aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "siye"
جب مرگ پھرا کر چابک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گاکوئی ناج سمیٹے گا تیرا کوئی گون سیے اور ٹانکے گاہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو خاک لحد کی پھانکے گااس جنگل میں پھر آہ نظیرؔ اک تنکا آن نہ جھانکے گاسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
کسی نے اطلس و کمخواب کی قبا پہنیکسی نے چاک گریباں کسی نے زخم سیے
چند آنسو غم گیتی کے لیے چند نفسایک گھاؤ ہے جسے یوں ہی سیے جاتے ہیں
میں نے بھی ایک جہد مسلسل میں کاٹ دیوہ عمر تھی جو پھول سے ارماں لیے ہوئےاب وہ جنوں رہا ہے نہ وہ موسم بہاربیٹھا ہوں اپنا چاک گریباں سیے ہوئے
اس سے پہلے میں دروازہ کھولوںکچھ بولوںافواہوں کی گرد میں لپٹے زہر آلود محبت نامے لئے ہوئے تمادھڑے ہوئے رشتوں کے جامے سیے ہوئے تممجھ میں آن سمائےمیں رہنے کے لئے بنا ہوںجو آئے مجھ میں رہ جائےمجھے سجائےجتنا پیار کرے اتنا سکھ پائےتم سے پہلے بھی کچھ لوگ یوں ہی آئے تھےاپنے اندر مجھ میں تبدیلی کے خواب سجا لائے تھےاور پھر اک دنجس نے جو بھی عہد کیا وہ توڑ دیاجس نے جو بھی بات کہی وہ رد کر دیلیکن تم نے تو حد کر دیمیرے دن ویران ہوئے ہیںمیری صبح کے چہرے پر کتنی راتوں کے زخم لگے ہیںمیری شام اداس کھڑی ہےمیرے افق پر سورج لہولہان پڑا ہےدیواروں سے خوں رستا ہےدروازوں سے میرا اک اک راز عیاں ہےمیرے صحن میں دشمن کی سازش رقصاں ہےسنا ہے اب اس حال میں مجھ کو چھوڑ کے تم جانے والے ہومیرے باہر بیٹھ کے میری یاد کا غم کھانے والے ہوتم سے اور امید بھی کیا ہوتم بھی تو دنیا والے ہوجب تک عشق سے عشق نہیں ملتا تنہا دکھ سہنا ہےگھر کی فکر تو اس کو ہوگی جس کو گھر میں رہنا ہے
سیب کے اجلے درختوں کی گھنی چھاؤں میںپاؤں ڈالے ہوئے تالاب میں کوئی لڑکیگورے ہاتھوں میں سنبھالے ہوئے تکیے کا غلافان کہی باتوں کو دھاگوں میں سیے جاتی ہےدل کے جذبات کا اظہار کیے جاتی ہےگرم چولھے کے قریں بیٹھی ہوئی اک عورتایک پیوند لگی ساڑی سے تن کو ڈھانپےدھندلی آنکھوں سے مری سمت تکے جاتی ہےمجھ کو آواز پہ آواز دئیے جاتی ہے
بھوک سے دامن ہستی کو سیے جاتے ہیںزندگی چھین کے اوروں کے جیے جاتے ہیںہر نفس عہد وفاؤں کے لیے جاتے ہیںخون ارزاں ہے غریبوں کا پیے جاتے ہیں
سلام اے افق ہند کے حسیں تاروسلام تم پہ سپہر وطن کے مہ پاروسلام تم پہ مرے بچو اے مرے پیاروبھلائے بیٹھے ہو تم مجھ کو کس لئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروسنو کہ میری تمنا و آرزو تم ہوسنو کہ مادر بھارت کی آبرو تم ہوسنو کہ امن زمانہ کی جستجو تم ہوخموش بیٹھے ہو کیوں اپنے لب سیے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروسلام تم پہ کہ میرے چمن کے پھول ہو تممری نظر مری فطرت مرا اصول ہو تممگر یہ کیا ہوا کس واسطے ملول ہو تمیہ تم نے چند غلط کام کیوں کئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارووطن میں خون کے دریا بہا دئے تم نےسبھی نقوش اہنسا مٹا دئے تم نےرواج کار محبت بھلا دئے تم نےرسوم مہر و وفا ترک کر دئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروسبق پڑھایا تھا تم کو عدم تشدد کاتمہیں بتایا تھا میں نے گناہ ہے ہنسایہ تم نے کس لئے تیغ و تبر سے کام لیاتمہارے ہاتھوں میں خنجر ہیں کس لئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروتمہارے ذہنوں میں مکروہ سازش اور فساددلوں میں نفرت و کینہ ہے اور بغض و عنادمگر لبوں پہ ہے بابائے قوم زندہ بادمجھے یہ کھوکھلے نعرے نہ چاہیے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروزمین نانک و چشتی پکارتی ہے تمہیںدیار بدھ کی تجلی پکارتی ہے تمہیںسنو کنہیا کی بنسی پکارتی ہے تمہیںاب اور دیر بھی کرنی نہ چاہیے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارواٹھو زمانۂ حاضر ہے اک پیام عملاٹھو کہ کانپ رہی ہے نوائے ساز غزلاٹھو کہ ماند نہ ہو جائے حسن تاج محلاٹھو کہ سینوں میں پھر روشنی جئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یاروپھر اپنے ذہنوں میں لہکاؤ دوستی کا چمنپھر اپنی سانسوں سے مہکاؤ پیار کا مدھوبنپھر اپنے کاموں سے چمکاؤ سر زمین وطنتمہارے میکدے میں دہر پھر پئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارونہ چھوڑو زندہ وطن میں کسی لٹیرے کوکچل دو بڑھ کے ہر اک سانپ کو سپیرے کومٹاؤ فرقہ پرستی کے ہر اندھیرے کوبچاؤ دیش کو بھگوان کے لئے یاروجلاؤ میرے پیامات کے دئے یارومجھے یہ کھوکھلے نعرے نہ چاہیے یارو
نقش پا میں تمہارے لیے بیٹھا ہوںراز سینے میں ہے لب سیئے بیٹھا ہوںایسے گزرے ہو پہچانتے ہی نہیںتم تو جیسے مجھے جانتے ہی نہیںرک گیا اور کچھ سوچ کر کھو گیادور اپنے تصور سے بھی ہو گیابھولی بسری ہوئی رات یاد آ گئیبیتے لمحوں کی ہر بات یاد آ گئیکس کے ہم راہ آیا تھا اس موڑ پرکون ساتھ پانے لایا تھا اس موڑ پرہاں یہیں تیری زلفوں کا سایہ ملاہاں یہیں آرزؤں کا غنچہ کھلاہاں یہیں دل کی دھڑکن ہوئی تھی جواںہاں یہیں تو ملے تھے زمیں آسماںاب میں اس موڑ سے کیا کہوں؟ تو بتاپوچھتا ہے ''وہ سایہ کہاں رہ گیا''
تیرہ و تار سی یہ رات، بھیانک سی فضاڈگمگاتے ہوئے قدموں کو مرے دوست بڑھااک ذرا اور بلندی پہ خدا را آ جادیکھ اس وسعت تاریک کے سناٹے کودیوتا موت کا کھولے ہوئے جیسے شہ پراور اس وسعت تاریک کے سناٹے میںکوئی چھینے لیے جاتا ہے ستاروں کی دمککوئی بے نور کیے دیتا ہے شعلوں کی لپککوئی کلیوں کو مسلتا ہے تو پھر کیا کیجےزخم گل تجھ کو مہکنا ہے تو ہنس ہنس کے مہککون صیاد کی نظروں سے بھلا بچتا ہےطائر گوشہ نشیں! خوب چہک! خوب چہک!جاگتی زرد سی آنکھیں نہ کہیں لگ جائیںدرد افلاس! ذرا اور چمک اور چمک!لعل و گوہر کے خزانے بھی کہیں بھرتے ہیںعرق محنت مجبور! ٹپک اور ٹپک!ہے ترے ضعف پہ کچھ مستیٔ صہبا کا گماںاے قدم اور بہک! اور بہک اور بہک!وہ چمکتی ہوئی آئی ترے سر پر شمشیرمژۂ طفلک معصوم جھپک! جلد جھپک!سینۂ خاک میں بے کار ہوا جاتا ہے جذبرخ بے داد پہ اے خون جھلک! آہ جھلک!قطرہ قطرہ یوں ہی ٹپکاتا رہے گا کوئی زہرتو بھی اے صبر کے ساغر یوں ہی تھم تھم کے چھلک!موت کا رقص بھی کیا چیز ہے اے شمع حیات!ہاں ذرا اور بھڑک اور بھڑک اور بھڑک!ہر طرف کارگہ دہر میں اٹھتا ہے دھواںہر طرف موت کے آثار، تباہی کے نشاںسرد اجسام بتاتے نہیں منزل کا پتاراہیں ویران ہیں، ملتے نہیں راہی کے نشاںظلمت غم ہے کہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہےہاں مگر کس نے جلائے ہیں یہ حکمت کے دئیےآنکھیں چیخیں کہ نکل آیا وہ امید کا چاندچونکا دیوانہ کہ دامان دریدہ کو سیےدوڑا مے خوار کہ اک جام مئے تند پیےخواہش مرگ مرے سینے میں ہونے لگی ذبحڈوبتے دل نے دعا مانگی کی کچھ اور جیے
جھکی جھکی نظروں سے پستکوںکو سینے سے لگائےدھک دھک کرتے دل کو سنبھالےکہیں آنکھیں چار نہ ہو جائیںلیب میں چور نظر سے گھستےکہ آج تو درشن ہو جائیںپر مدہوشی کا عالم تو دیکھیں کہنظریں ملیں تو شاید بے ہوش ہو جائیںای میل پر کھلے عام خط کی بات نہیں یہوہ کچرے میں پھینکا کاغذ بھی کئی تہوںمیں لگا کر سینے میں چھپائیںکوئی جان نہ لے ہماری اس خاموش محبت کوسوچ اس خیال سے ہی لال ہو جائےچھپ چھپ کر راشی پھل پڑھتےکہ شاید آج ملاقات ہو جائےہونٹوں کو سیے چپ چاپ گھومتےکہ بھول سے تیرا نام بھی لبوں پر نہ آ جائےایسی تھیں وہ محبتیں جہاں بنا دیکھےکئی صدیاں گزر جائیں
تمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکنتمہارا عکس ہر لمحے کے آئینے میں ملتا ہےبچھڑ کر تم سے کتنی شامیں ہنس ہنس کر گزاری ہیںسجائے کیسے کیسے گیسوؤں میں پھول اشکوں کےلٹائی آبروئے سجدہ کس کس آستانے پرپئے ہیں کس قدر چھلکے ہوئے تلخاب آنکھوں کےملا چہرے پہ دن کے کس طرح غازہ تبسم کاسیے ہیں زخم کس کس طرح سے بے خواب راتوں کےتمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکنتمہاری شکل کا ہر ایک چہرے پر ہوا دھوکاصدا جب بھی سنی کوئی تمہارا نام یاد آیانگاہ لطف کی چھاؤں نے دے دی ہو اماں جیسےکسی کو حال پر اپنے کبھی جب مہرباں پایاتمہارا نام لے کر پاس آئے درد کے سائےتمہارا روپ پا کر دل نے کس کس کو نہ اپنایاتمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکنتمہارا عکس ہر لمحے کے آئینے میں ملتا ہے
عجب درد سینے میں پلتا رہادیا سا ہواؤں میں جلتا رہا
میں اپنی روح عذاب گر سے یہ کہہ رہا تھاکہ روح کی پیاس اور بدن کی طلب میںایک ربط باہمی ہےنہ روح سرشار ہے نہ تابندگی تن ہےیہ ریزہ ریزہ جو رزق پہنچا ہے تار و پو کاسرشتۂ نا تواں ہے عرض ہنر کے دامان بے رفو کایہ لقمۂ خشک و حلق فرساکبھی تو لذت شعار کام و دہن بھی ہوتافصیل تن ماورائے پس خوردگی بھی ہوتیمیں دست کوتاہ گیر دولت سے پوچھتا ہوںکہ عمر بھر تو نے کاغذی پیرہن سیے کیوںزبان آلودہ کار کو سی کے بیٹھ جاتاتو سخت کوش عذاب سود و زیاں نہ سہتییہ لمحے آثار باقیہ ہیںکہ جن میں سانسیں بھی گھٹ رہی ہیںطلب ہے دریوزہ گر کہ اس نےشکست دل کی پناہ ڈھونڈیقلم چلا ہے تو روشنائی کے اشک ٹپکانہ لوح دل پرحریف کو اپنے ساتھ مقتل کی دھوپ میں لاسواد محرومئ بشر تو نہیںگزر گاہ نا مرادیپہاڑ کاٹے ہیں جرأتوں نےخرابۂ ذہن پر تمازت غرور کی ہےسمن بری سایہ گستری ہےاسی کو زہراب آگہی دےاسی سے تعمیر آشیاں کر
سب دریچے بند ہیں تم کچھ کہوتم سمجھتے ہو گریباں چاک ہوںمیں تو اندوہ سماعت کے جراثیموں سےبالکل پاک ہوںنالۂ بیباک ہوںسب دریچے بند ہیں تم کچھ کہوتم سمجھتے ہو کہ بینائی گئیبجھ گیا ہر روزن دیوار چپ ہے روشنینیم وا ہے تیرگییہ شگفت غنچہ لب کی صداوہ حسیں قوس قزح رنگیں قبادھڑکنوں کا سلسلہسب دریچے بند ہیں تم کچھ کہوتم سمجھتے ہو کہ ساری انگلیاں پتھر کی ہیںکیوں قلم کے خشک ہونٹوں سےکوئی کاغذ چھوئیںاسم اعظم کی لکھیںسب دریچے بند ہیں تم کچھ کہوتم سمجھتے ہو کہ خوابوں میں خیالوں کو لیےلڑکھڑائیں گے ہمیشہ وصل کی خواہش میںیوں ہی بن پیےاپنے ہونٹوں کو سیے
اپنے چہروں پہ صحرا کے رقصاں بگولے لیےاپنے لب کو سیےاپنی آنکھوں میں محرومیوں کو سمیٹے ہوئےاپنی پلکوں کی سہمی ہوئی چلمنوں میںچیختی تشنگی کو چھپائےزندگی تیری یہ زندہ لاشیںرینگتی پھر رہی ہیںدر بہ در کوچہ کوچہ گلی در گلیاز افق تا افقکوئی عیسیٰ نفسکوئی شنکر صفتان کے چہروں پہ رقصاں بگولےان کی آنکھوں کی محرومیاںان کی پلکوں کی وہ چیختی تشنگیچھین لےتوڑ دے ان کے لب کا سکوت گراںآج بار دگروقت کو جستجو ہےایسے انسان کیجس کی بس ایک ضرب عصا سےچشمۂ آب حیواں ابل جائےجاں بہ لب زندگی کے بدن سےتشنگی درد بن کر نکل جائے
غم کی اگنی میں خلش راکھ ہوئی تھی جن کیپھر وہی درد نیا روپ لیے بیٹھے ہیںکس نے چھیڑا کہ رگ جاں سے لہو پھوٹ پڑاہم سمجھتے تھے کہ ہم زخم سیئے بیٹھے ہیں
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشتشاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہےآگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھاپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سیرات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سیمیرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سیاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books