aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "thithure"
مگر ان درختوں کے سائے میں اے دلہزاروں برس کے یہ ٹھٹھرے سے پودےہزاروں برس کے یہ سمٹے سے پودےیہ ہیں آج بھی سرد بے حال بے دمیہ ہیں آج بھی اپنے سر کو جھکائےارے او نئی شان کے میرے سورجتری آب میں اور بھی تاب آئے
کون گستاخ ہے کیا نام ہے کیوں آیا ہےپہرے والو اسے خنجر کی انی سے روکواپنی بندوقوں کی نالی سے ڈراؤ اس کواور اس پر جو نہ مانے اسے توپوں کی سلامی دے دوجشن کا دن ہے مری سالگرہ کا دن ہےآج محلوں میں جلیں گے مہ و انجم کے چراغآج بجھتے ہوئے چہروں کی ضرورت کیا ہےآج مایوس نگاہوں کی ضرورت کیا ہےکون بے باک ہے بڑھتا ہی چلا آتا ہےپہرے والو اسے خنجر کی انی سے روکوآدمی ہے کہ مرا وہم ہے آسیب ہے یہاس کے چہرے پہ تو زخموں کے نشاں تک بھی نہیںگولیاں اس کے سیہ سینے سے ٹکرا کے چلی آتی ہیںاس کے ہونٹوں پہ تبسم ہے کہ منہ کھولے ہوئےاژدہا تخت نگلنے کو چلا آتا ہےموت کس بھیس میں آئی ہے مجھے لینے کوآج کیوں آئی ہے کیوں آئی ہے کیوں آئی ہےمیں تجھے گوہر و الماس دئے دیتا ہوںتیرے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھوں کو حرارت دوں گاجشن کا دن ہے مری سالگرہ کا دن ہےکون ہو کون ہو تماے غریبوں کے خداوند امیروں کے رفیقمیں سمجھتا تھا مجھے آپ نہ پہچانیں گےمیں نے انگریز کی جیلوں میں جوانی کاٹیمیں نے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھوں سے جلائے ہیں دئےجن کی لو آج بھی طوفانوں سے ٹکراتی ہےجن کو انگریز کی پھونکوں نے بجھانا چاہااور خود ان کی زباں جل کے سیہ فام ہوئیوہ دیے آج بھی برلاؤں کی چیخوں سے لڑے جاتے ہیںآپ کو یاد نہ ہوگا شایدکون ہو کون ہو تممیں نے تاریخ کی لہروں میں روانی دے دیمیں نے بوڑھوں کی رگ و پے میں جوانی دے دیمیں نے جھکتے ہوئے شانوں کو توانائی دیکارخانے مری آواز سے بیدار ہوئےاور اک میری ہی آواز نہیں گونجی تھیسیکڑوں وقت سے ہارے ہوئے انسان اٹھےکہرۂ وقت پہ چھانے کے لئےکون ہو کون ہو تماوراق میں ہی نہیں آیا ہوںسیکڑوں وقت کے مارے ہوئے انسان بھی ہیںسیکڑوں وقت پہ چھائے ہوئے انسان بھی ہیںکون ہو کون ہو تمآج بھی کھیتیوں میں بھوک اگا کرتی ہےکارخانوں میں دھوئیں کے بادلطوق اور آہنی زنجیروں میں ڈھل جاتے ہیںکون ہو کون ہو تمآپ انسان کی عظمت پہ یقیں رکھتے ہیںآپ کے حکم نے کتنوں کی زبانیں سی دیںآپ کی مملکت عدل میں کتنے بیمارقید تنہائی میں دم توڑ چکےکون ہو کون ہو تمآپ کی بیڑیاں افراد کو پابند بنا سکتی ہیںآپ کی بیڑیاں انسان کو پابند نہیں کر سکتیںکل یہی شمع جو سینے میں فروزاں ہے آجآپ کے سارے طلسمات جلا ڈالے گیکل انہیں کھیتوں میں اجڑے ہوئے کھلیانوں میںسالہا سال کی پامال زمیںاپنے سینے کے خزانوں کو لٹاتی ہوگیکارخانے بھی سیہ کار خداؤں سے رہائی پا کرلاکھوں انسانوں کی تسکین کا ساماں ہوں گےاک نئے عہد نئی زیست کا عنواں ہوں گےاور پھر وقت کا بے باک مورخ آ کرسرخ پرچم کو سلامی دے گاکون ہو کون ہو تمبھاردواج
محبت کی بھی کوئی عمر ہوتی ہےمیں خود سے پوچھتا ہوںاور پھر خود ہی جواب آنے سے پہلےمیں سمٹ جاتا ہوں اپنی ذات کےبرسوں پرانے خول کے اندراسی ٹھٹھرے ہوئےماحول کے اندر
یہ اچھے لوگ ہیں جب شام ہوتی ہےتو بے آواز گلیوں کے سہارےکنج گویائی میں اپنی آگ لینے جاتے ہیںاور راستے بھر خود کو پیغمبر سمجھتے ہیںیہ اچھے لوگ ہیں اور آگ ان کا مسئلہ ہےیہ اچھے لوگ ہیں صدیوں سے ان کی مائیں کہتی آ رہی ہیںپڑوسن آگ دینادھواں دیتے ہوئے چولھے کی صبحیںآنگنوں میں پھیلتے سائےکرنجی دھوپ بھوری آنکھ والی لڑکیوں جیسیوفا نا آشنا شامیںتوے کو سینکتے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھاور راتوں کی الجھتی سلوٹیںجسموں کی آسودہ صلیبیںاسپتالوں میں جنم دیتی ہوئی مرتی ہوئی مائیںیہ شمشانوں کی بیوائیںکئی صدیوں سے دہرائیںپڑوسن آگ دیناپڑوسن آگ خمیازہانہی رستوں کا آوازہانہی رستوں پہ چلنا اور یہی کہنایہ اچھے لوگ ہیں ان سے نہ ملنااور ملنا بھی تو ان کی آستینیں دیکھ لینا
کیسی گرہوں میں تار نفس ہے یہ الجھا ہواساری پیشانیوں پر لکیروں کا پھیلا ہوا جال ہےاس میں جکڑی گئیمسکراہٹ کہیںدھجیاں چار اطراف اڑنے لگیںکس کا ملبوس ہےہر نگر ہر گلیخوف ہی خوف ہےاگلی باری ہے کس کیکسی کو پتا تک نہیںمنہ چھپائے ہوئےطعنے، دشنام سہتے ہیں جو اجنبیاپنے ہی تو نہیںچار سو ہے رگیں کاٹتی زمہریری ہواسرد مہری کے برفاب موسم میںٹھٹھرے ہوئے ہونٹ ہیںاور زباں کی رگیں بھی تشنج سے کھچنے لگیںکیسا آسیب وحشت ہےکیوں سر سے ٹلتا نہیںآیتیں بھی ہمیں بھول جانے لگیںجبرئیل امیںسورۃ الناس اور الفلق پڑھ کے پھونکودلوں میںعقیدوں کی گرہیں پڑی ہیںیہ ہم سے تو کھلتی نہیں!
عجیب لوگ ہیںصحرا میں شہر میں گھر میںسلگتی ریت پہ ٹھٹھرے ہوئے سمندر میںخلا میں چاند کی بنجر زمیں کے سینے پرجو صبح و شام کی بے ربط راہ میں چپ چاپتعلقات کی تعمیر کرتے رہتے ہیںہوا کے دوش پہ طوفان زلزلہ سیلابدیا سلائی کی تیلی پہ ٹینک ایٹم بمکوئی جلوس کوئی پوسٹر کوئی تقریرامڈتی بھیڑ کا ہر ووٹ کوئی بیلٹ باکسپھسلتی کرسی کا جادو بسوں کی لمبی کیو،کہیں پہ صحن میں گوبر کہیں پہ گائے کا سرہر ایک گوشہ ہے شمشان قبر ہے بستراکیلا پھرتا ہے سنسان شہر میں کرفیوقریب گھور پہ چھتڑوں میں جسم کے ٹکڑےمہکتی رات سے جنمی ہوئی فسردہ صبحبگڑتے بنتے ہوئے زاویے کھسکتی اینٹتمام سلسلے بے ربط منقطع رشتےمگر وہ دوڑتے پیروں پہ اٹھتے بڑھتے ہاتھہر ایک جبر سے بے خوف بے نیازانہجو صبح و شام کی بے ربط راہ میں چپ چاپتعلقات کی تعمیر کرتے رہتے ہیںعجیب لوگ ہیں
چنانچہ سر شام ہم سب کسی خاندان فرنگی سے بہر ملاقات نکلےیہاں میرا ''ہم سب'' سے مطلب ہے وہ دوسرے ہم وطن اور پڑوسی کہ جو ملک افرنگ کی اس بڑیجامعہ میں حصول زر علم و دانش کو آئے ہوئے تھے''کسی'' سے یہ مطلب ہے ہم کو خبر تک نہیں تھی کہ ہم سب کہاں جا رہے ہیںکہاں کس کو کس شخص کی میزبانی ملے گیبہرحال یہ طائفہ اجنبی مہمانوں کا اک درمیانے سے گھر میزبانوں ہی کی رہنمائی میں پہونچاوہاں ہم سے پہلے بھی کچھ لوگ موجود تھےروایات بیگانگی فرنگی میں بستہطنابوں میں برفیلے ٹھٹھرے ہوئے یخ زدہ موسموں میں مقیدمگر جن کے چہروں پہ ان کی معیشت کے رسمی شگوفے کھلے تھےتعارف کی اک مختصر تیز ٹھنڈی سی گردانسو آخری نام کے آخری حرف کی ڈوبتی چند لہریںسو آخری ہاتھ کے کھردرے چند ریزےمرے حافظے میں تو کچھ بھی نہیں رہ گیا تھاچنانچہ تعارف کے سنگین فرشوں کو اک بار پھر سے کریدا تو دیکھاسطح سخت تھی اور ناخن بڑے نرم تھےاس اثنا میں اک خانم میزبان دونوں ہاتھوں میں سینی اٹھائےنبید مصفا و گل رنگ کے کچھ بلوریں پیالے سجائےبصد ناز و انداز آئیںابھی اس نبید مصفا کے دو چار چکر ہوئے تھےکہ بوسیدہ رسموں کی اونچی فصلیںتعصب کے تاریک زنداںتکلف کی چکنی منڈیریںتصنع کی پرخار باڑھیںسراسر یہ سب گر گئیں اور اجنبی ہم وطن بن گئے
چوگا چنتی چڑیا تیری پلکوں پر اگنے والےخوابوں کے انکھوئےکون چن سکتا ہےتو تو یہ بھی نہیں جانتیجانے کب کوئی میلی نظروں کا جال تجھ پر پھینکےاور تو بے نور آنکھوں کے پنجرے میں قید ہو کرتمام عمر کے لیےچہکنا بھول جائےچڑیا تو تو پگلی ہےچوگا چنتی خواب دیکھتی ہےتجھے کیا معلوم ہےکبھی کبھی خوابوں کی مانگ بھرنے کے لیےآنکھوں کی ویران کھڑکیوں سےٹھٹھرے ہوئے رت جگےبوند بوند دل کی زمین پر ٹپکتے ہیں تووہاں دور دور تک اداسی بھرا جنگلاگ آتا ہےجس پر سوائے دکھ درد کے کوئی پھل نہیں لگتامگر بھولی چڑیاتو یہ سب نہیں جانتیشاید کبھی جان بھی نہیں سکتی
شب و روز کے مشغلوں سے پرےکوئی ایسا بھی لمحہ ہےجس کے تصور میںکتنے شب و روزبے چین گزرےدھڑکتی ہوئی نبض ڈوبیآتی جاتی ہوئی سانسراہوں میں رکنے لگیاندھیروں کے طوفان میںایک کشتی بھیساحل سے اوجھل ہوئیکوئی جگمگاتا ستارہفلک کی بلندی سے گر کرکہیں کھو گیاسرد سارا بدن ہو گیااور پھرجیسے تاریک گوشے میںکوئی کرن مسکرائیکوئی آرزو ہنس پڑیگرمئ حسرت دل بھیٹھٹھرے ہوئے جسم میںتازگی بھر گئیچل پڑیپھر شب و روز کے مشغلوں سے لدیزنگ آلود گاڑی
کبھی کبھی اس پگھلتے لوہے کی گرم بھٹی میں کام کرتے،ٹھٹھرنے لگتا ہے یہ بدن جیسے سخت سردی میں بھن رہا ہو،بخار رہتا ہے کچھ دنوں سے
رب کا شکر ادا کر بھائیجس نے ہماری گائے بنائیاس مالک کو کیوں نہ پکاریںجس نے پلائیں دودھ کی دھاریںخاک کو اس نے سبزہ بنایاسبزے کو پھر گائے نے کھایاکل جو گھاس چری تھی بن میںدودھ بنی اب گائے کے تھن میںسبحان اللہ دودھ ہے کیساتازہ گرم سفید اور میٹھادودھ میں بھیگی روٹی میریاس کے کرم نے بخشی سیریدودھ دہی اور میٹھا مسکادے نہ خدا تو کس کے بس کاگائے کو دی کیا اچھی صورتخوبی کی ہے گویا مورتدانہ دنکا بھوسی چوکرکھا لیتی ہے سب خوش ہو کرکھا کر تنکے اور ٹھیٹھرےدودھ ہے دیتی شام سویرےکیا ہی غریب اور کیسی پیاریصبح ہوئی جنگل کو سدھاریسبزے سے میدان ہرا ہےجھیل میں پانی صاف بھرا ہےپانی موجیں مار رہا ہےچرواہا چمکار رہا ہےپانی پی کر چارا چر کرشام کو آئی اپنے گھر پردوری میں جو دن ہے کاٹابچے کو کس پیار سے چاٹاگائے ہمارے حق میں ہے نعمتدودھ ہے دیتی کھا کے بنسپتبچھڑے اس کے بیل بنائےجو کھیتی کے کام میں آئےرب کی حمد و ثنا کر بھائیجس نے ایسی گائے بنائی
دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا رہے اسے جلنے دواس آگ سے لوگو دور رہو ٹھنڈی نہ کرو پنکھا نہ جھلوہم رات دنا یوں ہی گھلتے رہیں کوئی پوچھے کہ ہم کو نا پوچھےکوئی ساجن ہو یا دشمن ہو تم ذکر کسی کا مت چھیڑوسب جان کے سپنے دیکھتے ہیں سب جان کے دھوکے کھاتے ہیںیہ دیوانے سادہ ہی سہی پر اتنے بھی سادہ نہیں یاروکس بیٹھی تپش کے مالک ہیں ٹھٹھری ہوئی آگ کے انگیارےتم نے کبھی سینکا ہی نہیں تم کیا سمجھو تم کیا جانو
میں اکثر سرد راتوں میںزمین خانۂ دل پراکیلے بیٹھ جاتا ہوںپھر اپنا سر جھکا کر یاد عہد رفتگاں دل میں سجاتا ہوںخیال ماضیٔ دوراں مرے اس جسم کے اندر عجب طوفاں اٹھاتا ہےہزاروں میل کا لمبا سفر پیدل کراتا ہےمیں یادوں کے دھندلکوں میں تمہارے نقش پا کو ڈھونڈنے جب بھی نکلتا ہوںتو اک تاریک وادی میں اترتا ہوںجہاں یادوں کی کچھ بے رنگ تصویریں مجھے بکھری پڑی معلوم دیتی ہیںمجھے آواز دیتی ہیںکہ وحشت کا یہ جنگل باہیں پھیلائے بلاتا ہےمرا شوق نظر تھک کر زمین پر بیٹھ جاتا ہےاچانک جب تمہاری یاد کے وحشی جانور آواز دیتے ہیںمیں ڈرتا ہوںکہ جیسے کوئی بچہ اپنے ہی سائے سے ڈر جائےکوئی شیشہ بکھر جائےکوئی فرقت میں گھبرائےمرے تار نفس پر ضرب کرتی مستقل دھڑکنمجھے رکنے نہیں دیتیمجھے تھکنے نہیں دیتییہ بے چینی مجھے پھر اک سفر پر لے کے آتی ہےمیں چلتا ہوںکہ جیسے اک مسافر بعد مدت اپنے گھر جائےٹھٹھرتی سرد راتوں میںکوئی جیسے کہ جم جائےکہ جیسے سانس تھم جائےمگر میرے مقدر میںسکون قلب و جاں کب ہےنگاہ یاس میں مبہم سہی کوئی نشاں کب ہےکہیں پر شورش امواج دریا ہےکہیں آواز قلقل ہےمگس کا شور ہے سرسر صبا کی آہ و گریہ ہےسو دل اپنا مچلتا ہےکسی سے کب بہلتا ہےدھواں اٹھتا ہے دل سے آنکھ میں طوفاں مچلتا ہےطبیعت زور کرتی ہےیہ دھڑکن شور کرتی ہےتمہاری یاد کے یہ چیختے اور پیٹتے لمحےمجھے رونے نہیں دیتےمجھے سونے نہیں دیتے
یہ کس نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کوتمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہےتصور اک نئے احساس کی جنت میں لے آیانگاہوں میں کوئی رنگین چہرہ مسکراتا ہےجبیں کی چھوٹ پڑتی ہے فلک کے ماہ پاروں پرضیا پھیلی ہوئی ہے سارا عالم جگمگاتا ہےشفق کے نور سے روشن ہیں محرابیں فضاؤں کیثریا کی جبیں زہرہ کا عارض تمتماتا ہےپرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیںنئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہےزمیں نے پھر نئے سر سے نیا رخت سفر باندھاخوشی میں ہر قدم پر آفتاب آنکھیں بچھاتا ہےہزاروں خواہشیں انگڑائیاں لیتی ہیں سینے میںجہان آرزو کا ذرہ ذرہ گنگناتا ہےامیدیں ڈال کر آنکھوں میں آنکھیں مسکراتی ہیںزمانہ جنبش مژگاں سے افسانے سناتا ہےمسرت کے جواں ملاح کشتی لے کے نکلے ہیںغموں کے ناخداؤں کا سفینہ ڈگمگاتا ہےخوشی مجھ کو بھی ہے لیکن میں یہ محسوس کرتا ہوںمسرت کے اس آئینے میں غم بھی جھلملاتا ہےہمارے دور محکومی کی مدت گھٹتی جاتی ہےغلامی کے زمانے میں اضافہ ہوتا جاتا ہےیہی انداز گر باقی ہیں اپنی سست گامی کےنہ جانے اور کتنے سال آئیں گے غلامی کے
سنو میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہےوہاں سردی بہت ہوگیاکیلے شام کو جب تم تھکے قدموں سے لوٹو گےتو گھر میں کوئی بھی لڑکیسلگتی مسکراہٹ سےتمہاری اس تھکاوٹ کوتمہارے کوٹ پر ٹھہری ہوئی بارش کی بوندوں کوسمیٹے گی نہ جھاڑے گینہ تم سے کوٹ لے کر وہ کسی کرسی کے ہتھے پراسے لٹکا کے اپنے نرم ہاتھوں سےچھوئے گی اس طرح جیسے تمہارا لمس پاتی ہوتم آتش دان کے آگے سمٹ کر بیٹھ جاؤ گےتو ایسا بھی نہیں ہوگاتمہارے پاس وہ آ کربہت ہی گرم کافی کا ذرا سا گھونٹ خود لے کروہ کافی تم کو دے کر تم سے یہ پوچھےکہو کیا تھک گئے ہو تمتم اپنی خالی آنکھوں سےیوں اپنے سرد کمرے کو جو دیکھو گے تو سوچو گےٹھٹھر کر رہ گیا سب کچھتمہاری انگلیوں کی سرد پوروں پرکسی رخسار کی نرمیکسی کے ہونٹ کی گرمیتمہیں بے ساختہ محسوس تو ہوگیمگر پھر سرد موسم کی ہوا کا ایک ہی جھونکاتمہیں بے حال کر دے گاتھکے ہارے ٹھٹھرتے سرد بستر پراکیلے لیٹ جاؤ گے
کیسے چلتے سمے وہ روئیگلے سے لگ کر بلک بلک کرپھر آنکھوں کو چومنا اس کا اچک اچک کردور ہٹنا اور دیکھنا مجھ کو ٹھٹک ٹھٹک کرگر پڑنا پھر کھلی ہوئی بانہوں میں تھک کرشام جدائیماں سے محبوبہ تک کتنے روپ تھے اس کے
مگر اکثر یہاں پر سال پیچھے ایسا ہوتا تھاکہ ہم اسکول جانے کو سویرے گھر سے نکلے توٹھٹک جاتے تھے پل بھر کوہم آنکھیں مل کے پھر سے دیکھتے جنگل میں منگل ہے
چاند بھی کمبل اوڑھے نکلا تھاستارہ ٹھٹھر رہیں تھےسردی بڑھ رہی تھیٹھنڈ سے بچنے کے لیےمجھے بھی کچھ رشتہ جلانے پڑے
بے کواڑ دروازےراہ دیکھتے ہوں گےطاق بے چراغوں کےاک کرن اجالے کیبھیک مانگتے ہوں گےکیوں جھجک گئے راہیکیوں ٹھٹک گئے راہیڈھونڈنے کسے جاؤانتظار کس کا ہوراستے میں کچھ ساتھیرہ بدل بھی جاتے ہیںپھر کبھی نہ ملنے کوکچھ بچھڑ بھی جاتے ہیںقافلہ کبھی ٹھہراقافلہ کہاں ٹھہراراہ کیوں کرے کھوٹیکس کا آسرا دیکھےچند کانچ کے ٹکڑےاک بلور کی گولیننھے منے ہاتھوں کاجن پہ لمس باقی ہےزاد راہ کافی ہےخشک ہو چکے گجرےکس گلے میں ڈالو گیبھولی بھٹکی خوشبوؤکس کی راہ روکو گیکس نے اشک پونچھے ہیںکس نے ہاتھ تھاما ہےاپنا راستہ ناپوبے کواڑ دروازےراہ دیکھتے ہوں گےکل نئی سحر ہوگیلاج سے بھری کلیاںکل بھی مسکرائیں گیکل کوئی نئی گوریادھ کھلی نئی کلیاںہار میں پروئے گی
فطرت کے پجاری کچھ تو بتا کیا حسن ہے ان گلزاروں میںہے کون سی رعنائی آخر ان پھولوں میں ان خاروں میںوہ خواہ سلگتے ہوں شب بھر وہ خواہ چمکتے ہوں شب بھرمیں نے بھی تو دیکھا ہے اکثر کیا بات نئی ہے تاروں میںاس چاند کی ٹھنڈی کرنوں سے مجھ کو تو سکوں ہوتا ہی نہیںمجھ کو تو جنوں ہوتا ہی نہیں جب پھرتا ہوں گلزاروں میںیہ چپ چپ نرگس کی کلیاں کیا جانے کیسی کلیاں ہیںجو کھلتی ہیں، جو ہنستی ہیں اور پھر بھی ہیں بیماروں میںیہ لال شفق یہ لالہ و گل اک چنگاری بھی جن میں نہیںشعلے بھی نہیں گرمی بھی نہیں ان تیرے آتش زاروں میںاس وقت کہاں تو ہوتا ہے جب موسم گرما کا سورجدوزخ کی تپش بھر دیتا ہے دریاؤں میں کہساروں میںجاڑے کی بھیانک راتوں میں وہ سرد ہواؤں کی تیزیہاں وہ تیزی وہ بے مہری جو ہوتی ہے تلواروں میںدریا کے تلاطم کا منظر ہاں تجھ کو مبارک ہو لیکناک ٹوٹی پھوٹی کشتی بھی چکراتی ہے منجدھاروں میںکوئل کے رسیلے گیت سنے لیکن یہ کبھی سوچا تو نےہیں الجھے ہوئے نغمے کتنے اک ساز کے ٹوٹے تاروں میںبادل کی گرج بجلی کی چمک بارش میں وہ تیزی تیروں کیمیں ٹھٹھرا سمٹا سڑکوں پر تو جام بہ لب مے خواروں میںسب ہوش و خرد کے دشمن ہیں سب قلب و نظر کے رہزن ہیںرکھا ہے بھلا کیا اس کے سوا ان راحت جاں مہ پاروں میںوہ لاکھ ہلالوں سے بھی حسیں کیسی زہرہ کیسی پرویںاک روٹی کا ٹکڑا جو کہیں مل جائے مجھے بازاروں میںجب جیب میں پیسے بجتے ہیں جب پیٹ میں روٹی ہوتی ہےاس وقت یہ ذرہ ہیرا ہے اس وقت یہ شبنم موتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books