aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sidra"
عقل نے ایک دن یہ دل سے کہابھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میںہوں زمیں پر گزر فلک پہ مرادیکھ تو کس قدر رسا ہوں میںکام دنیا میں رہبری ہے مرامثل خضر خجستہ پا ہوں میںہوں مفسر کتاب ہستی کیمظہر شان کبریا ہوں میںبوند اک خون کی ہے تو لیکنغیرت لعل بے بہا ہوں میںدل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہےپر مجھے بھی تو دیکھ کیا ہوں میںراز ہستی کو تو سمجھتی ہےاور آنکھوں سے دیکھتا ہوں میںہے تجھے واسطہ مظاہر سےاور باطن سے آشنا ہوں میںعلم تجھ سے تو معرفت مجھ سےتو خدا جو خدا نما ہوں میںعلم کی انتہا ہے بیتابیاس مرض کی مگر دوا ہوں میںشمع تو محفل صداقت کیحسن کی بزم کا دیا ہوں میںتو زمان و مکاں سے رشتہ بپاطائر سدرہ آشنا ہوں میںکس بلندی پہ ہے مقام مراعرش رب جلیل کا ہوں میں
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
میں اس آدمی کی زبانکاٹ دینا چاہتی ہوںجس نے پہلی بارپاؤں چاٹنے کی روایت قائم کی
تنہائی کے جوتے پہنےہم سیکنڈ ہینڈ قبروں میں رہ رہے ہیںہمیں اکیلے پن کی مشینوں میں ڈال کرسکھایا جا رہا ہےکہ موت سے جنگ ہو جائے توکمر پر گولی کھا کر میدان سے بھاگنا نہیں ہےہمارے سینے پرچم کی طرحلہرا رہے ہیںبرسات کا موسم نہیںمگر موت پوری شدتوں کے ساتھتمام شہروں پر برس رہی ہے
دیار سدرہ کی منزلوں سےنہ کوئی انساں گزر کے آیا
مرے راز داںمیری آنکھوں میں دیکھوبتاؤ مجھے کیا کہیں خوف ہےکیا کہیں کوئی خواہشمچلتی ہوئی پا برہنہ ملیکیا مری آنکھ کے بانکپن میںنقاہت تو ابھری نہیںمحبت کا دھاگا جو الجھا ہوا ہےکہیں اس کی سرخی توآنکھوں میں دکھتی نہیںمرے راز داںمیری باتوں کو سوچو بتاؤ مجھےکیا کہیں ان میں تقدیر سےکوئی شکوہ بھی ہےکوئی دوغلا پنتلفظ کی ''غلطی''کہیں نا مرادی کا بے وزن مصرعہشقاوت تنفر بھرا کوئی جملہاگر ایسا ہے تو بتاؤ مجھے
پاگل لڑکیدیواروں کو گالیاں دیتی ہےاور تھوک دیتی ہےآئنے پرہوا کی طرف پھینکتی ہے اپنے گلابی جوتےاور بند ہونے والی آنکھوں پرپھیر دیتی ہے نیل پالشپور پہ سیفٹی پن لگاتی ہےاورسرخ لپ اسٹک سے ملا کر دیکھتی ہےباریک سی دھار کی خونی رنگت
طے ہوئی تھی ایک ملاقات ریلوے ٹریک پرلیکن ریل گاڑی کا انجن مسلسل کھانستا رہاپلیٹ فارم نمبر آخری پراور پھنس گئے مسافر ایک دوسرے کی گالیوں میںسو یک طرفہ رہی ملاقات
میں اپنا نام اور پیدائشکھوج رہی ہوںایک ایسی خوردبین سےجس میںپچیسویں صدی کی آنکھیںلگی ہوئی ہیںوہ آنکھیں جن کی پتلی سفیداور سکلیرا سیاہ ہےوہ آنکھیں جو دور تکدیکھ سکتی ہیں اورآٹھواں رنگ پہچان سکتی ہیںجنہیں بائسویں صدی نےدریافت کرنے کا دعویٰ کیا تھامگر یہ المیہجس کی کوکھوقت کے وجود سے خالی ہےمیری پیدائش کے لمحے کوکسی کلینڈر میںنشان زد کرنے سے قاصر ہےشاید میرا جنمتین سو سڑسٹھویں دن کےکسی غیر مطبوعہ لمحے میں ہوا تھاجسے تشہیر کرتے ہوئےخدائے اصلیاپنی لا محدودیت کی دہائی دیتا رہااور خراج لیتا رہا
جب مسجدوں اور امام بارگاہوں میںنقب لگائی جاتی تھیتو کئی بے رنگ دائرے سوالیہ نشان لئےہمارے راستے میں آ کھڑے ہوتےکہ کلیساؤں اور مندروں کا نظام کون سے خدا کے پاس ہےجو امن کی فاختاؤں کوعبادت گاہ کے روشن دانوں میں بھیج دیتا ہےاسی سوال میں جوابی رنگ بھرنے کے لئےہم نے لہو کو بارود میں گھول کر انسانیت کا بھرم گنوا لیا
غزوۂ خندق کا سفرزبان کی خندق تک آ پہنچالیکن سازشیں ہتھیائی نہیں جا سکیںابلیس کی معیت میںنماز حاجات ادا کرنے والےہتھیلیوں میں جنت بھر کے کہتے ہیںخدایایہ دودھ اور شہد کی نہریںکس کے لئے بچا رکھی ہیں
لوگ ربر بینڈ کی طرحہاتھوں پہچڑھائے جا سکتے ہیںپہنے جا سکتے ہیںپیروں میںکاغذ چھوٹی چھوٹی گولیوں میںتبدیل کئے جا سکتے ہیںجنہیںجب چاہو دیوار پہ دے ماروان کو کوڑے دان میں پھینکا جا سکتا ہےجالے اور وحشت اتاری جا سکتی ہے کمروں کی
حادثاتی موت کے بعدتمام چیخیںسہی سلامتکاغذ پہ اتار لی گئی ہیںاور چہرےمسخ کر دئیے گئے ہیںلاشوں کےلوگ اپنے اپنے لہو کیزندہ تصویریںمردہ ہاتھوں میں لئےدیواروں کو گھورتے ہیںاور گھورتے ہی چلے جاتے ہیں
میرے بدن کی چار دیواری کے لئےکھنکتی ہوئی مٹی کم تھیاس لئے خدا نے آنکھوں میں کانچ بھر دیااور جہنم کے لپکتے ہوئے شعلوں کی جلن لہو میں رکھ دیمیرے ہاتھوں میں لق و دق صحراؤں کی رتیلی وحشتچبائے ہوئے عکس کی لکیریں بناتی رہتی ہےاور ذہن کے رستے ہوئے پتیلے میںدن بھر برداشت کا لاوا کھولتا ہے
بہت غور و خوض کے بعد بالآخرتلاش ختم کر دی گئیاس مکان کی چوبی سیڑھیوں کےنصف دائرے پرجو ہماری سمت کا آخری حصہ بتایا گیا ہےاور قلعی کر دی گئیان تمام دیوار گیر اندازوں پرجو ہمیں توڑ مروڑ کر لکھتے تھے
میں نہیں جانتیکہ مجھے کیا ہوا ہےمجھے ایسا کچھ بھیمیرے بارے بتانے سے منع کیا گیا ہےشایدمگر میں تکلیف میں ہوںایک انجانی تکلیفنا چاہے جانے کی تکلیفمیں کسی کی زندگی کا محور و مرکز نہیں کیوںشاید یہ کیوں اور اس سے پہلے کا جملہ فقط میرا وہم ہویہی سوچ کر خود کو تسلی دینا بھیکس قدر اچھا لگتا ہےمیرے بعد کتنے لوگمیری موت کا یقین نہ کر پائیں گےمیرے ہوتے ہوئے کتنوں کو میرے زندہ ہونے کا یقین ہےکیا یہ یقین جھوٹا نہیںکیا ہر یقین جھوٹا نہیںنہیں سب سچ ہےکبوتر کی طرح آنکھیں موند لینے سے کیا ہوگااداسی اور اس کا کرب جان لیوا ہےزندگی ہر روز مجھے ذلیل کرنے پر تلی ہےسسکنا بلکنا اور قہقہے لگانا میرا وطیرہ بن گیا ہےکوئی ہے جو مجھے خوابوں سے بیدار نہ کرےکوئی ہےکوئی نہیںمیں خود بھی نہیںتمہیں پتا ہے تمہاری آنکھیںمیرے چہرے پر بری لگتی ہیںپر میں انہیں لگائے گھومتی ہوںبھدی لگنے کے باوجودصرف اس لئے کہتمہیں مجھ سے شکایت نہ ہویہ کیسا زنداں ہے جہاں آزادی ہی آزادی ہے اور کوئی روک ٹوک نہیںسوائے سوچنے کےکسی شے پر پابندی نہیں
اسے ڈھونڈیں تو رستےجان کے درپئےجہازوں کشتیوں سے لہلہاتے زندگی پرور سمندربرف سے بھر جائیںہر جانب ملیں کوہ ندا غول بیاباںاور کبھی خیموں کی خونی دھجیاں ٹوٹی طنابیں ہڈیاںہیبت دلائیںکارواں کترائیںجیسے ہم زمیں پر بوجھ ہوںہر سمت سدرہ ہےستارے خوشبوئیں جگنو ہوائیں سب غلط رستے بتائیںپاؤں نیزوں پر چلیںاور وہ تو کیادست طلب میں اپنی خاکستر بھی عنقا ہواسے پائیں تو سارے محلگر جائیں ارم اٹھ جائیںپیڑوں اور دیواروں کے سائے اڑ چلیںسورج کی کرنیں مڑ چلیں کچھ اور دنیاؤں کی جانبانگلیاں اٹھیں سناٹوں کی طرحاور ساتھ چلنا خلق کی عصمت دری جیسےزمیں عف عف سے فنکاروں سے نیشوں سے بھری جیسے
جہاں اک طائر سدرہ کسی دن چہچہایا تھاانہیں شاخوں پہ مجھ کو اختیار آشیاں دے دے
گندم کی وہ بوریاںجو ہمارے حصے میں آئیںان میں کہانیاں نہیںمرے ہوئے کردار بھرے ہوئے تھےہم بہت مدت تک تلاشتے رہےاپنا جلایا گیا بدنمگر کوئی نقش مماثل نہیں تھاہمارے خال و خد سےیا شاید ہمارا نقشہ پگھل چکا تھا
کائنات جس کی باگیںکسی حادثے کے ہاتھ میں دے کرخدا وند کریم عبادتیں بٹور رہا ہےکیا اسے صرف یہی غرض ہےکہ وہ پہچانا جائے یااس کے ہونے کیکچھ اور بھی حقیقت ہےاس ملک میں جہاں بظاہر آزادی ہےغلامی کے طوق پہنے ہوئے ایڑیاں رگڑتی دل مسوستی جاں بہ لب زندگیعمر کا طویل سفر طے کرنے کہاں جائے گیکیا کوئی اور زندگی بخش سیارہ دریافت ہو چکا ہےکیا کوئی اور زمین ڈھونڈ لی گئی ہےاتنی بڑی دنیا میں کیا چھوٹے پن کو دفن کرنے کی کوئی جگہ باقی نہیںکیا سمندروں نے اقرار کر لیا ہے کہ وہ مردار نگلیں گےاور کشتیوں کو بندرگاہوں کے کناروں پر پہنچا کر قزاقوں کے حوالے کر دیں گےآنکھ جب پتھر برسانے لگے گی تو آنسو بھر خجالتماتھے سے نمودار ہو کر اپنے ہونے کا احساس دلائیں گےاس آزاد ملک میں جہاں غلامی کے طوق پہنےایڑیاں رگڑتی دل مسوستی جاں بہ لب زندگی انتظار میں ہےکہ عبادتیں بٹورتا خدا کائنات کی سیڑھیوں تک تو آئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books