aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "uqaab"
جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کےاشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیںنا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاببازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
مجھے معلوم تھایہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہےمیری ماتمی چادرنہیں تبدیل ہوگی آج کے دن بھیجو راکھ اڑتی تھی خوابوں کی بدن میںیوں ہی آشفتہ رہے گیاور اداسی کی یہی صورت رہے گیمیں اپنے سوگ میں ماتم کناںیوں سر بہ زانو رات تک بیٹھی رہوں گیاور مرے خوابوں کا پرسہ آج بھی کوئی نہیں دے گامگر یہ کون ہےجو یوں مجھے باہر بلاتا ہےبڑی نرمی سے کہتا ہےکہ اپنے حجرہ غم سے نکل کر باغ میں آؤذرا باہر تو دیکھودور تک سبزہ بچھا ہےاور ہری شاخوں پہ نارنجی شگوفے مسکراتے ہیںملائم سبز پتوں پر پڑی شبنمسنہری دھوپ میں ہیرے کی صورت جگمگاتی ہےدرختوں میں چھپی ندیبہت دھیمے سروں میں گنگناتی ہےچمکتے زرد پھولوں سے لدی ننھی پہاڑی کے عقب میںنقرئی چشمہ خوشی سے کھلکھلاتا ہےپرند خوش گلوشاخ شگفتہ پر چہکتا ہےگھنے جنگل میں بارش کا غبار سبزسطح شیشۂ دل پرملائم انگلیوں سے مرحبا کے لفظ لکھتا ہےکوئی آتا ہےآ کر چادر غم کو بڑی آہستگی سےمیرے شانوں سے ہٹا کرسات رنگوں کا دوپٹہ کھول کر مجھ کو اڑاتا ہےمیں کھل کر سانس لیتی ہوںمرے اندرکوئی پیروں میں گھنگھرو باندھتا ہےرقص کا آغاز کرتا ہےمرے کانوں کے آویزوں کو یہ کس نے چھواجس سے لویں پھر سے گلابی ہو گئی ہیںکوئی سرگوشیوں میں پھر سے میرا نام لیتا ہےفضا کی نغمگی آواز دیتی ہےہوا جام صحت تجویز کرتی ہے
مگر کوئی توڑے دے رہا ہےلرزتی مژگاں کے نشتروں کودلوں کے اندر اتارتا ہےکوئی سیاست کے خنجروں کوکسی کے زہریلے تیز ناخنعقاب کے پنجہ ہائے خونیںکی طرح آنکھوں پہ آ رہے ہیںگلاب سے تن مثال بسملزمین پر تلملا رہے ہیںجو پیاس پانی کی منتظر تھیوہ سولیوں پر ٹنگی ہوئی ہےوہ بھوک روٹی جو مانگتی تھیصلیب زر پر چڑھی ہوئی ہےیہ ظلم کیسا، ستم یہ کیا ہےمیں سوچتا ہوں یہ کیا جنوں ہےجہاں میں نان جویں کی قیمتکسی کی عصمت، کسی کا خوں ہے
تمام لفظوں میں روشن ہر اک باب میں ماںجنوں کے شیلف میں ہے عشق کی کتاب میں ماںاے ماں تو خوشبو کا نایاب استعارہ ہےاے ماں تو عود میں عنبر میں تو گلاب میں ماںخود اپنی ممتا میں ہی نور کا سمندر ہےنہیں ہے اور کسی روشنی کی تاب میں ماںوہ جسم کھو کے بدل سی گئی ہے کچھ مجھ میںتھی پہلے صرف سوال اب ہے ہر جواب میں ماںمرے سوالوں کے سارے جواب لے آئیچلی گئی تھی مگر لوٹی پھر سے خواب میں ماںمیں جب بھی ذبح ہوئی زندگی کے خنجر سےدکھی ہے خوابوں میں اک دشت اضطراب میں ماںگنوا کے جسم وہ فرصت سے آئی میرے پاسسسک سسک کے سنایا تھی کس عذاب میں ماںمیں ماں کی زندہ نگاہوں کو خود میں جیتی ہوںہر انقلاب میں ہر دم ہر آب و تاب میں ماںمرے عروج کا وہ سلسلہ انعام و سزامرے زوال میں ہر زندہ انقلاب میں ماںتجھے لبھانے کو میں سترنگی بنی تھی ماںیہ جا چھپی ہے تو کس پردۂ غیاب میں ماںبندھی ہیں آنکھیں مری اب بھی موت کے پل سےہے ہر سکوت میں خاموش اضطراب میں ماںامڈ رہے ہیں ہر اک پل سے موت کے ٹھٹھےوہ جا رہی ہے مری پنجۂ عقاب میں ماںوہ جسم ہار گئی موت سے مگر مجھ میںوہ جی کے گویا ہے پھر موت سے جواب میں ماں
چيونٹيميں پائمال و خوار و پريشان و دردمندتيرا مقام کيوں ہے ستاروں سے بھي بلند؟عقابتو رزق اپنا ڈھونڈتي ہے خاک راہ ميںميں نہ سپہر کو نہيں لاتا نگاہ ميں!
کیا لے گا خاک مردہ و افتادہ بن کے توطوفان بن کہ ہے تری فطرت میں انقلابکیوں ٹمٹمائے کرمک شب تاب کی طرحبن سکتا ہے تو اوج فلک پر اگر شہابوہ خاک ہو کہ جس میں ملیں ریزہ ہائے زروہ سنگ بن کہ جس سے نکلتے ہیں لعل نابچڑیوں کی طرح دانے پہ گرتا ہے کس لیےپرواز رکھ بلند کہ تو بن سکے عقابوہ چشمہ بن کہ جس سے ہوں سرسبز کھیتیاںرہ رو کو تو فریب نہ دے صورت سراب
نومبر کی زرد رو دھوپکھڑکی کے روزن سے نکل کرہر سو پھیل گئی ہےویران اجاڑ کمرے میںخشک موٹی کتابیں ہیںنیم شب کی جلی ادھ جلی سگریٹیںبوڑھے شاعر کا پرانا چشمہجھریوں بھرے ہاتھوں کی لرزش میں انوکھے الفاظرنگ خوشبو فلک پیمائی کے نئے اندازکرم خوردہ میز کے عقب میں بوڑھا شاعرپار کر کی موٹی نب سے لکھے جا رہا ہےرنگ کی زباں میں خوشبو کے افسانےاسے خبر بھی نہیںکہنومبر کی زرد رو دھوپاس کی میز پر سرک آئی ہےاورانگور کی سرد خشک بیلکھڑکی کی درز سےاسے جھانکتی ہے
میں آسمان کے ساتھ پھیلی شام کی نارنجی روشنی ہوںیا سورج کی آنکھ میں رینگتی سرخ دھار؟کیا ہے میرا وجود؟یوم عید قربان ہوتی بھیڑوں کا صبریا ہیروں کے تعاقب میں کوئلہ کوئلہ پھرتی خواہش؟میں سرما میں ابابیلوں کی مرجھائی روح ہوںیا سرمست درختوں کی چوٹیوں میں مدہوش ہوا؟ہاں۔۔۔۔۔ میں رات کی جھلملاتی روشنیوں کے پیچھےالجھی آلودہ شکن ہوںبچہ جنتی ماں کی آخری چیخ میری محبت ہےمیں راہ گیروں کی لا پرواہ خوشی میںسہما خوف ہوںمیں گوتم کے مسکراتے رخساروں کا لمس ہوںساتویں آسمان پر غوطہ زن پرندےاگر میری پر سکون روح میں پرواز کرتے ہیںتو پھر یہ کیسا بوجھ ہےجو تمہارے چھوڑ جانے کے بعداس غبار آلود سینے میں جمنے لگا ہے؟لیکن میرا غصہ کس شیر کے بدن میں جھرجھراتا ہے؟میری آگ کس عقاب کی آنکھوں میں کپکپاتی ہے؟جسے تمہاری ہنسی تمہارے مکار دلاور تمہاری دھوکے باز ناف میں انڈیل سکوں!
ایک ٹہنی پہ بیٹھے تھے مٹھو میاںآ گیا ایک کوا بھی اڑ کر وہاںآئیے آئیے شوق فرمائیےمیٹھا امرود ہے آپ بھی کھائیےبولا کوا کہ خاموش ٹیں ٹیں نہ کرورنہ میں پھوڑ دوں گا ابھی تیرا سربے وقوفوں سے میں بات کرتا نہیںاپنے درجے سے نیچے اترتا نہیںکون سا تو عقاب اور شاہین ہےمنہ لگانا تجھے میری توہین ہےبولیں کوے نے جب ایسی بڑ بولیاںتو غصے میں بولے یہ مٹھو میاںتو نے کیا تیر مارے ہیں میں بھی سنوںتیری چالاکیوں پر ذرا سر دھنوںبولا کوا کہ او رٹو طوطے یہ سنمیری دانش کا ہر شخص گاتا ہے گنکر دوں روشن ابھی تیرے چودہ طبقیاد ہے بچے بچے کو میرا سبقایک دن جب بہت سخت پیاسا تھا میںیہ سمجھ لے کہ بس ادھ مرا سا تھا میںایک مٹکے میں پانی کی دیکھی جھلکچونچ ڈالی تو پہنچی نہ پانی تلکذہن نے کام کرنا شروع کر دیامٹکا کنکر سے بھرنا شروع کر دیاان کی تعداد مٹکے میں جب بڑھ گئیسطح پانی کی اوپر تلک چڑھ گئیمیں نے پانی گٹاگٹ گٹاگٹ پیاپھر پھدکتے ہوئے کائیں کائیں کیادیکھ لے کس قدر تیز طرار ہوںکتنا چالاک ہوں کتنا ہشیار ہوںبولے مٹھو میاں مار کر قہقہہبے وقوفی کی بس ہو گئی انتہاجانے مٹکے میں پانی تھا کب سے پڑاپھر ڈھکنا بھی نہیں تھا کھلا تھا گھڑاگندے کنکر بھی بھرتا گیا اس میں توپی گیا ایسے پانی کو پھر آخ تھوایسے پانی سے لگتی ہیں بیماریاںپیش آتی ہیں کتنی ہی دشواریاںخود کو کہتا عقل مند و دانا ہے تولیکن افسوس احمق کا نانا ہے توتو اگر گندی چیزیں نہ کھائے پیےلوگ پالیں تجھے تو مزے سے جیےصاف ہوتا تو گھر گھر بلاتے تجھےاس طرح مار کر کیوں بھگاتے تجھےکوا سنتے ہی یہ بات رونے لگااپنے پر آنسوؤں سے بھگونے لگااور کہنے لگا بات سچ ہے تریلوگ کرتے ہیں نفرت شکل سے مریکوا رو رو کے جب آہ بھرنے لگااس پہ مٹھو نے یہ ترس کھا کر کہاچھوڑ دے اس تکبر بڑائی کو تواپنی عادت بنا لے صفائی کی توگندا پانی نہ پی گندی چیزیں نہ کھاان میں ہوتا ہے ڈیرا جراثیم کایہ جراثیم بیمار کر دیتے ہیںاچھے خاصوں کو بیکار کر دیتے ہیںیوں بظاہر تھا کوا بہت کائیاںاس کو سمجھا کے ہر بات مٹھو میاںاڑ گئے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہوئےمٹھو بیٹے کے نعرے لگاتے ہوئے
پانی دریاؤں سے نکلااور جنگل بن گیالفظ کتاب سے نکلااور عالم بن گیامیں اس کی نیت کے اندھیرے سے نکلااور آزادی کیوں نہ بن سکاہوا بادبان سے گریاور ملاح کا گیت بن گئیبوسہ ہونٹوں سے گرااور محبت کا پرندہ بن گیادن عقاب کی چونچ سے گرااور سورج مکھی کا باغ کیوں نہ بن سکا
مجھ سے ملو تماجنبی ملکوں کی سیر و سیاحت میںپیار کے رسم و رواج میںحلقۂ یاراں میںطوفان باد و باراں میںسینٹورس کے عقب میںچھپر ہوٹل کے ٹوٹے ہوئے ٹیبل پرچاند پہ بیٹھی ہوئی بڑھیا کے نورانی چرخے میںاسی کی دہائی کی فلموں کے ذکر میںپرانی کتابوں کی دوکان پرنسوانی خوشبوؤں کے چوک پربوسوں کی تکرار میںمجھ سے ملو تم
جب پڑھائی کرتے کرتے بور ہو جاتا ہوں میںداب کر بلا بغل میں فیلڈ پر آتا ہوں میںپھر نہیں دنیا و ما فیہا کا کچھ رہتا خیالکھیلتا جاتا ہوں میں بس کھیلتا جاتا ہوں میںڈیڈ پچ ہو یا سلو بالر تو میرے عیش ہیںفاسٹ پچ اور تیز بالر ہو تو گھبراتا ہوں میںان کٹر آؤٹ کٹر سے ہو کے بالکل بے نیازبند کر کے آنکھ بس بلا گھما جاتا ہوں میںجب میں چھکا مارتا ہوں اور وہ ہو جاتا ہے کیچاپنی اس دیوانگی پر جھینپ سا جاتا ہوں میںفارورڈ جاتا ہوں میں گگلی اٹھانے کے لئےعقب میں اپنے مگر وکٹیں گری پاتا ہوں میںسینچری کا گرچہ لے کر دل میں جاتا ہوں خیاللیکن اکثر لے کر انڈہ ہی پلٹ آتا ہوں میںہو کے اب محتاط میں کھیلوں گا اگلے میچ میںہر دفعہ یہ کہہ کے اپنے دل کو سمجھتا ہوں میں
اک جنگل میں ہوئے اکٹھےسارے جانوروں کے بچےبھیڑ نے اپنا للا بھیجاگائے نے بھی بچھڑا بھیجاکتے کا پلا بھی آیاالو کا پٹھا بھی آیابکری نے بھی میمنے بھیجےاور بلی نے بلوٹے بھیجےمرغی کے چوزے بھی آئےبطخ کے بچے بھی آئےگھوڑے کا چالاک بچھیرابھینس کے کڑے کے ساتھ آیاباز کبوتر کوا چڑیاہاتھی اونٹ عقاب اور شکرابندر شیر ہرن اور کچھواتیتر مور بٹیر اور بگلاطوطا مینا فاختہ سب نےاپنے اپنے بچے بھیجےکہیں تھیں چیں چیں کہیں چیاؤںکہیں تھی میں میں کہیں میاؤںسب نے مل کر شور مچایااک خخیایا اک ممیایاکوئی چیخا کوئی بھونکاالو بھی سوتے میں چونکاخوب یہ جلسہ چمکا یعنیبات نہ سمجھا کوئی کسی کی
ہجوم جس کی ٹھوکروں کی ضرب سےہوا میں ہانپتا ہوا غبار چھٹ نہیں رہاغبار میں جو خاک ہے زمین سے اڑی ہے یاکسی کے سرد جسم سے خبر نہیںخبر بھی ہو تو کیا بگاڑ لے کوئیہجوم ہٹ نہیں رہاابد کی شاخ سبز پر کھلا ہواشباب کا گلاب پتیوں میں بٹ نہیں رہاہجوم بے سکون ہے سوال مر نہیں رہاسوال کا زبان سے جڑا ہوا جو تار ہےوہ تار کٹ نہیں رہاہجوم ہٹ نہیں رہاوہ مر گیاہجوم اس کی ماں کی بد دعا سے ڈر نہیں رہاہجوم اسے چٹختی پسلیوں کے بل گھسیٹتا چلا گیاکسی نے اس کے زخم کو لعاب کا کفن دیاکوئی بدن کو لاٹھیوں سے پیٹتا چلا گیاقریب چند لوگ عکس بند کر رہے ہیںکیمروں میں ایسے کھیل کوکہ جس میں سب کھلاڑیوں کی آستیں پہ خون ہےہجوم کو جنون ہے ہجوم ہٹ نہیں رہامیں منتظر ہوں اک طرفمرے عقب میں چپ کھڑی ہے اک محافظوں کی صفہجوم ہٹ نہیں رہاہجوم سے کہو ہٹے غبار جانے کب چھٹےمیں اس کے درد سے بھنچے شکستہ ہاتھ کی گرفت سےذرا سی نظم کھینچ لوںمحافظوں کا ترجماں دعائے خیر میں مگننہیں نہیں وہ پہلے سے رٹا ہوا بیان رٹ نہیں رہامشال خان خیر ہوتماشا گاہ سے تو رائیگاں پلٹ نہیں رہاہجوم ہٹ نہیں رہا
میں آج دفتر میں صبح پہنچاتو اک نیا زرد زرد چہرہ نظر پڑاجس کو دیکھتے ہیمعاً مرے دل میں اک دریچہ کھلااور اس کے عقب سےاس زرد شکل کی ہم شبیہاک سرخ شکل ابھریشریر گستاخ بے تکلفابھر کے میرے قریب آئی
حیران ہوںیہ کون سا شہر ہےمیرؔ و غالبؔ کی دلی کبھی ایسی تو نہ تھیہر گلی ہر نکڑ پر سانپ کنڈلی مارے بیٹھے ہیں یہاںپیدا ہوتے ہی کوئی بھی سنپولہڈسنے کے لیے پر تولنے لگتا ہےجدھر دیکھیےہر جگہ سانپ ہی سانپ ہیںکہیں خونی دروازے کے عقب سےتو کہیں دھولہ کنواں کے فلائی اوور پرہر جگہ کنڈلی مارے ہوئے یہاںہزارہا سانپ ایسے ہیںجو ہر دم تیار بیٹھے ہیںموقع ملتے ہیوہ کسی بھی نرم و گداز بدن کونشانہ اپنا بنا لیتے ہیںاپنے زہریلے دانت گاڑ نے کے لیےجب وہ پھنپھنا کر باہر آتے ہیںکسی بھی راہگیر کا رستہ روکےایک دمتن کے کھڑے ہو جاتے ہیںحتٰی کہبوڑھا ناگ بھی اب یہاںاپنے کھنڈر میں تن کے کھڑا ہےاسے بھی انتظار ہےبرسات کی اس کالی اندھیری رات کا ہےجب وہ بو الہوساپنے کہنہ مشق دانتوں کوکسی نرم و نازک غزالہ پرتیز کر سکے حملۂ خوں ریز کر سکےاپنی عمر کے اس آخری پڑاؤ میں وہ بو الہوسکوئی واردات جنوں انگیز قیامت خیز کر سکےیا خدایہ کون سا مقام ہےکیا یہ تیرا قہر نہیں ہےکیا یہ وہی پرانا شہر نہیں ہےسوچتا ہوںمیرؔ و غالبؔ کی دلی کبھی ایسی تو نہ تھی
الجھتی سانسوں کی سخت گرہیںبدن کے اندر کھینچی ہوئی ہیںنڈھال صدیوں کے فاصلوں کا سفر کہ پاؤں میں پل رہا ہےدھڑوں کے نیچے ہمارا سایہہمارے جسموں کو ریزہ ریزہ نگل رہا ہے(۲)سمندروں سے ہوا لپٹ کر نئی رتوں کا وصال مانگےزمیں کی خوشبو سحر کی آہٹ کے دھندلے خوابوں کا عکس پھیلےہمیں یقیں ہے ہوا کے گدلے سفر سے آگےچمکتے لمحوں کی رہ گزر ہےنئے گلابوں کی سرزمیں ہےہمارے پاؤں میں آنے والے سفر کی خواہش تڑپ رہی ہےہماری آنکھوں میں باؤلے خواب کا نشہ ہےہم اپنے اپنے دھڑوں کے تابوت سے نکل کربڑھے کہ سورج کا جسم چھینیںزمیں کی خوشبو کا کھوج پائیںہم ایک مدت سے سوچتے ہیںکہ آسماں کے سیاہ پتھر میں اب کرن کا شگاف اترےزمیں کی پاتال سے کشش ہونئے گلابوں کی مست خوشبو بدن میں پھیلےمگر وہی دھند کا سفر ہےکٹی پھٹی سرد انگلیوں پر لہو کے جگنو چمک چمک کر بکھر چکے ہیںرگوں کے ریشوں میں تازہ خواہش کی کشمکش سرد پڑ چکی ہےدھوئیں کے پھندے میں مرنے والوں کے نام ذہنوں کی تختیوں سےاتر رہے ہیںسروں پہ کرب و بلا کے موسم کا سخت خیمہ کھینچا ہوا ہےہوا پہ لکھے ہوئے ہیں نوحےفضا میں لٹکے ہوئے ہیں چہرےافق پہ ٹوٹی ہوئی لکیریںزمیں پہ پھیلے ہوئے ہیں سائےسمندروں سے لپٹنے والی ہوا کی ان دیکھی ڈوریوں کاکوئی سرا ہاتھ میں نہیں ہےہماری پلکیں ادھڑ چکی ہیںتمام خوابوں کی دھندلی روحیں مہیب جنگل کے راستوں پربھٹک رہی ہیںالجھتی سانسوں کی سخت گرہیںابھی تلک جسم پر کھینچی ہیںہمارے نیچے کسی زمیں کی کشش ہو شایدیہیں کہیں دھند کے عقب میں ہو کوئی سورج نکلنے والاہوا کے گدلے سفر سے آگے چمکتے لمحوں کی رہ گزر ہونئے گلابوں کی سر زمیں ہومگر پگھلتے بدن کو تحلیل کرنے والی عجیب ساعت سدا اٹل ہےہماری خواہش یہ نیک ساعت ہماری آنکھوں میں گھل کے پھیلےہمارے جسموں کا درد پگھلےہماری خواہش یہ نیک ساعت سکوت بن کر تڑپتے جسموں میں آ کے ٹھہرےالجھتی سانسوں کی گرہیں کھولےہم اس کی خوشبو کے پر سکوں ملگجے اندھیرے کی گہری لذت کے منتظر ہیںہم اس کی خواہش میں اپنے اپنے دھڑوں کے تابوت میں بندھے ہیں
شیخ زمن شادانیآؤخواب دیکھتے ہیںیاد نگر میں سائے پھرتے ہیںتنہائی سسکاری بھرتی ہےاپنی دنیا تاریکی میں ڈوب چلیباہر چل کر مہتاب دیکھتے ہیںشیخ زمن شادانیآؤخواب دیکھتے ہیںہم سے پہلے کون کون سے لوگ ہوئےجو ساحل پر کھڑے رہےجن کی نظریں پانی سے ٹکرا ٹکرا کرٹوٹ ٹوٹ کر بکھر گئی ہیںبکھر گئی ہیں اور پانی کا سبزہ ہیںاس سبزے کے پیچھے کیا ہےآج عقب میںچھپے ہوئے گرداب دیکھتے ہیںشیخ زمن شادانیآؤخواب دیکھتے ہیں
اس خیاباں کے عقب میںوہ جو پر اسرار دنیائیں بسی ہیںوہ ہمیں کیوں کھینچتی ہیں؟
بارش کے بعدجب دھرتی اپنے میلے کپڑے اتارتی ہےمیں ہر شام، رازوں کے تعاقب میںاس کے داؤدی بدن پر پھیل جاتا ہوںاور دیواریں پھلانگتا، خدا کے شکستہ صحن میںنقب لگاتا ہوںمیرے وجود میں ایک اندھا خلا پھیلنے لگتا ہےمیں دیکھتا ہوںآسمان میں کوئی عقاب چھپا ہےجو ہماری زندگیوں کے چوزے اچک رہا ہےمیں ان درختوں سے مخاطب ہوتا ہوںجن کی جڑوں میں چیونٹیاںاپنی موت پر سوگوار رہتی ہیںبھیگی شاخوں پر سہمے کوے رات بھر کانپتے رہتے ہیںکتنی بے رحم لگتی ہے زندگی!جہاں موت برستی ہےاور لاکھوں سانسیں بے وقعت آوارہ کتوں کی طرحمر جاتی ہیںوہاں پھر مسکراتا گھنا جنگل اگ آتا ہےاس لامتناہی وسعت میں ہم صابن پر چمٹے بال سےزیادہ کچھ نہیں رہتےوقت جسے، ایڑی پر جمے میل کی طرح دھو ڈالتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books