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sehat"
واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کاتنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کیخیریت جاں راحت تن صحت داماںسب بھول گئیں مصلحتیں اہل ہوس کی
ہشیار اس لئے ہوں کہ مے خوار ہوں تراصیاد شعر ہوں کہ گرفتار ہوں ترالہجہ ملیح ہے کہ نمک خوار ہوں تراصحت زبان میں ہے کہ بیمار ہوں تراتیرے کرم سے شعر و ادب کا امام ہوںشاہوں پہ خندہ زن ہوں کہ تیرا غلام ہوں
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیےزمیں جس پہ میرے قدم ٹک سکیںاور تاروں بھرا کچھ فلک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیےنعمتیں جو میرے رب نے دھرتی کو دیںصاف پانی ہوا بارشیں چاندنییہ تو ہر ابن آدم کی جاگیر ہیںیہ ہماری تمہاری کسی کی نہیںمجھ کو تعلیم صحت اور امید کیسات رنگوں بھری اک دھنک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیےنہ ہوا صاف ہے نہ فضا صاف ہےوہ جو آب بقا تھا وہ ناصاف ہےزمیں ہو سمندر ہو یا آسماںاک ذرا سوچیے اب کہ کیا صاف ہےموت سے پر خطر ہے یہ آلودگیدوستو دل میں تھوڑی کسک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
مزاج شخص جہاں تھا ترے مرض سے سستہوا سو فضل الٰہی سے تندرست و چستخبر جو گرم ہے اب تیرے غسل صحت کیدل شکستہ جہاں تھا وہ خودبخود ہے درسترہے جہاں میں بہت توکہ تاجہاں بھی رہےسلامت ہمہ آفاق در سلامت تست
شفق نزع میں لے رہی تھی سنبھالااندھیرے کا غم کھا رہا تھا اجالاستاروں کے رخ سے نقاب اٹھ رہی تھیفضاؤں سے موج شباب اٹھ رہی تھیمئے زندگی جام مے نوش میں تھیوہ کیف مسرت، وہ لمحات رنگیںوہ احساس مستی وہ جذبات رنگیںوہ پر کیف عالم وہ دل کش نظارےوہ جلووں کے بہتے ہوئے خشک دھارےوہ نمکین آغاز شب اللہ اللہنمائش کی وہ تاب و تب اللہ اللہوہ باب مزمل پہ جشن چراغاںفلک پر ہوں جیسے ستارے درخشاںفضاؤں میں گونجے ہوئے وہ ترانےوہ جاں بخش نغمے وہ پر لطف گانےوہ ہر سمت حسن و لطافت کی جانیںوہ آراستہ صاف ستھری دکانیںکہیں پر ہے نظارہ کاری گری کاکہیں گرم ہوٹل ہے پیشاوری کابہ قدر سکوں وہ دلوں کا بہلناامیروں غریبوں کا یکجا ٹہلنانمایاں نمایاں وہ یاران کالجوہ عشرت بہ داماں جوانان کالجکوئی تیز دستی و چستی پہ نازاںکوئی صحت و تندرستی پہ نازاںکوئی حسن کی جلوہ ریزی پہ مائلکوئی شوخ نظروں کی تیزی پہ مائلادھر چشم حیراں کی نظارہ سازیادھر حسن والو کی جلوہ طرازیخراماں خراماں وہ ہمجولیوں میںنکلتی ہوئی مختلف ٹولیوں میںنقابوں میں وہ بے نقابی کا عالمجو لاتا ہے دل پر خرابی کا عالمکسی کا وہ چہرے سے آنچل اٹھاناکسی کا کسی سے نگاہیں چراناکبھی یک بیک چلتے چلتے ٹھہرنانگاہوں سے جلووں کی اصلاح کرناکبھی اک توجہ دکانوں کی جانبکبھی اک نظر نوجوانوں کی جانبتماشا غرض کامیاب آ رہا تھانمائش پہ گویا شباب آ رہا تھاادھر ہم بھی بزم تخیل سجا کرکھڑے ہو گئے ایک دکاں پہ آ کرنظر مل گئی دفعتاً اک نظر سےدھڑکنے لگا دل محبت کے ڈر سےادھر تو نظر سے جبیں سائیاں تھیںادھر سے بھی کچھ ہمت افزائیاں تھیںخلش دل کی دونوں کو تڑپا گئی تھیمحبت کی منزل قریب آ گئی تھیخیالات میں اس طرف اک تلاطملبوں پر ادھر ہلکا ہلکا تبسمنگاہوں سے عہد وفا ہو رہا تھااشاروں سے مطلب ادا ہو رہا تھاادھر عشق کے بام و در سج رہے تھےگھڑی میں جو دیکھا تو نو بج رہے تھےیکایک جواں کچھ مرے پاس آئےجو تھے آستینوں پہ بلے لگائےکہا اتنی تکلیف فرمائیے گانمائش سے تشریف لے جائیے گاغرض چل دئے گھر کو مجبور ہو کرمحبت کے جلووں سے معمور ہو کرہوئی جاری رہی تھی عجب حالت دلکوئی چھین لے جیسے پڑھتے میں ناولہم اس طرح باب مزمل سے نکلےلہو جیسے ٹوٹے ہوئے دل سے نکلےبہر حال اب بھی وہی ہے نمائشنوید طرب دے رہی ہے نمائشوہی جشن ہے اور وہی زندگی ہےمگر جیسے ہر شے میں کوئی کمی ہےارے او نگاہوں پہ چھا جانے والیمرے دل کو رہ رہ کے یاد آنے والیتری طرح جلوہ نما ہے نمائشترے حسن کا آئنا ہے نمائشنمائش میں تیری لطافت ہے پنہاںنمائش میں تیری نزاکت ہے پنہاںنگاہوں کو ناحق تری جستجو ہےیقیناً نمائش کے پردے میں تو ہے
مجھے معلوم تھایہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہےمیری ماتمی چادرنہیں تبدیل ہوگی آج کے دن بھیجو راکھ اڑتی تھی خوابوں کی بدن میںیوں ہی آشفتہ رہے گیاور اداسی کی یہی صورت رہے گیمیں اپنے سوگ میں ماتم کناںیوں سر بہ زانو رات تک بیٹھی رہوں گیاور مرے خوابوں کا پرسہ آج بھی کوئی نہیں دے گامگر یہ کون ہےجو یوں مجھے باہر بلاتا ہےبڑی نرمی سے کہتا ہےکہ اپنے حجرہ غم سے نکل کر باغ میں آؤذرا باہر تو دیکھودور تک سبزہ بچھا ہےاور ہری شاخوں پہ نارنجی شگوفے مسکراتے ہیںملائم سبز پتوں پر پڑی شبنمسنہری دھوپ میں ہیرے کی صورت جگمگاتی ہےدرختوں میں چھپی ندیبہت دھیمے سروں میں گنگناتی ہےچمکتے زرد پھولوں سے لدی ننھی پہاڑی کے عقب میںنقرئی چشمہ خوشی سے کھلکھلاتا ہےپرند خوش گلوشاخ شگفتہ پر چہکتا ہےگھنے جنگل میں بارش کا غبار سبزسطح شیشۂ دل پرملائم انگلیوں سے مرحبا کے لفظ لکھتا ہےکوئی آتا ہےآ کر چادر غم کو بڑی آہستگی سےمیرے شانوں سے ہٹا کرسات رنگوں کا دوپٹہ کھول کر مجھ کو اڑاتا ہےمیں کھل کر سانس لیتی ہوںمرے اندرکوئی پیروں میں گھنگھرو باندھتا ہےرقص کا آغاز کرتا ہےمرے کانوں کے آویزوں کو یہ کس نے چھواجس سے لویں پھر سے گلابی ہو گئی ہیںکوئی سرگوشیوں میں پھر سے میرا نام لیتا ہےفضا کی نغمگی آواز دیتی ہےہوا جام صحت تجویز کرتی ہے
دن بھر کافی ہاؤس میں بیٹھے کچھ دبلے پتلے نقادبحث یہی کرتے رہتے ہیں سست ادب کی ہے رفتارصرف ادب کے غم میں غلطاں چلنے پھرنے سے لاچارچہروں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے برسوں کے بیماراردو ادب میں ڈھائی ہیں شاعر میرؔ و غالبؔ آدھا جوشؔیا اک آدھ کسی کا مصرعہ یا اقبالؔ کے چند اشعاریا پھر نظم ہے اک چوہے پر حامد مدنیؔ کا شہکارکوئی نہیں ہے اچھا شاعر کوئی نہیں افسانہ نگارمنٹوؔ کرشنؔ ندیمؔ اور بیدیؔ ان میں جان تو ہے لیکنعیب یہ ہے ان کے ہاتھوں میں کند زباں کی ہے تلوارعالؔی افسر انشاؔ بابو ناصرؔ میرؔ کے بر خوردارفیضؔ نے جو اب تک لکھا ہے کیا لکھا ہے سب بیکاران کو ادب کی صحت کا غم مجھ کو ان کی صحت کایہ بے چارے دکھ کے مارے جینے سے ہیں کیوں بے زارحسن سے وحشت عشق سے نفرت اپنی ہی صورت سے پیارخندۂ گل پر ایک تبسم گریۂ شبنم سے انکار
فنا میں حزن دیدہ زندگی ضم ہوتی جاتی ہےتھکی نبضوں کی خستہ ضرب مدھم ہوتی جاتی ہےیہ ارمانوں کا موسم یہ مری گرتی ہوئی صحتاندھیری رات اور لو شمع کی کم ہوتی جاتی ہےشبستان وفا کو جگمگاؤں کس طرح کیفیؔ
یہ صحت بخش تڑکا یہ سحر کی جلوہ سامانیافق سارا بنا جاتا ہے دامان چمن جیسےچھلکتی روشنی تاریکیوں پہ چھائی جاتی ہےاڑائے نازیت کی لاش پر کوئی کفن جیسےابلتی سرخیوں کی زد پہ ہیں حلقے سیاہی کےپڑی ہو آگ میں بکھری غلامی کی رسن جیسےشفق کی چادریں رنگیں فضا میں تھرتھراتی ہیںاڑائے لال جھنڈا اشتراکی انجمن جیسےچلی آتی ہے شرمائی لجائی حور بیداریبھرے گھر میں قدم تھم تھم کے رکھتی ہے دلہن جیسےفضا گونجی ہوئی ہے صبح کے تازہ ترانوں سےسرود فتح پر ہیں سرخ فوجیں نغمہ زن جیسےہوا کی نرم لہریں گدگداتی ہیں امنگوں کوجواں جذبات سے کرتا ہو چہلیں بانکپن جیسےیہ سادہ سادہ گردوں پہ تبسم آفریں سورجپے در پے کامیابی سے ہو ستالن مگن جیسےسحر کے آئنہ میں دیکھتا ہوں حسن مستقبلاتر آئی ہے چشم شوق میں کیفیؔ کرن جیسے
پڑھنا لکھنا سکھائےاچھی راہ بتائےبد سے ہمیں بچائےاچھا بچہ بنائےبھیا پیارا پیاراگھنٹی خوب بجائےبستہ بھی لٹکائےمکتب لے کر جائےجلدی سے پہنچائےرکشا پیارا پیاراپھولوں پر اترائےخوشبو بھی بکھرائےگھر آنگن مہکائےہریالی بھی لائےگملا پیارا پیارابھیا لے کر جائےسرکس بھی دکھلائےلڈو بھی کھلوائےجو چاہو مل جائےمیلہ پیارا پیاراجب جب یہ لہرائےسب کی شان بڑھائےجس کے ہاتھ یہ آئےآگے بڑھتا جائےجھنڈا پیارا پیاراتاریکی میں آئےبستر تک پہنچائےلوری بھی سنوائےسپنے بھی دکھلائےسونا پیارا پیاراسب کو مار بھگائےجو دیکھے ڈر جائےالٹی شامت لائےدشمن کوئی آئےڈنڈا پیارا پیارابارش میں کام آئےباہر لے کر جائےخود تو بھیگا جائےلیکن ہمیں بچائےچھاتا پیارا پیاراجگ مگ روپ دکھائےچندا ریجھا جائےرستہ بھی بتلائےلیکن ہاتھ نہ آئےتارا پیارا پیاراتل کر منا کھائےخاگینہ بنوائےسالن میں پک جائےمنی کو للچائےانڈا پیارا پیاراجب یہ موسم آئےصحت خوب بنائےڈھیروں کپڑے لائےپھر بھی دور نہ جائےجاڑا پیارا پیاراکھانا جب بھی آئےآگے بڑھ کر لائےہم کو سب کھلوائےخود بھوکا رہ جائےچمچہ پیارا پیارابازاروں میں نکلےہاتھ میں سب کے لٹکےجو کچھ بھی یہ دیکھےاپنے پیٹ میں رکھےتھیلا پیارا پیارامیٹھا میٹھا کھاؤمنا بولے لاؤجلدی سے پکواؤسارا چٹ کر جاؤحلوہ پیارا پیاراچاہے کوئی بلائےسب کی گود میں جائےدیکھے تو للچائےٹافی بسکٹ چائےننھا پیارا پیاراپانی ٹھنڈا کر دےسر پہ کٹورا رکھےدوڑے آئیں پیارےجو چاہے وہ پی لےمٹکا پیارا پیاراصورت رنگ برنگیحالت بھی ہے اچھیبستر کا ہے ساتھیعادت میں ہے نرمیتکیہ پیارا پیاراگرمی دور بھگائےٹھنڈا موسم لائےتھوڑی بجلی کھائےبہتر کام بنائےپنکھا پیارا پیاراچم چم چمکا جائےبجلی سا لہرائےجلدی جلدی آئےساتھ میں چلتا جائےجوتا پیارا پیاراسب سے پہلے جاگےپیڑ پہ چڑھ کے بیٹھےدیواروں پر بھاگےککڑوں ککڑوں چیخےمرغا پیارا پیاراگھر میں دوڑ لگائےباہر بھاگ کے جائےبلی پر غرائےننھے کو بہلائےکتا پیارا پیاراپیٹھ پہ ہمیں بٹھائےسرپٹ دوڑ کے جائےمنزل پر پہنچائےتب جا کر سستائےگھوڑا پیارا پیاراجلدی سے اٹھ جائےچیخے اور چلائےدانہ پتے کھائےپھر بھوکا رہ جائےبکرا پیارا پیاراپنجرے میں پر تولےٹھمک ٹھمک کر ڈولےجب بھی منہ کو کھولےمیٹھی بولی بولےطوطا پیارے پیاراروئی کو لپٹائےدھاگا بنتا جائےہاتھوں میں بل کھائےبل کھا کر لہرائےتکلا پیارا پیاراچوروں سے لڑ جائےڈاکو سے ٹکرائےجو بھی چابی لائےاس کے بس میں آئےتالا پیارا پیاراسڑکیں بھی دکھلائےگلیوں میں لے جائےکون کدھر کو جائےبھید یہ سب بتلائےنقشہ پیارا پیاراکلیوں پر منڈ لائےپھولوں سے بتلائےناچے جھومے گائےمستی میں لہرائےبھونرا پیارا پیاراشب کو منہ دکھلائےسورج سے شرمائےبادل میں چھپ جائےرات ہوتے ہی آئےچندا پیارا پیاراجھیل کے پاس ہی بیٹھےچھوٹی مچھلی پکڑےہنس ہو کوئی جیسےموتی کھانے آئےبگلا پیارا پیاراآنکھوں سے لگ جائےراحت ہی پہنچائےکالے کالے شیشےابر کے ٹکڑوں جیسےچشمہ پیارا پیارامیرا ہمدم ساتھیایسا نہ ہوگا کوئیصورت بھی ہے پیاریسیرت بھی ہے اچھیبستہ پیارا پیاراوقت پہ سو کر اٹھےوقت پہ اپنے کھیلےوقت پہ پڑھنے جائےاول نمبر آئےبچہ پیارا پیارا
نہ تو منظر کوئی شاداب و حسیں مانگا ہےنہ صحت بخش کوئی آب و ہوا مانگی ہے
یہ سوچتا ہوں جوخدا کبھی دیدار بخشے گااور اپنے فضل سے دے گا اجازت مانگنے کی کچھتو نہ دستار و قبا نہ جبہ و خرقہنہ دولت نہ محل نہ سر پہ تاج مانگوں گانہ عہدہ و منصب نہ کوئی جاہ و جلالنہ علم و آگہی نہ مسند نہ اقتدار مانگوں گافراوانی غم سے نجات نہ فارغ البالینہ صحت نہ شفا نہ اچھی موت مانگوں گانہ تکمیل آرزو کی دعا نہ نفس مطمئنہ کینہ عمر خضر نہ شہرت نہ خواب کی تعبیر مانگوں گانہ دشمنوں کے ضرر سے نہ شر سے دوستوں کےنہ کبر سنی نہ ضعف نہ لاچاری سے پناہ مانگوں گانہ دنیا جہان کی خوشیاں نہ شان و شوکت ہینہ خوش نصیبی نہ دل کا چین نہ سکون روح مانگوں گانہ خوش گوار راتیں نہ طول شباب نہ نیند نہ آغوش محبوبنہ سامان عیش و طرب نہ حور و قصور مانگوں گانہ رسوائی سے بچنے کی نہ عزت آبرو کی خواہش ہےنہ شہرت و مقبولیت نہ اچھی امیج مانگوں گانہ قرض کے بوجھ نہ خوف نہ دہشت سےنہ کسی کے جبر سے نہ ظلم سے حفاظت کی دعا مانگوں گااب آپ سوچتے ہوں گےکہ یہ باؤلا یہ دیوانہ یہ پاگل شخصنہ جانے آخر خدا سے کیا مانگے گاسو مرے ہمدم مرے دوستو مرے یاروذرا قریب آؤ آؤ بتاؤں راز تمہیں دکھی دل کامیں خدائے قادر مطلق رحیم و اکرم سےجنون مذہبی کے خاتمے اور امن کی فضا مانگوں گا
تاریخ کے بنے ہوئے تھیلوں میں ہمیشہکوئی بے حد اہم چیز رہ جاتی ہےبے شک ہوائیں عظیم ترین صناع ہیںان خرابوں کی جو نقش ہیں بے رنگی کے ساتھایک پر اسرار غیر معروف اندھیرے کی دبیز دیواروں پرلیکن آنکھیںایسے پیچیدہ منظر کوصحت اور ثقاہت کے ساتھنقل نہیں کر سکتیںخواہ بینائی کی کسی بھی قبیل سےعلاقہ رکھتی ہوںاب بالکل نیا تناظر ضروری ہےاس نا دیدنی سے عہدہ برا ہونے کے لیےورنہ دیکھنا ایک احمقانہ تصور ہے جسےبس آنکھیں ہی مانتی ہیں
کیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانکل یہ مہکتے پھول بنیں گے آج ہیں ننھی کلیاںسایہ ان پر کئے ہوئے ہیں آشاؤں کی پریاںزہریلے کانٹوں سے نہ الجھیں یہ ننھی سی جانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانننھی منی کومل کلیاں کہیں نہ مرجھا جائیںخوشبو مہکے کیاری کیاری مہکیں اور مہکائیںگلشن کے سب رکھوالوں پر فرض ہے ان کا دھیانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانجیون میں اجیالا ان سے یہ دھرتی کے تارےگورے ہیں یا کالے ہیں یہ بچے پیارے پیارےماؤں کی ممتا سے پوچھو سب ہیں ایک سمانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانبستی بستی نگر نگر یہ امرت جل برساؤجیون جوت جلاؤ ہر سو علم کا دیپ جلاؤجب ہوں بڑے یہ آج کے بچے نکلیں سب ودوانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانصحت کی سندرتا پائیں سب کو رنگ و روپ ملےتازہ ہوا بھرپور غذا ہو ان کو سنہری دھوپ ملےپھولے پھلے پروان چڑھے یہ بھارت کی سنتانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانامن کی ٹھنڈی چھاؤں میں کھیلیں ان کو سب کا پیار ملےدکھ نہ انہیں پہنچائے کوئی ان کو سکھی سنسار ملےدیس کی ساری مائیں دل میں رکھتی ہیں ارمانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شان
صحت دل و دماغ بقا اور زندگیان نعمتوں سے دور رہے آہ آدمیاس پر یہ لطف ہے کہ نہیں یہ بھی آگہیآزاد اگر نہیں ہے تو ہندوستاں نہیں
تن من کے سب روگ مٹا کر دور کریں گے بیماریدیس کے رہنے والوں کو ہم صحت مند بنائیں گے
صحت مند رہنے کی خاطرکرتے کثرت اچھے بچے
ایک بارترک مراسم کے باوجوداس نے میری عیادت کی تھیخدا گواہ ہےاس روز سے آج تکمیں اپنی صحت کا دشمن ہوں
ہاتھ ملانے کی رسمتب ایجاد ہوئیجب ہتھیار پھینکناسیکھا جا چکا تھااور بغلوں میں چھریاںعام ہونے لگی تھیںزندگیوں میں بدلاؤ آیاجاپانیوں نے دور سے جھک کر سلام کہنا سیکھادشمن اور دوست سے مناسب فاصلہہمیشہ بنائے رکھاایٹمی طاقت سے تباہ کیے گئےزندگیوں میں بدلاؤ آیااہل فارس نے چوہے سےطاعون کا تعلق پہچانانعش کو کاٹ کر اعضا کا نقشہ بنایاپہلی جراحی کیاور مردوں کی بے حرمتی کی پاداش میںبوعلی سینا کو سزا دیزندگیوں میں بدلاؤ آیافرانسیسیوں نے چالیس دن کا کوارنٹائن ایجاد کیابندرگاہوں پر بیماریوں کا ویزا کینسل ہواصحت مند انسانوں کو ویزا ملنے لگازندگیوں میں بدلاؤ آیایہود کی منڈی میںسونے کے سکے انسانوں سے کم پڑ گئےکاغذ کا نوٹ ایجاد ہوااور پھر سب ادیان کیاعتبار کی آیات کونوٹوں پر لکھ دیا گیازندگیوں میں بدلاؤ آیااگلے نئے بدلاؤ کے لیےاسٹیج تیار کرنے میںوبا کی مدد کرو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books