aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vird-e-zabaan"
میری محبوب تجھےیاد بھی ہیں وہ لمحےوہ شب وصلکہ جب خواب سنور آئے تھےاسم اعظم کی طرحورد زباں تھا کوئیجیسے عابد ہو مصلے پہ زباں کھولے ہوئےخامشی ایسی کہ جگ بیت گئے بولے ہوئےایک نے ایک کو پیغام دیا ہو جیسےایک نے ایک سے پیغام لیا ہو جیسے
دل ہے فولاد کا پتھر کا جگر رکھتے ہیںجان جوکھوں میں کف دست پہ سر رکھتے ہیںخوں رلائے گا تجھے بھی میرا افسانۂ غمہم قفس پوچھ نہ کیوں دیدۂ تر رکھتے ہیںکیوں نہ تڑپائے ہمیں اپنے وطن کی حالتسوز دل رکھتے ہیں ہم درد جگر رکھتے ہیںاے جفا کار تو مظلوم کی فریاد سے ڈریہ وہ بندے ہیں کہ آہوں میں شرر رکھتے ہیںوہ تہی دست ہیں جو زور نہ زر رکھتے ہیںجذبۂ حب وطن دل میں مگر رکھتے ہیںکس کو دیتے ہیں بھلا دار و رسن کی دھمکیکیا ڈراتے ہو کہ ہم تیر و تبر رکھتے ہیںہم کو پستول کا ڈر ہے نہ مشینوں کا خطرمرد میدان ہیں ہم سینہ سپر رکھتے ہیںکوئی بھالا ہے نہ خنجر ہے نہ بم ہاتھوں میںاور نہ تلوار کو ہم زیب کمر رکھتے ہیںتم کو طاقت کا بھروسہ ہے جو بیداد گروہم کو یہ ناز کہ نالوں میں اثر رکھتے ہیںرہنماؤں کی تمنا ہے نہ رہزن کا خطرہم وہ رہ رو ہیں کہ منزل پہ نظر رکھتے ہیںہم بھی آزاد وطن کو کبھی دیکھیں صابرؔیہ دعا ورد زباں شام و سحر رکھتے ہیں
گو خاک ہو چکا ہے ہندوستاں ہماراپھر بھی ہے کل جہاں میں پلا گراں ہمارامنہ تک رہا ہے اب تک سارا جہاں ہماراہے نام کشوروں میں ورد زباں ہمارازرخیز ہے سراسر یہ گلستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہمارابھارت میں دیکھتے تھے ہم صنعتیں جہاں کیمشہور تھی جہاں میں کاری گری یہاں کیوہ بات ہندیوں نے غیروں کے درمیاں کیجس پر جھکی ہے گردن انبوہ سرکشاں کیملتا تھا علم و فن میں ہمسر کہاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراتسلیم کر رہے ہیں اسپین اور جاپاںسب مانتے ہیں لوہا جرمن فرانس و یوناںامریکہ میں ہے چرچا اس ملک کا نمایاںبھارت کی سلطنت پر برطانیہ ہے نازاںاونچا ہے آسماں سے یہ آستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراپربت کی چوٹیاں ہیں درباں ہمارے در کیدامن میں جس کے پنہاں کانیں ہیں سیم و زر کیگنگ و جمن پہ جس دم صیاد نے نظر کیسرسبز وادیوں سے اس کی نظر نہ سر کیکیا غیرت ارم ہے یہ بوستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراپیدا کئے تھے جس نے ارجن کناد گوتمآغوش میں پلے تھے جس کی بیاس و بکرمگودی میں جس کی کھیلے تھے بھیم رام بھیشمجن کے سبب سے اب تک ہے ہندیوں میں دم خموہ ملک بے بدل ہے جنت نشاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہمارا
گو خاک ہو چکا ہے ہندوستاں ہماراپھر بھی ہے کل جہاں میں پلا گراں ہمارامنہ تک رہا ہے اب تک سارا جہاں ہماراہے نام کشوروں میں ورد زباں ہمارازرخیز ہے سراسر یہ گلستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہمارابھارت میں دیکھتے تھے ہم صنعتیں جہاں کیمشہور تھی جہاں میں کاری گری یہاں کیوہ بات ہندیوں نے غیروں کے درمیاں کیجس پر جھکی ہے گردن انبوہ سرکشاں کیملتا تھا علم و فن میں ہمسر کہاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراتسلیم کر رہے ہیں اسپین اور جاپانسب مانتے ہیں لوہا جرمن فرانس و یونانامریکہ میں ہے چرچا اس ملک کا نمایاںبھارت کی سلطنت پر برطانیہ ہے نازاںاونچا ہے آسماں سے یہ آستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراپربت کی چوٹیاں ہیں درباں ہمارے در کیدامن میں جس کے پنہاں کانیں ہیں سیم و زر کیگنگ و جمن پہ جس دم صیاد نے نظر کیسرسبز وادیوں سے اس کی نظر نہ سرکیکیا غیرت ارم ہے یہ بوستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراپیدا کئے تھے جس نے ارجن کناد گوتمآغوش میں پلے تھے جس کی بیاس و بکرمگودی میں جس کی کھیلے تھے بھیم رام بھیشمجن کے سبب سے اب تک ہے ہندیوں میں دم خموہ ملک بے بدل ہے جنت نشاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہمارا
قتل گل قتل صبا قتل سحر کی تقریبمنعقد ہوتی رہی بارہا ایوانوں میںقلعۂ جبر و تشدد میںقصر ظلمت میںخلوت شب میںگاہے گاہے سر راہےاور اس بار یہ تقریب بڑی شان کے ساتھمنعقد اہل ہوس کے ہاتھوںرہ گزاروں پہ ہوئیبر سر بازار ہوئیکوچۂ شہر نگاراں میں ہوئیدشت و صحرا میں ہوئیکوہساروں میں ہوئینام گل نام صبا نام سحر ورد زباںہر نفس گام بہ گاممحترم ہے روش مکر و فریب پیہمشیوۂ راہزنی کی خیرپیشۂ قتل کی عظمت کی دہائی دیجےدست قاتل کے تقدس کی قسم کھائی گئیساتھیو چلتے رہوہم روایات شکاگو کے امیںخون فیوچک کے تقدس کے امیںعظمت خون لوممبا کے امیںخون ناصر کے امیںنذر خوں دیتے رہے ہیںسر محفل سر زنداں سر مقتل سر دارنذر خوں دیتے رہیں گے ہم لوگ
ساز دروں سے جل نہ اٹھیں جسم و جاں کہیںرگ رگ نہ میری پھونک دے قلب تپاں کہیںگم صم ہوں اور ششدر و حیراں کچھ اس طرحجیسے کہ کھو چکا ہوں میں روح رواں کہیںاس ناؤ کی طرح ہوں میں موجوں کے رحم پرلنگر ہو جس کے ٹوٹے کہیں بادباں کہیںیا مست ناز سرو سا کوئی نہال سبزآ جائے ضد میں برق کی جو ناگہاں کہیںیا جس طرح بہار میں مرغ شکستہ پرحسرت سے دیکھتا ہوں سوئے آسماں کہیںمغلوب اس قدر ہوں میں احساس غم سے آجکھو جائے سسکیوں میں نہ یہ داستاں کہیںبیتے دنوں کے خواب ہیں آنکھوں کے سامنےفردا کا ایک خوف ہے دل میں نہاں کہیںنکلے تھے جب وطن سے ہم اپنے بہ حال زارمنزل کا تھا خیال نہ نام و نشاں کہیںکچھ ایسی منتشر سی ہوئی دوستی کی بزمپتے بکھیر دیتی ہے جیسے خزاں کہیںزندہ ہے یار صحبتیں باقی مگر کہاںدیوار کھنچ گئی ہے نئی درمیاں کہیںفردا پہ کیا یقین ہو نالاں ہوں حال پرماضی کی سمت لے چلے عمر رواں کہیںباد صبا کے شانوں پہ امواج نور پرلے جاؤ مجھ کو دوستوں کے درمیاں کہیںیا شمع میری یادوں کی گل کر دو ایک ایکتاریک دل کا گوشہ نہ ہو ضو فشاں کہیںروداد غم سناتے ہی یوں آئی ان کی یادمیں ہوں کہیں خیال کہیں داستاں کہیںاوجھل ہیں گو نگاہ سے دل سے کہیں ہیں دورذکر حبیب اب بھی ہے ورد زباں کہیں
ابھی ہم خوبصورت ہیںہمارے جسم اوراق خزانی ہو گئے ہیںاور ردائے زخم سے آراستہ ہیںپھر بھی دیکھو توہماری خوش نمائی پر کوئی حرفاور کشیدہ قامتی میں خم نہیں آیاہمارے ہونٹ زہریلی رتوں سے کاسنی ہیںاور چہرے رتجگوں کی شعلگی سےآبنوسی ہو چکے ہیںاور زخمی خوابنادیدہ جزیروں کی زمیں پراس طرح بکھرے پڑے ہیںجس طرح طوفاں زدہ کشتی کے ٹکڑوں کوسمندر ساحلوں پر پھینک دیتا ہےلہو کی بارشیںیا خودکشی کی خواہشیں تھیںاس اذیت کے سفر میںکون سا موسم نہیں آیامگر آنکھوں میں نملہجے میں سمہونٹوں پہ کوئی نغمۂ ماتم نہیں آیاابھی تک دل ہمارےخندۂ طفلاں کی صورت بے کدورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیںزمانے ہو گئےہم کوئے جاناں چھوڑ آئے تھےمگر اب بھیبہت سے آشنا نا آشنا ہمدماور ان کی یاد کے مانوس قاصداور ان کی چاہتوں کے ہجر نامےدور دیسوں سے ہماری اور آتے ہیںگلابی موسموں کی دھوپجب نورستہ سبزے پر قدم رکھتی ہوئیمعمورۂ تن میں در آتی ہےتو برفانی بدن میںجوئے خوں آہستگی سے گنگناتی ہےاداسی کا پرندہچپ کے جنگل میںسر شاخ نہال غم چہکتا ہےکوئی بھولا ہوا بسرا ہوا دکھآبلہ بن کر ٹپکتا ہےتو یوں لگتا ہےجیسے حرف اپنےزندہ آوازوں کی صورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیںہماری خوش نمائی حرف حق کی رونمائی ہےاسی خاطر تو ہم آشفتہ جاںعشاق کی یادوں میں رہتے ہیںکہ جو ان پر گزرتی ہے وہ کہتے ہیںہماری حرف سازیاب بھی محبوب جہاں ہےشاعری شورید گان عشق کے ورد زباں ہےاور گلابوں کی طرح شاداں چہرےلعل و مرجاں کی طرح لبصندلیں ہاتھوں سےچاہت اور عقیدت کی بیاضوں پرہمارے نام لکھتے ہیںسبھی درد آشناایثار مشربہم نفس اہل قفسجب مقتلوں کی سمت جاتے ہیںہمارے بیت گاتے ہیںابھی تک ناز کرتے ہیں سب اہل قافلہاپنے حدی خوانوں پر آشفتہ کلاموں پرابھی ہم دستخط کرتے ہیں اپنے قتل ناموں پرابھی ہم آسمانوں کی امانتاور زمینوں کی ضرورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیں
چل اے نسیم صحرا روح و روان صحرامیرا پیام لے جا سوئے بتان صحراصحرائی مہوشوں کی خدمت میں جا کے کہنابھولے نہیں تمہیں ہم اے دختران صحراگر بس چلے تو آئیں اور درد دل سنائیںتم کو گلے لگائیں ہم پھر میان صحراتم نجد میں پریشاں شہروں میں ہم ہیں حیراںاللہ کی اماں ہو تم پر بتان صحراتم اس طرح غموں سے بے حال ہو رہی ہوہم اس طرف ہیں مضطر دامن کشان صحراہم پاس آئیں کیوں کر تم کو بلائیں کیوں کریہ دکھ مٹائیں کیوں کر واماندگان صحرابیتاب ہیں الم سے بے خواب رنج و غم سےکیا پوچھتی ہو ہم سے اے دلبران صحراتم یاد کر رہی ہو بیداد کر رہی ہوبرباد کر رہی ہو اے گلرخان صحرایہ کیا کہا کہ تم ہو رنگینیوں کے خوگرغمگیں ہیں تم سے بڑھ کر اے غمکشان صحرایہ رات یہ گھٹائیں یہ شور یہ ہوائیںبچھڑے ہوئے ملیں گے کیوں کر میان صحراشہروں کی زندگی سے ہم تنگ آ چکے ہیںصحرا میں پھر بلا لو اے ساکنان صحرایاد سموم ہو یا سرسر کے تند طوفاںڈرتے نہیں کسی سے دلدادگان صحراآبادیوں میں حاصل آزادیاں نہیں ہیںآ جاؤ تم ہی اڑ کر او طائران صحراصحرا کی وسعتوں میں ہم کو نہ بھول جانااو دختران صحرا او آہوان صحرااے ابر چپ نہ رہنا میرا فسانہ کہنامل جائے گر کہیں وہ سرو روان صحرادشتی کی دھن میں ساقی اک نغمۂ عراقیہاں پھر سنا بیاد گل چہرگان صحراآنکھوں میں بس رہا ہے نقش بتان صحرااو داستاں سرا چھیڑ اک داستان صحرامستانہ جا رہا ہے پھر کاروان صحراہاں جھوم کر حدی خواں اک داستان صحرادیہات کی فضائیں آنکھوں میں پھر رہی ہیںدل میں سما رہی ہے یاد بتان صحرانظروں پہ چھا رہا ہے وہ چاندنی کا منظرصحرا میں کھیلتی تھیں جب حوریان صحراوہ چاندنی کا موسم وہ بے خودی کا عالموہ نور کا سمندر ریگ روان صحراجلوے مہ جواں کے وہ رنگ کارواں کےوہ نغمے سارباں کے رقصاں میان صحراکیوں کر نہ یاد آئیں وہ سیم گوں فضائیںوہ آسمان صحرا ماہ روان صحراوہ کم سنوں کے گانے وہ کھیل وہ ترانےبے فکری کے فسانے ورد زبان صحراکھیتوں میں گھومتے تھے ہر گل کو چومتے تھےمستی میں جھومتے تھے جب میکشان صحراوہ گاؤں وہ فضائیں وہ فصل وہ ہوائیںوہ کھیت وہ گھٹائیں وہ آسمان صحراپھر یاد آ رہی ہیں پھر دل دکھا رہی ہیںمجنوں بنا رہی ہیں لیلیٰ وشان صحراراتوں کو چھپ کے آنا اور شانے کو ہلاناہے یاد وہ جگانا ہم کو میان صحراوہ ان کی شوخ آنکھیں وہ ان کی سادہ نظریںبے خود بنا رہی ہیں دوشیزگان صحراوہ عشق پیشہ ہوں میں جس کے جوان نغمےگاتا ہے چاندنی میں ہر نوجوان صحرااک بدویت کا عاشق صحرائیت سے بے خوداخترؔ بھی اپنی دھن میں ہے اک جوان صحرا
چپ رہوں گا تو زباں یوں بھی رہے گی بے کاراور بولوں تو زباں کاٹ ہی لی جائے گیکیوں نہ کچھ بول ہی لوں میں کہ پس قتل زباںیہ تو افسوس نہ ہوگا کہ زباں رہتے ہوئےمجھ کو اظہار خیالات کی جرأت نہ ہوئیمجھ سے اس ظلم و ستم کی بھی شکایت نہ ہوئی
دلوں میں رنگ محبت کو استوار کیاسواد ہند کو گیتا سے نغمہ بار کیاجو راز کوشش نطق و زباں سے کھل نہ سکاوہ راز اپنی نگاہوں سے آشکار کیااداسیوں کو نئی زندگی عطا کر دیہر ایک ذرے کو دل دے کے بے قرار کیاجو مشرب اس کا نہ اس طرح عام ہو جاتاجہاں سے محو محبت کا نام ہو جاتا
دلوں میں رنگ محبت کو استوار کیاسواد ہند کو گیتا سے نغمہ بار کیاجو راز کوشش نطق و زباں سے کھل نہ سکاوہ راز اپنی نگاہوں سے آشکار کیااداسیوں کو نئی زندگی عطا کر دیہر ایک ذرے کو دل دے کے بیقرار کیاجو مشرب اس کا نہ اس طرح عام ہو جاتاجہاں سے محو محبت کا نام ہو جاتا
ستم کے دور میں ہم اہل دل ہی کام آئےزباں پہ ناز تھا جن کو وہ بے زباں نکلے
آئی ہے کیسی خبر یہ ناگہاںدور تک مطلق نہ تھا اس کا گماںہو گیا خاموش وہ اہل زباںتھا جو گلزار ادب کا پاسباںمعترف اس کے ہیں سب اہل سخناس کے دم سے کارواں تھا گامزن
کیفیؔ و منورؔ سے کئی اہل زباں کاخمخانۂ سر مستئ اشعار ہے دلی
شب وعدہنہ خلوت خانۂ شب میںبدن کی دھیمی دھیمی آنچ سےآتش کدے دہکےنہ سرگوشی کے دھیمے دھیمے سر میںتم نے باتیں کیںنہ مدہوشی میں پنجم سر لگا کرجسم و جاں حرف و زباں بہکےہر اک پل خالی خالیدل کی ہر دھڑکن سوالی تھیشب وعدہ
سو پھر یوں ہوامقتلوں کی طرف جب روانہ ہوئے ہمتو ساری جبینوں پہ ننگی خجالتبرہنہ ندامت کے قطرے جڑے تھےہم اندھے سرابوں کے لا منتہا سلسلوں میں کھڑے تھےحذر ساعتوںتھرتھراتے لبوں پرفقط خامشی تھیستم تازیانوں کے قاتل پھریرےفصیل زبان و دہن پر گڑے تھےوہ موسم کڑے تھے
میں نے اپنے آبا کی کتابوں کوکاٹھ کی اونچی اور مضبوط المایوں سے نکال کر خوب پڑھا ہےان کی خوشبو سونگھی ہےان کی دھولوں کو چاٹا ہےاپنی نوک زباں سے اکثراور ورق کے بائیں اورنیچے کی جانبپان کی پیک سے گیلا کر کےپلٹے گئے صفحوں پران کی شہادت کی انگلیوں کے نشاں پائے ہیں
طلوع آفتاب برگ سرخ تھاوہ اجنبی تمہارے شہر میں وہ بے زبان اجنبیمگر فشار تیرگی کی سرد خاک زرد دھند کامہیب مرگ آشنا سا ذائقہنہ جانے کیوں لب و زباں پہ جسم و جاں پہ جھیلتا رہانہ جانے کیوں وہ مرگ و زندگی کے زیر و بم سے کھیلتا رہا
کچھ امامان صد مکر و فنان کی سانسوں میں افعی کی پھنکار تھیان کے سینے میں نفرت کا کالا دھواںاک کمیں گاہ سےپھینک کر اپنی نوک زباںخون نور سحر پی گئے
بول کہ لب آزاد ہیں تیرےبول زباں اب تک تیری ہےتیرا ستواں جسم ہے تیرابول کہ جاں اب تک تیری ہےدیکھ کہ آہن گر کی دکاں میںتند ہیں شعلے سرخ ہے آہنکھلنے لگے قفلوں کے دہانےپھیلا ہر اک زنجیر کا دامنبول یہ تھوڑا وقت بہت ہےجسم و زباں کی موت سے پہلےبول کہ سچ زندہ ہے اب تکبول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books