aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ugaa.e.nge"
بیج بوئیں گے پھول اگائیں گےاور یہ کام جا بہ جا کریں گے
ہم اپنی ناقدانہ کاوشوں کو جگمگائیں گےہم اپنی نثر میں الفاظ کا جادو جگائیں گےغزل کے روپ میں احساس کی شمعیں جلائیں گےتلاش روشنی میں اب بھٹکنے کی ضرورت کیاہم اپنے اندروں سے اک نیا سورج اگائیں گےتوانائی قلم میں ہے لہو میں آگ روشن ہےہمارا درد زندہ ہے ہمارے خواب روشن ہیں
وہ لمحے کل جو آئیں گےنیا سورج اگائیں گے
آنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا ہر جذب نہاں پر رو دیناآہنگ طرب پر جھک جانا آواز فغاں پر رو دینابربط کی صدا پر رو دینا مطرب کے بیاں پر رو دینا
مشتعل ہو کے ابھی اٹھیں گے وحشی سائےیہ چلا جائے گا رہ جائیں گے باقی سائےرات بھر جن سے ترا خون خرابا ہوگاجنگ ٹھہری ہے کوئی کھیل نہیں ہے اے دلدشمن جاں ہیں سبھی سارے کے سارے قاتلیہ کڑی رات بھی یہ سائے بھی تنہائی بھیدرد اور جنگ میں کچھ میل نہیں ہے اے دللاؤ سلگاؤ کوئی جوش غضب کا انگارطیش کی آتش جرار کہاں ہے لاؤوہ دہکتا ہوا گلزار کہاں ہے لاؤجس میں گرمی بھی ہے حرکت بھی توانائی بھی
لیکن میں یہاں پھر آؤں گابچوں کے دہن سے بولوں گاچڑیوں کی زباں سے گاؤں گاجب بیج ہنسیں گے دھرتی میںاور کونپلیں اپنی انگلی سےمٹی کی تہوں کو چھیڑیں گیمیں پتی پتی کلی کلیاپنی آنکھیں پھر کھولوں گاسر سبز ہتھیلی پر لے کرشبنم کے قطرے تولوں گامیں رنگ حنا آہنگ غزلانداز سخن بن جاؤں گارخسار عروس نو کی طرحہر آنچل سے چھن جاؤں گاجاڑوں کی ہوائیں دامن میںجب فصل خزاں کو لائیں گیرہ رو کے جواں قدموں کے تلےسوکھے ہوئے پتوں سے میرےہنسنے کی صدائیں آئیں گیدھرتی کی سنہری سب ندیاںآکاش کی نیلی سب جھیلیںہستی سے مری بھر جائیں گیاور سارا زمانہ دیکھے گاہر قصہ مرا افسانہ ہےہر عاشق ہے سردارؔ یہاںہر معشوقہ سلطانہؔ ہے
وہ وقت کبھی تو آئے گا جب دل کے چمن لہرائیں گےمر جاؤں تو کیا مرنے سے مرے یہ خواب نہیں مر جائیں گےیہ خواب ہی میری دولت ہیں یہ خواب تمہیں دے جاؤں گااس دہر میں جینے مرنے کے آداب تمہیں دے جاؤں گاممکن ہے کہ یہ دنیا کی روش پل بھر کو تمہارا ساتھ نہ دےکانٹوں ہی کا تحفہ نذر کرے پھولوں کی کوئی سوغات نہ دےممکن ہے تمہارے رستے میں ہر ظلم و ستم دیوار بنےسینے میں دہکتے شعلے ہوں ہر سانس کوئی آزار بنےایسے میں نہ کھل کر رہ جانا اشکوں سے نہ آنچل بھر لیناغم آپ بڑی اک طاقت ہے یہ طاقت بس میں کر لیناہو عزم تو لو دے اٹھتا ہے ہر زخم سلگتے سینے کاجو اپنا حق خود چھین سکے ملتا ہے اسے حق جینے کالیکن یہ ہمیشہ یاد رہے اک فرد کی طاقت کچھ بھی نہیںجو بھی ہو اکیلے انساں سے دنیا کی بغاوت کچھ بھی نہیںتنہا جو کسی کو پائیں گے طاقت کے شکنجے جکڑیں گےسو ہاتھ اٹھیں گے جب مل کر دنیا کا گریباں پکڑیں گےانسان وہی ہے تابندہ اس راز سے جس کا سینا ہےاوروں کے لیے تو جینا ہی خود اپنے لیے بھی جینا ہے
مرے سرکش ترانے سن کے دنیا یہ سمجھتی ہےکہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں سے نفرت ہےمجھے ہنگامہ جنگ و جدل میں کیف ملتا ہےمری فطرت کو خوں ریزی کے افسانے سے رغبت ہےمری دنیا میں کچھ وقعت نہیں ہے رقص و نغمہ کیمرا محبوب نغمہ شور آہنگ بغاوت ہےمگر اے کاش دیکھیں وہ مری پرسوز راتوں کومیں جب تاروں پہ نظریں گاڑ کر آنسو بہاتا ہوںتصور بن کے بھولی وارداتیں یاد آتی ہیںتو سوز و درد کی شدت سے پہروں تلملاتا ہوںکوئی خوابوں میں خوابیدہ امنگوں کو جگاتی ہےتو اپنی زندگی کو موت کے پہلو میں پاتا ہوںمیں شاعر ہوں مجھے فطرت کے نظاروں سے الفت ہےمرا دل دشمن نغمہ سرائی ہو نہیں سکتامجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نےمرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتاجواں ہوں میں جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ہےمری باتوں میں رنگ پارسائی ہو نہیں سکتامری سرکش ترانوں کی حقیقت ہے تو اتنی ہےکہ جب میں دیکھتا ہوں بھوک کے مارے کسانوں کوغریبوں مفلسوں کو بے کسوں کو بے سہاروں کوسسکتی نازنینوں کو تڑپتے نوجوانوں کوحکومت کے تشدد کو امارت کے تکبر کوکسی کے چیتھڑوں کو اور شہنشاہی خزانوں کوتو دل تاب نشاط بزم عشرت لا نہیں سکتامیں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا
ماں ہے ریشم کے کارخانے میںباپ مصروف سوتی مل میں ہےکوکھ سے ماں کی جب سے نکلا ہےبچہ کھولی کے کالے دل میں ہےجب یہاں سے نکل کے جائے گاکارخانوں کے کام آئے گااپنے مجبور پیٹ کی خاطربھوک سرمائے کی بڑھائے گاہاتھ سونے کے پھول اگلیں گےجسم چاندی کا دھن لٹائے گاکھڑکیاں ہوں گی بینک کی روشنخون اس کا دئیے جلائے گایہ جو ننھا ہے بھولا بھالا ہےصرف سرمائے کا نوالا ہےپوچھتی ہے یہ اس کی خاموشیکوئی مجھ کو بچانے والا ہے
ظلم کی رات بہت جلد ٹلے گی اب توآگ چولہوں میں ہر اک روز جلے گی اب توبھوک کے مارے کوئی بچہ نہیں روئے گاچین کی نیند ہر ایک شخص یہاں سوئے گاآندھی نفرت کی چلے گی نہ کہیں اب کے برسپیار کی فصل اگائے گی زمیں اب کے برسہے یقیں اب نہ کوئی شور شرابہ ہوگاظلم ہوگا نہ کہیں خون خرابا ہوگااوس اور دھوپ کے صدمے نہ سہے گا کوئیاب مرے دیش میں بے گھر نہ رہے گا کوئینئے وعدوں کا جو ڈالا ہے وہ جال اچھا ہےرہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہےدل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
چراغ دیر فانوس حرم قندیل رہبانییہ سب ہیں مدتوں سے بے نیاز نور عرفانینہ ناقوس برہمن ہے نہ آہنگ ہدیٰ خوانیمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں
محبت ڈائری ہرگز نہیں ہےجس میں تم لکھوکہ کل کس رنگ کے کپڑے پہننے کون سی خوشبو لگانی ہےکسے کیا بات کہنی کون سی کس سے چھپانی ہےکہاں کس پیڑ کے سائے تلے ملنا ہےمل کر پوچھنا ہےکیا تمہیں مجھ سے محبت ہےیہ فرسودہ سا جملہ ہےمگر پھر بھی یہی جملہدریچوں آنگنوں سڑکوں گلی کوچوں میں چوباروں میںچوباروں کی ٹوٹی سیڑھیوں میںہر جگہ کوئی کسی سے کہہ رہا ہےکیا تمہیں مجھ سے محبت ہےمحبت ڈائری ہرگز نہیں ہےجس میں تم لکھوتمہیں کس وقت کس سے کس جگہ ملنا ہے کس کو چھوڑ جانا ہےکہاں پر کس طرح کی گفتگو کرنی ہے یا خاموش رہنا ہےکسی کے ساتھ کتنی دور تک جانا ہے اور کب لوٹ آنا ہےکہاں آنکھیں ملانا ہے کہاں پلکیں جھکانا ہےیا یہ لکھو کہ اب کی بار جب وہ ملنے آئے گاتو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کردھنک چہرے پہ روشن جگمگاتی رقص کرتی اس کی آنکھوں میں اتر جائیں گےاور پھر گلشن و صحرا کے بیچوں بیچ دل کی سلطنت میں خاک اڑائیں گےبہت ممکن ہے وہ عجلت میں آئےاور تم اس کا ہاتھ ہاتھوں میں نہ لے پاؤنہ آنکھوں ہی میں جھانکو اور نہ دل کی سلطنت کو فتح کر پاؤجہاں پر گفتگو کرنی ہے تم خاموش ہو جاؤجہاں خاموش رہنا ہے وہاں تم بولتے جاؤنئے کپڑے پہن کر گھر سے نکلو میلے ہو جاؤکوئی خوشبو لگانے کا ارادہ ہو تو شیشی ہاتھ سے گر جائےتم ویران ہو جاؤسفر کرنا سے پہلے بے سر و سامان ہو جاؤمحبت ڈائری ہرگز نہیں ہے آب جو ہےجو دلوں کے درمیاں بہتی ہے خوشبو ہےکبھی پلکوں پہ لہرائے تو آنکھیں ہنسنے لگتی ہیںجو آنکھوں میں اتر جائے تو منظر اور پس منظر میں شمعیں جلنے لگتی ہیںکسی بھی رنگ کو چھو لےوہی دل کو گوارا ہےکسی مٹی میں گھل جائےوہی مٹی ستارہ ہے
گیا دن ہوئی شام آئی ہے راتخدا نے عجب شے بنائی ہے راتنہ ہو رات تو دن کی پہچان کیااٹھائے مزہ دن کا انسان کیاہوئی رات خلقت چھٹی کام سےخموشی سی چھائی سر شام سےلگے ہونے اب ہاٹ بازار بندزمانے کے سب کار بہوار بندمسافر نے دن بھر کیا ہے سفرسر شام منزل پہ کھولی کمردرختوں کے پتے بھی چپ ہو گئےہوا تھم گئی پیڑ بھی سو گئےاندھیرا اجالے پہ غالب ہواہر اک شخص راحت کا طالب ہواہوئے روشن آبادیوں میں چراغہوا سب کو محنت سے حاصل فراغکسان اب چلا کھیت کو چھوڑ کرکہ گھر میں کرے چین سے شب بسرغریب آدمی جو کہ مزدور ہیںمشقت سے جن کے بدن چور ہیںوہ دن بھر کی محنت کے مارے ہوئےوہ ماندے تھکے اور ہارے ہوئےنہایت خوشی سے گئے اپنے گھرہوئے بال بچے بھی خوش دیکھ کرگئے بھول سب کام دھندھے کا غمسویرے کو اٹھیں گے اب تازہ دمکہاں چین یہ بادشہ کو نصیبکہ جس بے غمی سے ہیں سوتے غریب
وہ ایک عام سی لڑکی ہے جس کے سادہ نقوشچمک اٹھیں گے محبت کی سرد آہوں سےجہاں پہ پھول تو کیا دل بجھے ہوئے ہوں گےگزرنے والی ہے وہ ان حسین راہوں سےابھی تو خیر سے معصومیت ٹپکتی ہےمگر شراب بھی ٹپکے گی ان نگاہوں سےوہ ایک عام سی لڑکی ہے جس کے بارے میںنہ جانے ذہن میں آتے ہیں کیوں خیال کئیمگر بڑے ہی تحیر سے آج صبح کے وقتسنی ہے میں نے محلے میں ایک بات نئیگزشتہ شب کو وہی ایک عام سی لڑکیخود اپنے گھر کے ملازم کے ساتھ بھاگ گئی
مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناجنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیںاور ایسے مطمئن ہیں جیسے ان کونہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ کوئی دیکھ سکتا ہےمگر یہ وقت کی جاسوس نظریںجو پیچھا کرتی ہیں سب کا ضمیروں کے اندھیرے تکاندھیرا نور پر رہتا ہے غالب بس سویرے تکسویرا ہونے والا ہے(۲)مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناکچھ اندھے سورما جو تیر اندھیرے میں چلاتے ہیںصدا دشمن کا سینہ تاکتے خود زخم کھاتے ہیںلگا کر جو وطن کو داؤ پر کرسی بچاتے ہیںبھنا کر کھوٹے سکے دھرم کے جو پن کماتے ہیںجتا دو ان کو ایسے ٹھگ کبھی پکڑے بھی جاتے ہیں(۳)مرے بیٹے انہیں تھوڑی سی خودداری بھی دے دیناجو حاکم قرض لے کے اس کو اپنی جیت کہتے ہیںجہاں رکھتے ہیں سونا رہن خود بھی رہن رہتے ہیںاور اس کو بھی وہ اپنی جیت کہتے ہیںشریک جرم ہیں یہ سن کے جو خاموش رہتے ہیںقصور اپنا یہ کیا کم ہے کہ ہم سب ان کو سہتے ہیں(۴)مرے بیٹے مرے بعد ان کو میرا دل بھی دے دیناکہ جو شر رکھتے ہیں سینے میں اپنے دل نہیں رکھتےہے ان کی آستیں میں وہ بھی جو قاتل نہیں رکھتےجو چلتے ہیں انہیں رستوں پہ جو منزل نہیں رکھتےیہ مجنوں اپنی نظروں میں کوئی محمل نہیں رکھتےیہ اپنے پاس کچھ بھی فخر کے قابل نہیں رکھتےترس کھا کر جنہیں جنتا نے کرسی پر بٹھایا ہےوہ خود سے تو نہ اٹھیں گے انہیں تم ہی اٹھا دیناگھٹائی ہے جنہوں نے اتنی قیمت اپنے سکے کییہ ذمہ ہے تمہارا ان کی قیمت تم گھٹا دیناجو وہ پھیلائیں دامن یہ وصیت یاد کر لیناانہیں ہر چیز دے دینا پر ان کو ووٹ مت دینا
شکست مینا و جام برحق،شکست رنگ عذار محبوب بھی گوارامگر یہاں تو کھنڈر دلوں کے،(یہ نوع انساں کیکہکشاں سے بلند و برتر طلب کے اجڑے ہوئے مدائن۔)شکست آہنگ حرف و معنی کے نوحہ گر ہیں!
ساز آہنگ جنوں تار رگ جاں کے لئےبے خودی شوق کی بے سر و ساماں کے لئے
دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑباتیں ان کی ساری گڑبڑراہ چلیں تو رستہ بھولیںبس میں جائیں تو بستہ بھولیںپورب جائیں پچھم پہنچیںمنزل پر اپنی کم پہنچیںٹوپی ہے تو جوتا غائبجوتا ہے تو موزہ غائبپیالی میں ہے چمچہ الٹاپھیر رہے ہیں کنگھا الٹاکام ہے ان کا سارا الٹااور تو اور پجامہ الٹالوٹ پڑیں گے چلتے چلتےچونک اٹھیں گے بیٹھے بیٹھےسودا دے کر دام نہ دیں گےدام دئے تو چیز نہ لیں گےکوئی پکارے دام تو لاؤکوئی کہے بنڈل تو اٹھاؤتیرنے جائیں گھڑی بھول آئیںباغ میں جائیں چھڑی بھول آئیںوہ تو یہ کہئے کہ خدا نےجوڑ دئے ہیں اعضا تن سےباندھ رکھے ہیں سب کل پرزےورنہ ہر روز آپ یہ سنتےگر گئی میری داہنی چھنگلیڈھونڈ رہا ہوں بیچ کی انگلیکیا کہئے اوسان ہیں غائبکل سے دونوں کان ہیں غائبایک تو صابن دان میں پایاایک نہ جانے کس نے اڑایاران ایک لپٹی شال سے نکلیناک بندھی رومال میں نکلیتم نے تو نہیں دیکھی بھائیکھونٹی پر تھی کھال ہماریبھولے کہیں سر اور کہیں دھڑہائے بچارے بھائی بھلکڑ
رات اک رنگ ہے اک راگ ہے اک خوشبو ہےمہرباں رات مرے پاس چلی آئے گیرات کا نرم تنفس مجھے چھو جائے گادودھیا پھول چنبیلی کے مہک اٹھیں گےرات کے ساتھ مرا غم بھی چلا آئے گااب مرے خانۂ دل میں بھی چراغاں ہوگا
اے جوانان وطن روح جواں ہے تو اٹھوآنکھ اس محشر نو کی نگراں ہے تو اٹھوخوف بے حرمتی و فکر زیاں ہے تو اٹھوپاس ناموس نگاران جہاں ہے تو اٹھواٹھو نقارۂ افلاک بجا دو اٹھ کرایک سوئے ہوئے عالم کو جگا دو اٹھ کرایک اک سمت سے شبخون کی تیاری ہےلطف کا وعدہ ہے اور مشق جفا کاری ہےمحفل زیست پہ فرمان قضا جاری ہےشہر تو شہر ہے گاؤں پہ بھی بمباری ہےیہ فضا میں جو گرجتے ہوئے طیارے ہیںبرسر دوش ہوا موت کے ہرکارے ہیںاس طرف ہاتھوں میں شمشیریں ہی شمشیریں ہیںاس طرف ذہن میں تدبیریں ہی تدبیریں ہیںظلم پر ظلم ہیں تعزیروں پہ تعزیریں ہیںسر پہ تلوار ہے اور پاؤں میں زنجیریں ہیںایک ہو ایک کہ ہنگامۂ محشر ہے یہیعرصۂ زیست کا ہنگامۂ اکبر ہے یہیاپنی سرحد پہ جو اغیار چلے آتے ہیںشعلہ افشاں و شرر بار چلے آتے ہیںخون پیتے ہوئے سرشار چلے آتے ہیںتم جو اٹھ جاؤ تو بے کار چلے آتے ہیںخوں جو بہہ نکلا ہے اس خوں میں بہا دو ان کوان کی کھودی ہوئی خندق میں گرا دو ان کورنگ گلہائے گلستان وطن تم سے ہےسورش نعرۂ رندان وطن تم سے ہےنشۂ نرگس خوبان وطن تم سے ہےعفت ماہ جبینان وطن تم سے ہےتم ہو غیرت کے امیں تم ہو شرافت کے امیںاور یہ خطرے میں ہیں احساس تمہیں ہے کہ نہیںیہ درندے یہ شرافت کے پرانے دشمنتم کہ ہو حامل آداب و روایات کہنجادہ پیما کے لیے خضر ہو تم یہ رہزنتم ہو خرمن کے نگہبان یہ برق خرمنخطۂ پاک میں زنہار نہ آنے پائیںآ ہی جائیں جو یہ زندہ تو نہ جانے پائیںمرد و زن پیر و جواں ان کے مظالم کے شکارخون معصوم میں ڈوبی ہوئی ان کی تلواریہ قیامت کے ہوس ناک غضب کے خوں خاران کے عصیاں کی نہ حد ہے نہ جرائم کا شماریہ ترحم سے نہ دیکھیں گے کسی کی جانبان کی توپوں کے دہن کر دو انہی کی جانبیہ تو ہیں فتنۂ بیدار دبا دو ان کویہ مٹا دیں گے تمدن کو مٹا دو ان کوپھونک دو ان کو جھلس دو کہ جلا دو ان کوشان شایان وطن ہو یہ بتا دو ان کویاد ہے تم کو کن اسلاف کی تم یادیں ہوتم تو خالد کے پسر بھیم کی اولادیں ہوتم تو تنہا بھی نہیں ہو کئی دم ساز بھی ہیںروس کے مرد بھی ہیں چین کے جاں باز بھی ہیںکچھ نہ کچھ ساتھ فرنگی کے فسوں ساز بھی ہیںاور ہم جیسے بہت زمزمہ پرداز بھی ہیںدور انسان کے سر سے یہ مصیبت کر دوآگ دوزخ کی بجھا دو اسے جنت کر دو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books