aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zaade"
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
وہ حسیں وہ نور زادے وہ خلا کے شاہزادےجو ہماری قسمتوں پر رہے حکمراں ہمیشہ
مری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہےایک خواب ہے اور تم ہویہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں میں چاہتا تھاتمھارے ساتھ بسر کروںیہی کل اثاثۂ زندگی ہے اسی کو زاد سفر کروںکسی اور سمت نظر کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہومرے دل کے جادۂ خوش خبر پہ بجز تمھارے کبھی کسی کا گزر نہ ہومگر اس طرح کہ تمہیں بھی اس کی خبر نہ ہو
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادےلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادےکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیںسوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادےہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسادکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دےفقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھاقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دےبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادےنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہےالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودےنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندییہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دےانہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہےاسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادےمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیںخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادےدلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباںہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دےفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہبمٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دےیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
اگر میں چیخوںمیں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوںتو کائناتی نظام میں کیا خلل پڑے گایہی کہاندھے کنویں سے اک بازگشت ہوگیکہے گی کیوں تم کو کیا ہوا ہے؟تمہی بڑے آئے ہو کہیں کےیہ آسمان و زمیںیہ سورج یہ چاند تارےتمام ماں باپ سارے اجدادشہر کے سب شریف زادےانہیں بھی دیکھویہ سب مصیبت زدہ، متانت سےبردباری میں سہہ رہے ہیںتمہی میں برداشت کی کمی ہےاگر میں چیخوں تومیری آواز بھی ملامت کرے گی مجھ کووہ سب کہیں گےکہ کون یہ شور کر رہا ہےہماری نیندیں اچاٹ کر دیںاگر میں چیخوںتو سارا امن و سکوننظم اور نسقمجھ کو خلاف قانون، دشمن خلق کہہ کرصلیب دے گامگر یہ چیخوں بھرا ہوا دلکسی بھی لمحےمجھے کہیں خوفناک راہوں پہ ڈال دے گاصلاح دے گاکہ زور سے چیخوکہ جسم کے ساتھروح بھی سرد ہو گئی پھرتو کیا کرو گے
میرے اجداد کا وطن یہ شہرمیری تعلیم کا جہاں یہ مقاممیرے بچپن کی دوست یہ گلیاںجن میں رسوا ہوا شباب کا نامیاد آتے ہیں ان فضاؤں میںکتنے نزدیک اور دور کے نامکتنے خوابوں کے ملگجے چہرےکتنی یادوں کے مرمریں اجسامکتنے ہنگامے کتنی تحریکیںکتنے نعرے جو تھے زباں زد عاممیں یہاں جب شعور کو پہنچااجنبی قوم کی تھی قوم غلامیونین جیک درس گاہ پہ تھااور وطن میں تھا سامراجی نظاماسی مٹی کو ہاتھ میں لے کرہم بنے تھے بغاوتوں کے امامیہیں جانچے تھے دھرم کے وشواسیہیں پرکھے تھے دین کے اوہامہیں منکر بنے روایت کےیہیں توڑے رواج کے اصنامیہیں نکھرا تھا ذوق نغمہ گرییہیں اترا تھا شعر کا الہاممیں جہاں بھی رہا یہیں کا رہامجھ کو بھولے نہیں ہیں یہ در و بامنام میرا جہاں جہاں پہنچاساتھ پہنچا ہے اس دیار کا ناممیں یہاں میزباں بھی مہماں بھیآپ جو چاہیں دیجیے مجھے نامنذر کرتا ہوں ان فضاؤں کیاپنا دل اپنی روح اپنا کلاماور فیضان علم جاری ہواور اونچا ہو اس دیار کا ناماور شاداب ہو یہ ارض حسیںاور مہکے یہ وادئ گلفاماور ابھریں صنم گری کے نقوشاور چھلکیں مے سخن کے جاماور نکلیں وہ بے نوا جن کواپنا سب کچھ کہیں وطن کے عوامقافلے آتے جاتے رہتے ہیںکب ہوا ہے یہاں کسی کا قیامنسل در نسل کام جاری ہےکار دنیا کبھی ہوا نہ تمامکل جہاں میں تھا آج تو ہے وہاںاے نئی نسل تجھ کو میرا سلام
میرے جسم میں زہر ہے تیرامیرا دل ہے تیرا گھرتو موجود ہے ساتھ ہمیشہخوف سا بن کر شام و سحرتیرا اثر ہے میرے لہو پرجیسے چاند سمندر پراتنی زرد ہے رنگت تیریجم جاتی ہے اس پہ نظرتو ہے سزا مرے ہونے کییا ہے میرا زاد سفرکرے گا تو بیمار مجھے یابنے گا نا معلوم کا ڈررہے گا دائم گہری تہ میںجیسے اندھیرے میں کوئی درگم کر دے گا راہ میں مجھ کویا دے گا منزل کی خبرتو ہے میرا دوست کہ دشمنیہ تو بتا مجھ کو اے زر
سارے دن کی تھکی،ویران اور بے مصرف رات کوایک عجیب مشغلہ ہاتھ آ گیا ہےاب وہ!سارے شہر کی آوارہ پرچھائیوں کوجسم دینے کی کوشش میں مصروف ہےمجھے معلوم ہےاگر گم نام پرچھائیوں کوان کی پہچان مل گئیتو شہر کے معزز اور عبادت گزار شریف زادےہم شکل پرچھائیوں کے خوف سےپرچھائیوں میں تبدیل ہو جائیں گےاوربے مصرف دن بھر کی تھکی ہوئی رات کوایک اور مشغلہ مل جائے گا
میں جب طفل مکتب تھا، ہر بات، ہر فلسفہ جانتا تھاکھڑے ہو کے منبر پہ پہروں سلاطین پارین و حاضرحکایات شیرین و تلخ ان کی، ان کے درخشاں جرائمجو صفحات تاریخ پر کارنامے ہیں، ان کے اوامرنواہی، حکیموں کے اقوال، دانا خطیبوں کے خطبےجنہیں مستمندوں نے باقی رکھا اس کا مخفی و ظاہرفنون لطیفہ خداوند کے حکم نامے، فرامینجنہیں مسخ کرتے رہے پیر زادے، جہاں کے عناصرہر اک سخت موضوع پر اس طرح بولتا تھا کہ مجھ کوسمندر سمجھتے تھے سب علم و فن کا، ہر اک میری خاطرتگ و دو میں رہتا تھا، لیکن یکایک ہوا کیا یہ مجھ کویہ محسوس ہوتا ہے سوتے سے اٹھا ہوں، ہلنے سے قاصرکسی بحر کے سونے ساحل پہ بیٹھا ہوں گردن جھکائےسر شام آئی ہے دیکھو تو ہے آگہی کتنی شاطر!
مجھے کیا خبر وقت کے دیوتا کی حسیں رتھ کے پہیوں تلے پس چکے ہیںمقدر کے کتنے کھلونے زمانوں کے ہنگامے صدیوں کے صد ہا ہیولےمجھے کیا تعلق میری آخری سانس کے بعد بھی دوش گیتی پہ مچلےمہ و سال کے لا زوال آبشار رواں کا وہ آنچل جو تاروں کو چھو لےمگر آہ یہ لمحۂ مختصر جو مری زندگی میرا زاد سفر ہےمرے ساتھ ہے میرے بس میں ہے میری ہتھیلی پہ ہے یہ لبا لب پیالہیہی کچھ ہے لے دے کے میرے لیے اس خرابات شام و سحر میں یہی کچھیہ اک مہلت کاوش درد ہستی یہ اک فرصت کوشش آہ و نالہ
تو اپني خودي اگر نہ کھوتازناري برگساں نہ ہوتاہيگل کا صدف گہر سے خاليہے اس کا طلسم سب خياليمحکم کيسے ہو زندگانيکس طرح خودي ہو لازماني!آدم کو ثبات کي طلب ہےدستور حيات کي طلب ہےدنيا کي عشا ہو جس سے اشراقمومن کي اذاں ندائے آفاقميں اصل کا خاص سومناتيآبا مرے لاتي و مناتيتو سيد ہاشمي کي اولادميري کف خاک برہمن زادہے فلسفہ ميرے آب و گل ميںپوشيدہ ہے ريشہ ہائے دل ميںاقبال اگرچہ بے ہنر ہےاس کي رگ رگ سے باخبر ہےشعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوزسن مجھ سے يہ نکتہ دل افروزانجام خرد ہے بے حضوريہے فلسفہ زندگي سے دوريافکار کے نغمہ ہائے بے صوتہيں ذوق عمل کے واسطے موتديں مسلک زندگي کي تقويمديں سر محمد و براہيم''دل در سخن محمدي بنداے پور علي ز بو علي چند!چوں ديدہ راہ بيں نداريقايد قرشي بہ از بخاري ''
سو اب یہ شرط حیات ٹھہریکہ شہر کے سب نجیب افراداپنے اپنے لہو کی حرمت سے منحرف ہو کے جینا سیکھیںوہ سب عقیدے کہ ان گھرانوں میںان کی آنکھوں کے رنگتوں کی طرح تسلسل سے چل رہے تھےسنا ہے باطل قرار پائےوہ سب وفاداریاں کہ جن پر لہو کے وعدے حلف ہوئے تھےوہ آج سے مصلحت کی گھڑیاں شمار ہوں گیبدن کی وابستگی کا کیا ذکرروح کے عہد نامے تک فسخ مانے جائیںخموشی و مصلحت پسندی میں خیریت ہےمگر مرے شہر منحرف میںابھی کچھ ایسے غیور و صادق بقید جاں ہیںکہ حرف انکار جن کی قسمت نہیں بنا ہےسو حاکم شہر جب بھی اپنے غلام زادےانہیں گرفتار کرنے بھیجےتو ساتھ میں ایک ایک کا شجرۂ نسب بھی روانہ کرنااور ان کے ہم راہ سرد پتھر میں چننے دیناکہ آج سے جبہزارہا سال بعد ہم بھیکسی زمانے کے ٹیکسلایا ھڑپہ بن کر تلاشے جائیںتو اس زمانے کے لوگہم کوکہیں بہت کم نسب نہ جانیں
عجب دن تھےعجب نامہرباں دن تھے بہت نامہرباں دن تھےزمانے مجھ سے کہتے تھے زمینیں مجھ سے کہتی تھیںمیں اک بے بس قبیلے کا بہت تنہا مسافر ہوںوہ بے منزل مسافر ہوں جسے اک گھر نہیں ملتامیں اس رستے کا راہی ہوں جسے رہبر نہیں ملتامگر کوئی مسلسل دل پہ اک دستک دیے جاتا تھا کہتا تھا مسافر!اس قدر نا مطمئن رہنے سے کیا ہوگاملال ایسا بھی کیا جو ذہن کو ہر خواب سے محروم کر دےجمال باغ آئندہ کے ہر امکان کو معدوم کر دےگل فردا کو فصل رنگ میں مسموم کر دےدلاسے کی اسی آواز سے ساری تھکن کم ہو گئی تھی اوردل کو پھر قرار آنے لگا تھاسفر زاد سفر شوق سفر پر اعتبار آنے لگا تھامیں خوش قسمت تھاکیسی ساعت خوش رنگ و خوش آثار میں مجھ کومرے بے بس بہت تنہا قبیلے کو نیا گھر مل گیا تھاایک رہبر مل گیا تھاایک منزل مل گئی تھی اور امکانوں بھرا خوابوں سے امیدوں سے روشنایک منظر مل گیا تھا
بے کواڑ دروازےراہ دیکھتے ہوں گےطاق بے چراغوں کےاک کرن اجالے کیبھیک مانگتے ہوں گےکیوں جھجک گئے راہیکیوں ٹھٹک گئے راہیڈھونڈنے کسے جاؤانتظار کس کا ہوراستے میں کچھ ساتھیرہ بدل بھی جاتے ہیںپھر کبھی نہ ملنے کوکچھ بچھڑ بھی جاتے ہیںقافلہ کبھی ٹھہراقافلہ کہاں ٹھہراراہ کیوں کرے کھوٹیکس کا آسرا دیکھےچند کانچ کے ٹکڑےاک بلور کی گولیننھے منے ہاتھوں کاجن پہ لمس باقی ہےزاد راہ کافی ہےخشک ہو چکے گجرےکس گلے میں ڈالو گیبھولی بھٹکی خوشبوؤکس کی راہ روکو گیکس نے اشک پونچھے ہیںکس نے ہاتھ تھاما ہےاپنا راستہ ناپوبے کواڑ دروازےراہ دیکھتے ہوں گےکل نئی سحر ہوگیلاج سے بھری کلیاںکل بھی مسکرائیں گیکل کوئی نئی گوریادھ کھلی نئی کلیاںہار میں پروئے گی
اگر تم کہکشاں مسکن بناؤ گےتو ہم بھی روشنی زادے ہیںسورج کے پجاری ہیںہم ایسے سب ستارے توڑ دیتے ہیںجو ہم سے روشنی کی بھیک بھی لیتے ہیںآنکھوں میں بھی چبھتے ہیںاگر پاتال میں چھپنے کی کوشش کیتو پھر اے سیم تن!دھرتی ہمارے واسطے سونا اگلتی ہےبھلا چاندی کہاں اس میں ٹھہرتی ہے
نہ شریک سفر و زاد سفر مانگا ہےنہ صدائے جرس و بانگ درا مانگی ہے
خزاں زادے شہروں کا رخ کر رہے ہیںگلابی ہرے نیلے پیلےسبھی رنگ موسم اڑا لے گیا ہےکوئی دھانی چونریہوا سے نہیں کھیلتی ہےکہانی سناؤ کسی وقت بھیکہ دن رات کی قید باقی نہیں ہےسنا ہےمسافر کوئی راستہ اب نہیں بھولتا
اک سفر کی شروعات ہو سکتی ہےتم اگر ہاں کہو تم اگر ہاں کہوشاہراہوں میں گلیوں میں بھٹکیں گے ہمکوئی منزل نہ ہو نہ ہو زاد سفرکوئی منزل نہ ہو نہ ہو زاد سفرہم سفر ہم سفر ہم سفر ہم سفر
ستم نصیبان سرزمیں کو پیام پہنچا دیا گیا ہےنگوں سری کا قیام ہوگاسبھی نگاہیں جھکی رہیں گیہر ایک گردن پہ تیغ ہوگیہر ایک شہ رگ پہ ہوں گے ناخنکہ شہر جب تک نگوں نہ ہوگاکمان تب تک تنی رہے گیہماری اگلی ہدایتوں تکہر ایک جنبش تھمی رہے گیزمین زادے کہ انتباہ خدا کی مرضی سمجھ چکے ہیںسو اب زبانوں پہ خامشی ہے سو اب مقدر میں گالیاں ہیںچراغ گم ہیں کہ چاروں جانب اندھیری راتوں کی آندھیاں ہیںہمارے حصے میں اپنے دکھ پر بھی قہقہے ہیں یا تالیاں ہیں
جب راتخوابوں کے سلسلے لے کر اترتی ہےتو شب زادے اپنے خواب سجا کر سو جاتے ہیںمگر میری ویران آنکھوں سےنیند یہ کہہ کر رخصت ہو جاتی ہےکہ مجھے صرف ان آنکھوں میں رات کاٹنی ہےجہاں خوابوں کی حکمرانی ہےمگر اسے یہ کون بتائے کہمیرا خواب ایک مدت سے لاپتہ ہےتب سے میری آنکھوں نے نیند کا ذائقہ نہیں چکھامیں نے شب کو اپنے گمشدہ خواب کی علامتیں بتائیںتو وہ دھیرے سے مسکرا دی اور بولی:''میں نے سب سے انمول خواب تمہاری آنکھوں میں سجایا تھا''یہ کہہ کر شب نے ہر آنکھ میں چھاپے مارےمگر میرا خواب بر آمد نہ ہوااس نے کہا:''تمہارا خواب تمہارے اندر سے چرایا گیا ہےاگر تم اپنی نسل کو بے خوابی کے عذاب سے بچانا چاہتے ہوتو تمہیں اپنا خواب خود ہی ڈھونڈھنا پڑے گا''تب سے میں رت جگوں کی نگہبانی میںاپنے اندر سےاپنا چوری شدہ خواب تلاش کر رہا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books