aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zer-e-saaya"
جنبش مژگاں کے زیر سایہ ناداری کی راتجوہر انسانیت جوڑے ہوئے آنکھوں میں ہات
خاکستر دل کو ہے پھر شعلہ بجاں ہوناحیرت کا جہاں ہونا حسرت کا نشاں ہونااے شخص جو تو آکر یوں دل میں سمایا ہےتو درد کہ درماں ہے تو دھوپ کہ سایا ہے؟نیناں ترے جادو ہیں گیسو ترے خوشبو ہیںباتیں کسی جنگل میں بھٹکا ہوا آہو ہیںمقصود وفا سن لے کیا صاف ہے سادہ ہےجینے کی تمنا ہے مرنے کا ارادہ ہے
لحد میں سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کیمگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کیوہ اک فانی بشر تھا میں یہ باور کر نہیں سکتابشر اقبال ہو جائے تو ہرگز مر نہیں سکتابہ زیر سایۂ دیوار مسجد ہے جو آسودہیہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہیہ خاکی جسم بھی اس کا بہت ہی بیش قیمت تھاجسے ہم جلوہ سمجھے تھے وہ پردہ بھی غنیمت تھااسے ہم ناپتے تھے لے کے آنکھوں ہی کا پیماناغزل خواں اس کو جانا ہم نے شاعر اس کو گردانافقط صورت ہی دیکھی اس کے معنی ہم نہیں سمجھےنہ دیکھا رنگ تصویر آئنے کو دل نشیں سمجھےہمیں ضعف بصارت سے کہاں تھی تاب نظارہسکھائے اس کے پردے نے ہمیں آداب نظارایہ نغمہ کیا ہے زیر پردہ ہائے ساز کم سمجھےرہے سب گوش بر آواز لیکن راز کم سمجھےشکست پیکر محسوس نے توڑا حجاب آخرطلوع صبح محشر بن کے چمکا آفتاب آخرمقید اب نہیں اقبالؔ اپنے جسم فانی میںنہیں وہ بند حائل آج دریا کی روانی میںوجود مرگ کی قائل نہیں تھی زندگی اس کیتعالی اللہ اب دیکھے کوئی پائندگی اس کیجسے ہم مردہ سمجھے زندہ تر پائندہ تر نکلامہ و خورشید سے ذرے کا دل تابندہ تر نکلاابھی اندازہ ہو سکتا نہیں اس کی بلندی کاابھی دنیا کی آنکھوں پر ہے پردہ فرقہ بندی کامگر میری نگاہوں میں ہیں چہرے ان جوانوں کےجنہیں اقبالؔ نے بخشے ہیں بازو قہر مانوں کے
بس ایک چھوٹی سی بحث پر ہی چلے گئے ہوکنارہ کر کےبہت سے دعوے کیے تھے تم نےمیں پہلے دن سے ہی جانتا تھاتمام دعوے ہیں وقتی جذبوں کے زیر سایہکبھی کہا تو نہیں یہ لیکنمیں جانتا تھاتمہیں محبت نہیں ہے مجھ سےفقط گماں ہےمیں مانتا ہوں کہ پیار آتا تھا مجھ پہ تم کوسو پیار آنے کو پیار ہونا سمجھ رہے تھےمگر جو آتا ہے جان میریتو اس کا جانا بھی طے ہی سمجھوبس ایک چھوٹی سی بحث پر ہی چلے گئے ہو
بائیں جانبکولتار کیوہ سڑک ہےجو سبز و سیاہ درختوںکی قطار کے درمیاندور تکبل کھاتیچلی گئی ہےدائیں جانبنواب کی پرانی حویلیجس میںاب مارکیٹ ہےسامنےفینس کے اس پاراسکول کی عمارتجس کے گیٹ پرمالتی کی بیل کے زیر سایہایک گیت ہےگیتجو ملنے اور بچھڑنےرونے اور گانےجینے اور غم اٹھانےکے بارے میں ہےگیتجو فقط بچھڑنے کے لئے ملنےفقط رونے کے لئے گانےاور فقط غم اٹھانے کے لئے جینےکے بارے میں ہےگیتجو
بڑی لمبی کہانی ہے سنو گے؟سحر کی آنکھ کھلنے بھی نہ پائی تھیمرے ترکش نے لاکھوں تیر برسائے شعاعوں کےکسی نے آفتابانہ ہر اک ذرے کو چمکایاکسی نے ماہتابی چادریں ہر سمت پھیلائیںکوئی جگنو کی صورت جھلملایاانہیں بکھرے ہوئے تیروں کے زیر سایہمیں چلتا رہاہر موڑ پہ کوئی نہ کوئی واقعہکوئی نہ کوئی حادثہمیرے اجالے کو لپٹ کر چاٹ کردیمک زدہ کرتا رہا لیکنسفر کی دھن سلامتجنبش پا آگے بڑھتی ہی رہیکوہ گراں پستے رہےساگر کی لہریں دم بخود ہوتی رہیںمیں بڑھتے بڑھتے سرحد امروز تک آ پہونچا
وہ کون ہے جو اداس راتوں کی چاندنی ہیںکئی دعائیں لبوں پہ لے کرملول ہو کربھلا کے ساری تھکان دن کییہ سوچتی ہےکہ میں نہ جانے ہزار میلوں پرے جو بیٹھا ہوںکس طرح ہوںوہ کون ہے جو اداس راتوں کے رت جگے میںدعاؤں کی مشعلیں جلانے کھڑی ہوئی ہےدعائیں جس کی مرے لئے ہیںمیں ان دعاؤں کے زیر سایہزمین سے آسمان کی جانب یوں محو پرواز ہوں کہ جیسےبشر گزیدہ خدا سے ملنے کو جا رہا ہوپھر ایک لمحے کو میرے اندر سے اتنی آوازیں گونجتی ہیںمیں ان سے برسوں سے آشنا ہوںیہ ہاتھ جو کہ بلند ہو کر لرز رہے ہیںیہ ہاتھ میرے لیے تحفظ کا استعارہیہ ہاتھ میرے لیے جہاں کیہزار خوشبو سے بالاتر ہیںیہی تو ہیں وہ جنہوں نے مجھ کوقدم اٹھانا قدم بڑھانا سکھا دیا ہے
گزر رہے تھے مہ و سال اور موسم پرہمارے شہر میں آتی تھی گھر کے جب برساتجب آسمان میں اڑتے تھے ہر طرف جگنوہوا کی موج رواں پر دیئے جلائے ہوئےفضا میں رات گئے جب درخت پیپل کا!ہزاروں جگنوؤں سے کوہ طور بنتا تھاہزاروں وادیٔ ایمن تھیں جس کی شاخوں میںیہ دیکھ کر مرے دل میں یہ ہوک اٹھتی تھیکہ میں بھی ہوتا انہیں جگنوؤں میں اک جگنوتو ماں کی بھٹکی ہوئی روح کو دکھاتا راہوہ ماں میں جس کی محبت کے پھول چن نہ سکاوہ ماں میں جس سے محبت کے بول سن نہ سکاوہ ماں کہ بھینچ کے جس کو کبھی میں سو نہ سکامیں جس کے آنچلوں میں منہ چھپا کے رو نہ سکاوہ ماں کہ گھٹنوں سے جس کے کبھی لپٹ نہ سکاوہ ماں کہ سینے سے جس کے کبھی چمٹ نہ سکاہمک کے گود میں جس کی کبھی میں چڑھ نہ سکامیں زیر سایۂ امید جس کے بڑھ نہ سکاوہ ماں میں جس سے شرارت کی داد پا نہ سکامیں جس کے ہاتھوں محبت کی مار کھا نہ سکا
خیالات و احساسجو بے ساختہ لکھ دیے ہیںنہ جانے وہ کب سے دل و جاں کے اندر چھپے تھےکسی راز جیسےقلم بند ہونے کو بے چین تھےکئی درد الجھے سوالاتجو صفحے پہ سجنے کو بیتاب تھےوہ سبقلم سے مرے موتیوں کی طرحاب برسنے لگے ہیںسبھی رقص کرنے لگے ہیںمری چشم پر نمجو سیلاب روکے ہوئے ہےستارے چمکتے ہیں میری پلک پرانہیں میں رقم کر رہی ہوںجو طوفان ہے موجزن میرے اندروہ ارمان وہ خوابکئی لا شعوری مضامین بن کرورق در ورق جگمگانے لگے ہیںسبھی رقص کرنے لگے ہیںاور اباسی جذب و احساس کے زیر سایہغزل پھول بن کر مہکتی ہےکبھی نظم گاتی ہے وہ گیتکہ جو بے خیالی میں تخلیق ہو کربناتی ہے رنگین پیکریہ بزم سخن کو سجانے پہ مائلخیالات سب رقص کرنے لگے ہیںقلم سے مرے موتیوں کی طرحاب برسنے لگے ہیںسبھی رقص کرنے لگے ہیں
بدھا عظیم شخص تھاجو تخت و تاج چھوڑ کربتان نسل و قومیتوقار عز و سلطنتغرور جاہ و مرتبتکے بندھنوں کو توڑ کربہ زیر سایۂ شجرتپسیا میں محو تھاگیان دھیان میں مگننئی روش خیال میںجو آدمی کو آدمی کے ظلم سے نجات دےجو ذات پات کے طلسم سامری کو مات دےبرہمنوں کی قدغنوں کا زور پاش پاش ہوجہاں میں جو اندھیر ہے اسے شکست فاش ہووہ سوچتا چلا گیا اسے سراغ مل گیامہاتما مہاتما عظیم اس کی آتماکہ جس کے دل میں کرب کائنات تھاستودۂ صفات تھاپکار کر کہا کہ اے جہان غم کے باسیومری صدا کو تو سنواہنسا پرمو دھرما اک اصول لا زوال ہےیہ فکر بے نظیر ہے یہ سوچ بے مثال ہےکسی کو دکھ نہ دو کہ یہ گناہ ہے وبال ہےجو اس سے منحرف ہوئے تو زندگی محال ہےیہی ہے راز زندگیطریق صلح و آشتییہی نجات روح ہےیہی ہے دل کی شانتیمہاتما عظیم تھامہاتما نے سچ کہا
تم سمجھتے ہو یہ شب آپ ہی ڈھل جائے گیخود ہی ابھرے گا نئی صبح کا زریں پرچممیں سمجھتا ہوں کسی صبح درخشاں کے عوضقہر کی ایک نئی رات کو دے گی یہ جنماور اس رات کی تاریکی میں کھو جائیں گےمکتب و خانقہ و دیر و کلیسا و حرمدیو ظلمات کی ٹھوکر سے نہ پائیں گے پناہیہ شوالے، یہ مساجد، یہ پجاری، یہ صنمرکھ دیے جائیں گے شمشیر کے زیر سایہدست ماتم لب فریاد، زبان و تنقیدبرف جم جائے گی افکار کے گلزاروں پریخ ہواؤں میں ہی جم جائے گی کشت امیدچاندنی ظلمت سیال میں ڈھل جائے گیرات کی مانگ سنوارے گی شعاع امیداہل فن دیں گے اندھیروں کو اجالوں کا لقبزہر کو قند، محرم کو کہا جائے گا عیدیہ مرا وہم نہیں، ناول و افسانہ نہیںدوستو! غور کرو، اور نگاہیں تو اٹھاؤوہ جو اک سرخ ستارہ ہے افق کے نزدیککچھ تمہیں علم ہے کس رخ پہ ہے اس کا پھیلاؤکاش تم اس کی حقیقت پہ نظر ڈال سکوہے یہ اک آتش صد برق بداماں کا الاؤاس کی کرنوں میں ہے چلتی ہوئی تلوار کی کاٹاس کی سرخی میں ہے امڈے ہوئے دریا کا بہاؤاس کے دامن میں ہے آسودہ وہ فتنہ جس سےجسم تو جسم میسر نہیں روحوں کو اماںدل، نظر، ذہن، خیالات، اصول و اقدارسب کے سب اس کی تگ و تاز سے لرزاں ترساںاس کی پرچھائیں بھی پڑ جائے تو سبزہ جل جائےدیکھتے دیکھتے ماحول پہ چھا جائے دھواںاس کے شعلوں کا تو کیا ذکر کہ شعلے ٹھہرےاس کی شبنم بھی گلستاں کے لیے برق تپاں
اور وہ سنگ جاںاپنی یہ داستاںزیر بار جمود گراںایک سنگ ملامت کی ماننددہرائے گا
روشنی کی ایک ننھی سی لکیرمیرے کمرے کے اندھیرے کا بدنچپکے چپکے ٹٹولتی ہےجس طرح حبشی حسینہ کے ڈھلےصندل کے سےآبنوسی جسم کے اعصاب میںتیز سوئی کی اچانک اک چبھنسرسراتے سانپ کی مانند دوڑاتی ہے خوںجھنجھنا اٹھتے ہیں سارے تار و پواور پھر آہستہ آہستہ کہیںزیر سطح جان و دلیہ تلاطمرک کے سو جاتا ہےیعنیاژدر آسودہ خاطر کی طرحخواب نوشیں کے اڑاتا ہے مزے
اگر یہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے!خرد بھی زیر دام ہے جنوں بھی زیر دام ہے
زمانہ ہواسر زمین تمنا پہ فصل گل آنے کو تھیہم دم صبح کلیاں چٹکنے کی آواز کے منتظر تھےکہ اک سرسراہٹ ہوئیزیر شاخ گل افعی کا سایہ سا ابھراتم اے طائران نخوردہ گزنداس سے واقف نہیںکیسے زخموں سے بے حال تھی زندگیکیسے آتش فشاں پھٹ پڑےکس طرح ان کے لاوے ہیں انسانیت بہہ گئی
انہیں کے زیر کسا وحشتیں پنپتی ہیںانہیں کے زیر قدم جنتیں مچلتی ہیں
نغمۂ تکلم میںزیر و بم کئی غلطاںظرف اور ظرافت کےزیر لب تبسم سےکھل کے مسکرانے تکپیچ و خم کئی لرزاںاختیار و عادت کے
زندگی وہم ہے حقیقت ہےشجر درد سایۂ غم ہے
رقص ہر جانب مشینی بھوت کاحکمرانی ہر طرف فولاد کیاجتماعی زندگی کا شور و شرروح ہر سو مضطرب افراد کیآرزوئیں زیر دام روزگارخواہشوں پر غلبۂ فکر معاشدور آہن میں سکوں کی جستجودوپہر میں اپنے سائے کی تلاش
اسی کے سایہ میں پاتا ہے پرورش اقبالمثال سایۂ بال ہما سدیشی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books