aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sutuun"
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصارمطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
میرے شہر کے سارے رستے بند ہیں لوگومیں اس شہر کا نغمہ گرجو دو اک موسم غربت کے دکھ جھیل کے آیاتاکہ اپنے گھر کی دیواروں سےاپنی تھکی ہوئی اور ترسی ہوئیآنکھیں سہلاؤںاپنے دروازے کے اترتے روغن کواپنے اشکوں سے صیقل کر لوںاپنے چمن کے جلے ہوئے پودوںاور گرد آلود درختوں کیمردہ شاخوں پر بین کروںہر مہجور ستون کو اتنا ٹوٹ کے چوموںمیرے لبوں کے خون سےان کے نقش و نگار سبھی جی اٹھیںگلی کے لوگوں کو اتنا دیکھوںاتنا دیکھوںمیری آنکھیںبرسوں کی ترسی ہوئی آنکھیںچہروں کے آنگن بن جائیںپھر میں اپنا ساز اٹھاؤںآنسوؤں اور مسکانوں سے جھلمل جھلملنظمیں غزلیں گیت سناؤںاپنے پیاروںدرد کے ماروں کا درماں بن جاؤںلیکن میرے شہر کے سارے رستوں پراب باڑ ہے لوہے کے کانٹوں کیشہ دروازے پر کچھ پہرے دار کھڑے ہیںجو مجھ سے اور مجھ جیسے دل والوں کیپہچان سے عاریمیرے ساز سےسنگینوں سے بات کریںمیں ان سے کہتا ہوںدیکھومیں اس شہر کا نغمہ گر ہوںبرسوں بعد کڑی راہوں کیساری اذیت جھیل کے اب واپس آیا ہوںاس مٹی کی خاطرجس کی خوشبوئیںدنیا بھر کی دوشیزاؤں کے جسموں کی مہکوں سےاور سارے جہاں کےسبھی گلابوں سےبڑھ کر ہےمجھ کو شہر میںمیرے شہر میں جانے دولیکن تنے ہوئے نیزوں نےمیرے جسم کو یوں برمایامیرے ساز کو یوں ریزایامیرا ہمکتا خون اور میرے سسکتے نغمےشہ دروازے کی دہلیز سےرستے رستےشہر کے اندر جا پہنچے ہیںاور میں اپنے جسم کا ملبہساز کا لاشہاپنے شہر کے شہ دروازےکی دہلیز پہ چھوڑ کےپھر انجانے شہروں کی شہراہوں پرمجبور سفر ہوںجن کو تج کر گھر آیا تھاجن کو تج کر گھر آیا تھا
چھوڑ دے مطرب بس اب للہ پیچھا چھوڑ دےکام کا یہ وقت ہے کچھ کام کرنے دے مجھےتیری تانوں میں ہے ظالم کس قیامت کا اثربجلیاں سی گر رہی ہیں خرمن ادراک پریہ خیال آتا ہے رہ رہ کر دل بے تاب میںبہہ نہ جاؤں پھر ترے نغمات کے سیلاب میںچھوڑ کر آیا ہوں کس مشکل سے میں جام و سبو!آہ کس دل سے کیا ہے میں نے خون آرزوپھر شبستان طرب کی راہ دکھلاتا ہے تومجھ کو کرنا چاہتا ہے پھر خراب رنگ و بومیں نے مانا وجد میں دنیا کو لا سکتا ہے تومیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تومیں نے یہ مانا غم ہستی مٹا سکتا ہے تومیں نے مانا تیری موسیقی ہے اتنی پر اثرجھوم اٹھتے ہیں فرشتے تک ترے نغمات پرہاں یہ سچ ہے زمزمے تیرے مچاتے ہیں وہ دھومجھوم جاتے ہیں مناظر، رقص کرتے ہیں نجومتیرے ہی نغمے سے وابستہ نشاط زندگیتیرے ہی نغمے سے کیف و انبساط زندگیتیری صوت سرمدی باغ تصوف کی بہارتیرے ہی نغموں سے بے خود عابد شب زندہ داربلبلیں نغمہ سرا ہیں تیری ہی تقلید میںتیرے ہی نغموں سے دھومیں محفل ناہید میںمجھ کو تیرے سحر موسیقی سے کب انکار ہےمجھ کو تیرے لحن داؤدی سے کب انکار ہےبزم ہستی کا مگر کیا رنگ ہے یہ بھی تو دیکھہر زباں پر اب صلائے جنگ ہے یہ بھی تو دیکھفرش گیتی سے سکوں اب مائل پرواز ہےابر کے پردوں میں ساز جنگ کی آواز ہےپھینک دے اے دوست اب بھی پھینک دے اپنا رباباٹھنے ہی والا ہے کوئی دم میں شور انقلابآ رہے ہیں جنگ کے بادل وہ منڈلاتے ہوئےآگ دامن میں چھپائے خون برساتے ہوئےکوہ و صحرا میں زمیں سے خون ابلے گا ابھیرنگ کے بدلے گلوں سے خون ٹپکے گا ابھیبڑھ رہے ہیں دیکھ وہ مزدور دراتے ہوئےاک جنوں انگیز لے میں جانے کیا گاتے ہوئےسرکشی کی تند آندھی دم بہ دم چڑھتی ہوئیہر طرف یلغار کرتی ہر طرف بڑھتی ہوئیبھوک کے مارے ہوئے انساں کی فریادوں کے ساتھفاقہ مستوں کے جلو میں خانہ بربادوں کے ساتھختم ہو جائے گا یہ سرمایہ داری کا نظامرنگ لانے کو ہے مزدوروں کا جوش انتقامگر پڑیں گے خوف سے ایوان عشرت کے ستوںخون بن جائے گی شیشوں میں شراب لالہ گوںخون کی بو لے کے جنگل سے ہوائیں آئیں گیخوں ہی خوں ہوگا نگاہیں جس طرف بھی جائیں گیجھونپڑوں میں خوں، محل میں خوں، شبستانوں میں خوںدشت میں خوں، وادیوں میں خوں، بیابانوں میں خوںپر سکوں صحرا میں خوں، بیتاب دریاؤں میں خوںدیر میں خوں، مسجد میں خوں، کلیساؤں میں خوںخون کے دریا نظر آئیں گے ہر میدان میںڈوب جائیں گی چٹانیں خون کے طوفان میںخون کی رنگینیوں میں ڈوب جائے گی بہارریگ صحرا پر نظر آئیں گے لاکھوں لالہ زارخون سے رنگیں فضائے بوستاں ہو جائے گینرگس مخمور چشم خوں فشاں ہو جائے گیکوہساروں کی طرف سے ''سرخ آندھی'' آئے گیجا بجا آبادیوں میں آگ سی لگ جائے گیتوڑ کر بیڑی نکل آئیں گے زنداں سے اسیربھول جائیں گے عبادت خانقاہوں میں فقیرحشر در آغوش ہو جائے گی دنیا کی فضادوڑتا ہوگا ہر اک جانب فرشتہ موت کاسرخ ہوں گے خون کے چھینٹوں سے بام و در تمامغرق ہوں گے آتشیں ملبوس میں منظر تماماس طرح لے گا زمانہ جنگ کا خونیں سبقآسماں پر خاک ہوگی، فرق پر رنگ شفقاور اس رنگ شفق میں باہزاراں آب و تاب!جگمگائے گا وطن کی حریت کا آفتاب
جس طرح سوکھ کے زخموں سے گرا کرتی ہے پپڑیاس کی دیواروں سے اس طرح سے گرتا ہے پلسترایک پاؤں پہ کھڑے سارے ستوں تھک سے گئے ہیںخوردہ دانتوں کی طرح ہلتی ہیں ہر طاق میں اینٹیںموچ کھائی ہوئی کچھ کھڑکیاں ترچھی سی کھڑی ہیںکانچ دھندلائے ہوئے چٹخے ہوئےپہلے باہر کی طرف کھلتی تھیں افلاک کی جانباب یہ اندر بھی نہیں کھلتیں اگر سانس گھٹےابرآلود ہیں اباور ہواؤں میں بھی سوراخ پڑے ہیں
کیسے بنائی تو نے یہ کائنات پیاریحیران ہو رہی ہے عقل و خرد ہماریکلیاں مہک رہی ہیں اعجاز ہے یہ تیراخوشبو کہاں سے آئی اک راز ہے یہ تیرابلبل کے چہچہوں نے حیران کر دیا ہےانساں کے قہقہوں نے حیران کر دیا ہےششدر ہوں دیکھ کے میں اڑتے ہیں کیسے پنچھیدریا میں دیکھتا ہوں جاتے ہیں کیسے مانجھیکس طرح بے ستوں یہ تو نے فلک بنایاآنچل کو تو نے اس کے باروں سے جگمگایاکس طرح کی ہیں پیدا برسات کی گھٹائیںکس طرح چل رہی ہیں پر کیف یہ ہوائیںدریا پہاڑ جنگل کس طرح بن گئے ہیںیہ بات عقل والے ہر وقت سوچتے ہیںکس طرح تو نے مولا انسان کو بنایااکثر میں سوچتا ہوں کیسا ہے تو خدایا
وہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیںوہ مر چکا ہےوہ مر چکا ہےکہ جس کی خاطر نگر کی نو عمر لڑکیوں نےبدن کی خوش رنگ زینتوں کوچھپا کے رکھاجنہوں نے بیتاب حدتوں کوبدن کی پھٹ پڑتی شدتوں کوسنبھالے رکھاجنہوں نے آنکھوں کے نم کو شرم و حیا کے آنچل کی اوٹ ڈھانپاوہ مر چکا ہےوہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںبدل کے وہ بھیس بادلوں کاہمارے تازہ کنوارے جسموں کی سوندھی مٹی سے آ کے لپٹےہمارا خون بوند بوندگوندھےہم اس کے سائے سے حاملہ ہوںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںکبھی وہ گونجے گجر کی صورتہمارے سنسان گنبدوں میںکبھی وہ بھڑکے الاؤ بن کرہمارے تا یک طاقچوں میںکبھی وہ جسموں کی بنسیوں میںشگاف ڈالےلذیذ دردیلا گیت بن کرلبوں سے نکلےکبھی وہ چمکے ستارہ بن کرہماری کوکھوں میں پھول مہکیںہماری کوکھوں میں پھل جنم لےنگر کی سب لڑکیاں پکاریںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںہماری خواہش وہ دودھ بن کرہماری زرخیز چھاتیوں کی نمی میں اترےہماری خواہش ہمارے بچےاسی کے ہاتھوں میں آنکھ کھولیںہم اس کے سائے سے حاملہ ہوںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںکبھی وہ پچھلے پہر دریچوں پہ کھلتے مہتاب سے یہ کہتیںکہاں ہے وہ شہسوار جس کوبوقت رخصت گلے میں ہم نےسفید پھولوں کے ہار ڈالےوہ پھول کب سرخ پھول بن کرہماری ویران خواب گاہوں کی سیج ہوں گےسیندور کب کب میں میں گایہ پھول کب سرخ پھول ہوں گےکبھی وہ تنہا بر آمدے کے ستون سے لپٹیلچکتی بیلوں کے زرد پتوں سے پوچھتیں یہبہار کی رت کہاں کھڑی ہےیہ پھول اب کس سے کھلیں گےبہار کی رت ابھی کہاں ہےہر اک مسافر کو روکتیں وہبتاؤ وہ شہسوار اب کبنگر کو لوٹے گا پوچھتیں وہکنوارے لمحوں کا بھید کنوارہکنوارے گیتوں کی لے کنواریکنوارے جسموں کی کچی کلیوں کا نم کنوارہنگر کی تمام نو عمر لڑکیوں نےکلی کلی کو سنبھالے رکھاکہ وہ اگر آئے اوس بن کرتو قطرہ قطرہ کلی میں اترےکلی کو کھولےمگر وہ لفظوں کے دائروں کے سفر سے گزراپرانی سنسان سیڑھیوں کے بھنور سے نکلاجو گھر سے باہر ہزار انجانے راستوں پر بکھر گیا تھاکہ بجھتے سورج کا کھوج پائےہر ایک سائے کا بھید کھولےجو اپنی آنکھوں میں خواہشوں کا الاؤ لے کراندھیرے جنگل میں چل رہا تھاجو پوچھتا تھاگیان کیا ہےجو پوچھتا تھا نجات کس میں ہےاصل کیا ہےوہ مر چکا ہےوہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیں
ہر کام چل رہا ہے یہاں پر بیان سےسرکار کے ستون تو رہتے ہیں شان سےقرضہ تو مل رہا ہے ہمیں ہر دکان سےخیرات آ رہی ہے بڑی آن بان سےسب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیاوعدہ لپیٹ لو جو لنگوٹی نہیں تو کیا
تمہاری آنکھوں ہی میں ہے سب کچھتمہاری آنکھوں میں سب جہاں ہےتمہاری پلکوں کے نیچے دھرتیتمہاری پلکوں پر آسماں ہےتمہارے ہاتھوں کی جنبشوں میںہے جوئے رنگ بہار دیکھونہ دیکھو اس بےستون غم کوتم اپنے تیشوں کی دھار دیکھو
سفیر لیلیٰ یہی کھنڈر ہیں جہاں سے آغاز داستاں ہےذرا سا بیٹھو تو میں سناؤںفصیل قریہ کے سرخ پتھر اور ان پہ اژدر نشان برجیں گواہ قریہ کی عظمتوں کیچہار جانب نخیل طوبیٰ اور اس میں بہتے فراواں چشمےبلند پیڑوں کے ٹھنڈے سائے تھے شاخ زیتوں اسی جگہ تھییہی ستوں تھے جو دیکھتے ہو پڑے ہیں مردہ گدھوں کے ماننداٹھائے رکھتے تھے ان کے شانے عظیم قصروں کی سنگیں سقفیںیہی وہ در ہیں سفیر لیلیٰ کہ جن کے تختے اڑا لیے ہیں دنوں کی آوارہ صرصروں نےیہیں سے گزری تھیں سرخ اونٹوں کی وہ قطاریںکہ ان کی پشتیں صنوبروں کے سفید پالان لے کے چلتیںاٹھائے پھرتیں جوان پریوں کی محملوں کویہ صحن قریہ ہے ان جگہوں پر گھنی کجھوروں کی سبز شاخیںفلک سے تازہ پھلوں کے خوشے چرا کے بھرتی تھیں پہلوؤں میںسفید پانی کے سو کنویں یوں بھرے ہوئے تھےکہ چوڑی مشکوں کو ہاتھ بھر کی ہی رسیاں تھیںمضاف قریہ میں سبزہ گاہیں اور ان میں چرتی تھیں فربہ بھیڑیںشمال قریہ میں نیل گائیں منار مسجد سے دیکھتے تھےپرے ہزاروں کبوتروں کے فصیل قریہ سے گنبدوں تکپروں کو زوروں سے پھڑپھڑاتے تھے اور صحنوں میں دوڑتے تھےیہیں تھا سب کچھ سفیر لیلیٰاسی جگہ پر جہاں ببولوں کے خار پھرتے ہیں چوہیوں کی سواریوں پرجہاں پرندوں کو ہول آتے ہیں راکھ اڑتی ہے ہڈیوں کییہی وہ وحشت سرا ہے جس میں دلوں کی آنکھیں لرز رہی ہیںسفیر لیلیٰ تم آج آئے ہو تو بتاؤںترے مسافر یہاں سے نکلے افق کے پربت سے اس طرف کووہ ایسے نکلے کہ پھر نہ آئےہزار کہنہ دعائیں گرچہ بزرگ ہونٹوں سے اٹھ کے بام فلک پہ پہنچیںمگر نہ آئےاور اب یہاں پر نہ کوئی موسم نہ بادلوں کے شفیق سائےنہ سورجوں کی سفید دھوپیںفقط سزائیں ہیں اونگھ بھرتی کریہہ چہروں کی دیویاں ہیںسفیر لیلیٰیہاں جو دن ہیں وہ دن نہیں ہیںیہاں کی راتیں ہیں بے ستارہسحر میں کوئی نمی نہیں ہے
یہ دیش کہ ہندو اور مسلم تہذیبوں کا شیرازہ ہےصدیوں کی پرانی بات ہے یہ پر آج بھی کتنی تازہ ہےتاریخ ہے اس کی ایک عمل تحلیلوں کا ترکیبوں کاسمبندھ وہ دو آدرشوں کا سنجوگ وہ دو تہذیبوں کاوہ ایک تڑپ وہ ایک لگن کچھ کھونے کی کچھ پانے کیوہ ایک طلب دو روحوں کے اک قالب میں ڈھل جانے کیدو شمعوں کی لو پیچاں جیسے اک شعلۂ نو بن جانے کیدو دھاریں جیسے مدرا کی بھرتی ہوئی کسی پیمانے کییوں ایک تجلی جاگ اٹھی نظروں میں حقیقت والوں کیجس طرح حدیں مل جاتی ہوں دو سمت سے دو اجیالوں کیآوازۂ حق جب لہرا کر بھگتی کا ترانہ بنتا ہےیہ ربط بہم یہ جذب دروں خود ایک زمانہ بنتا ہےچشتی کا قطب کا ہر نعرہ یک رنگی میں ڈھل جاتا ہےہر دل پہ کبیر اور تلسی کے دوہوں کا فسوں چل جاتا ہےنانک کا کبت بن جاتی ہے میرا کا بھجن بن جاتا ہےدل دل سے جو ہم آہنگ ہوئے اطوار ملے انداز ملےاک اور زباں تعمیر ہوئی الفاظ سے جب الفاظ ملےیہ فکر و بیاں کی رعنائی دنیائے ادب کی جان بنییہ میرؔ کا فن چکبستؔ کی لے غالبؔ کا امر دیوان بنیتہذیب کی اس یکجہتی کو اردو کی شہادت کافی ہےکچھ اور نشاں بھی ملتے ہیں تھوڑی سی بصیرت کافی ہےتعمیر کے پردے میں بھی کئی بے لوث فسوں مل جاتے ہیںرنپور کے مندر میں ہم کو مسجد کے ستوں مل جاتے ہیںوحدت کی اسی چنگاری سے دل موم ہوا ہے پتھر کااجمیر کی جامع مسجد میں خود عکس ہے اجنبی مندر کاپھر اور ذرا یہ فن بڑھ کر مانند غزل بن جاتا ہےمرمر کی رو پہلی چاندی سے اک تاج محل بن جاتا ہےیہ نقش بہم تہذیبوں کا موجود ہے سو تصویروں میںمنصورؔ منوہرؔ دولتؔ اور ہاشمؔ کی سبک تحریروں میںدل ساتھ دھڑکتے آئے ہیں خود ساز پتا دے دیتے ہیںترتیب سروں کی کیسے ہوئی خود راگ صدا دے دیتے ہیں
سرخ پھولوں سے لہو پھوٹ رہا ہے شایدآج جنت میں جہنم کے نظارے دیکھوآج مزدور کے ماتھے کا پسینہ بن کرآسمانوں سے بھی ٹوٹیں گے ستارے دیکھوآج محکوم نگاہوں کو جلال آیا ہےراکھ کی گود میں پلتے ہیں شرارے دیکھوآج ایوان حکومت کے ستوں کانپ اٹھےکس طرح مڑ گئے یہ خون کے دھارے دیکھوجبر اور ظلم کی تاریخ بدل جائے گیآج بدلی ہوئی دنیا کے اشارے دیکھوآج آنکھوں سے نیا گیت سناتے جاؤخون سے وقت کی یہ آگ بجھاتے جاؤ
غریب ہند نے تنہا نہیں یہ داغ سہاوطن سے دور بھی طوفان رنج و غم کا اٹھاحبیب کیا ہیں حریفوں نے یہ زباں سے کہاسفیر قوم جگر بند سلطنت نہ رہاپیام شہ نے دیا رسم تعزیت کے لیےکہ تو ستون تھا ایوان سلطنت کے لیے
کسی کمرے کسی ویرانے میںکسی مسجد کسی مے خانہ میںکسی پتھر کے ستوں سے ٹک کرکسی دیوار کے سینے سے لگائے ہوئے سرسو گئی رات بہت دیر ہوئیچاند بھی ڈوب گیاتارے بد خواہ پڑوسی کی طرح غور سے دیکھ رہے ہیںکہ کسی اور پڑوسی کے یہاںروشنی کیسی ہے کیا ہوتا ہےآؤایسے میں نے دیکھے دیکھے گا کوئیآؤ اور مجھ کو چرا لے جاؤ
میرے مشکیزے میں پانی نہیں تھامیرے پاؤں ننگے تھےمجھے کسی منزل کا پتا نہیں تھااور کسی سمت کا تعین تک کرنے سےمیں قاصر تھامیرے پاس بس ایک ہی راستہ رہ گیا تھاسو میں نے اپنے پاؤں سے کانٹا نکالااور ریت میں بو دیاچند گھنٹوں میں وہ ایک سایہ دار درخت میں تبدیل ہو گیااور اس میں عجیب و غریب پھل پیدا ہو گئےمیں زہریلےاور غیر زہریلے پھلوں میں تمیز نہیں کر سکتا تھااور میرے لیےکوئی من و سلویٰ بھی آسمان سے اترتا نہیں تھاسو میں نے ان پھلوں کو رغبت سے کھایااتنے میں شام ہو گئیاور صحرا کی تاریکی میںصحرا کے زہریلے کیڑے مکوڑےاپنے بلوں سے نکل کر میرے بدن سے چمٹ گئےکرسی پر نیم دراز ہو جاتا ہےہم دونوںکوئی بات نہیں کرتےنہ سگریٹ جلانے کے لیےایک دوسرے کو لائٹر پیش کرتے ہیںاس کا بس چلے تو وہ مجھے ہلاک کر دےمیرے بھی اس کے بارے میںیہی کچھ جذبات ہیںاس کے باوجودجب بھی میں اسے بلاتا ہوںوہ آ جاتا ہےمیرے بلاوے میں نہ اصرار ہوتا ہےنہ دھمکینہ کوئی شرطیہ وہ بھی جانتا ہےمیرے بلاوے میںکسی خواہش کی رمق نہیںہم دونوںکسی بھی دناپنے قریب ترین ستون کی اوٹ لے کرایک دوسرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیںلیکنزندہ بچنے والے کے مقابلے میںمر جانے والازیادہ خوش نصیب ثابت ہوگابچنے والے کوہلاک ہونے والے کا جسماٹھا کر چلنا ہوگااس کے خون آلود کپڑے اتار کراسے صاف ستھرے کپڑے پہنانے ہوں گےمرنے والے کی لاش کوکسی بھی قسم کے خورد بینی کیڑوں سےمحفوظ رکھنے کے لیےجتن کرنا ہوں گےپھر اس کی لاش کوسہارا دے کرکسی آرام دہ کرسی پر بیٹھانا ہوگااس کے منہ سے سگریٹ لگانا ہوگااسے لائٹر بھی پیش کرنا ہوگابلکہ اس کی موت کواپنی موت سمجھتے ہوئےدو قبریںبرابر کھودنی ہوں گیبسیں اور کاریں ان کے قریب آ کردرختوں کو چھوتی ہیںاور انہیںسڑک کے دائیں یا بائیں ہٹانے میں جٹ جاتی ہیںلیکن اسی دورانشراب کی بو انہیں بھیبد مست کر دیتی ہےوہ بھی سڑک کے بیچوں بیچ ناچنے لگتی ہیںپھر تو بل کھاتی سڑک بھیاٹھ کھڑی ہوتی ہےاور ٹھمکے لگانے لگتی ہےگھر تھرتھرا اٹھتے ہیںان میں سوئے ہوئے مکینہڑبڑا کر جاگ جاتے ہیںانہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتاشرابی درختوںنشے میں دھت بسوں، کاروںاور بد مست ناچتی سڑک کوشہر میں بسنے والے لوگوں کیکوئی پروا نہیں
اٹھو باؤلے اب تمہیں کس تمنا نے منزل کا دھوکا دیا ہےکہ تم سانس کی اوٹ میں چپ کھڑے سوچتے ہویہاں ہر نفس بے صدا ہےیہاں ہر گھڑی اب سسکتی سی زنجیرہر اک وفا تیرگی کا ستوں ہےچلو خواہشیں ڈھونڈنےبن سنور کے چلو خواہشیں ڈھونڈنی ہیںنہیں تو یہی خامشی بھوت بن کرگھروں کے کواڑوں کے پیچھے ہمیشہ ڈراتی رہے گی
مرے سیل پہ یو کے سے فون آ گیا ہےیہ مجھ میں جو اک کارٹون آ گیا ہےاچھل کر دروں سے بروں آ گیا ہےکہ محفل میں جیسے بیون آ گیا ہےنہ سمجھو کہ مجھ پر جنون آ گیا ہےمیرے سیل پہ یو کے سے فون آ گیا ہےمگن ہو کے باتیں کیے جا رہا ہوںکبھی جا رہا ہوں کبھی آ رہا ہوںکھڑا ہو کے اب سر جو سہلا رہا ہوںنہ دیکھا کہ آگے ستون آ گیا ہےمرے سیل پہ یو کے سے فون آ گیا ہےجو اک سے شروع کی تو سب سے شروع کینہ پوچھو یہ اب بات کب سے شروع کیاکتیس مئی کی جو شب سے شروع کیتو باتوں ہی باتوں میں جون آ گیا ہےمرے سیل پہ یو کے سے فون آ گیا ہےیہ چلائیں نانی ارے کیا ہوا ہےکہ اک کان سے ہاتھ چپکا ہوا ہےابھی چپ لگی تھی ابھی ہنس رہا ہےابھی جوش تھا اب سکون آ گیا ہےمرے سیل پہ یو کے سے فون آ گیا ہے
وہ اجنبینوازشوں عنایتوں سےان کا جوش سرد جب نہ کر سکےتو نت نئی سزاؤں اور دھمکیوںگلی گلی لہو لہوسڑک سڑک دھواں دھواںمگر جنون شوق کی صدازمیں سے آسماںسزائیں سخت تھیں مگرمطالبہ عزیز تھانوازشیں عنایتیںسزائیں اور دھمکیاںصدائے حق جنون شوق دامنوں کی دھجیاںمقابلہ بھی خوب تھاکہاں زمین حرصاور کہاں جنوں کا آسماںمآل کشمکش وہی ہواجو ہونا چاہئےوہ اجنبی چلے گئےمکین اپنے گھر کو پا کےاپنے گھر کو پا کےاپنے گھر میں آ گئےوہ گھر کے جس کے واسطےلگا دی اپنی جان بھیجو مل گیا تو یوں ہواکہ جیسے کچھ نہیں ہواعجیب ماجرا ہے ابجنون عشق نے چراغ آرزو جلائے تھےاسی کی تیز لو سے یہ مکیناپنے گھر کو شوق سے جلا رہے ہیںسبز لان میں کیاریوں کے پھولاپنے پاؤں سے کچھ رہے ہیںسائبان کے ستون ڈھا رہے ہیںالغرضجو آج گھر کا حال ہےہمارے پاس لفظ ہی نہیںکہ ہم بیاں کریں
ہمارے گاؤں کا لہار اب درانتیاں بنا کے بیچتا نہیںوہ جانتا ہے فصل کاٹنے کا وقت کٹ گیا سروں کو کاٹنے کے شغل میںوہ جانتا ہے بانجھ ہو گئی زمین جب سے لے گئے نقاب پوش گاؤں کے مویشیوں کو شہر میںجو برملا صدائیں دے کے خشک خون بیچتے ہیں بے یقین بستیوں کے درمیاںاداس دل خموش اور بے زباں کباڑ کے حصار میں سیاہ کوئلوں سے گفتگوتمام دن گزارتا ہے سوچتا ہے کوئی بات روح کے سراب میںکریدتا ہے خاک اور ڈھونڈتا ہے چپ کی وادیوں سے سرخ آگ پر وہ ضربجس کے شور سے لہار کی سماعتیں قریب تھیںبجائے آگ کی لپک کے سرد راکھ اڑ رہی ہے دھونکنی کے منہ سےراکھ جس کو پھانکتی ہے جھونپڑی کی خستگیسیاہ چھت کے ناتواں ستون اپنے آنکڑوں سمیت پیٹتے ہیں سرحرارتوں کی بھیک مانگتے ہیں جھونپڑی کے بام و درجو بھٹیوں کی آگ کے حریص تھےدھوئیں کے دائروں سے کھینچتے تھے زندگیمگر عجیب بات ہے ہمارے گاؤں کا لہار جانتا نہیںوہ جانتا نہیں کہ بڑھ گئی ہیں سخت اور تیز دھار خنجروں کی قیمتیںسو جلد بھٹیوں کا پیٹ بھر دے سرخ آگ سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books