aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zulf"
شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گادل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گاحلقۂ زلف کہیں گوشۂ رخسار کہیںہجر کا دشت کہیں گلشن دیدار کہیںلطف کی بات کہیں پیار کا اقرار کہیں
میں بنجارہوقت کے کتنے شہروں سے گزرا ہوںلیکنوقت کے اس اک شہر سے جاتے جاتے مڑ کے دیکھ رہا ہوںسوچ رہا ہوںتم سے میرا یہ ناتا بھی ٹوٹ رہا ہےتم نے مجھ کو چھوڑا تھا جس شہر میں آ کروقت کا اب وہ شہر بھی مجھ سے چھوٹ رہا ہےمجھ کو وداع کرنے آئے ہیںاس نگری کے سارے باسیوہ سارے دنجن کے کندھے پر سوتی ہےاب بھی تمہاری زلف کی خوشبوسارے لمحےجن کے ماتھے پر روشناب بھی تمہارے لمس کا ٹیکانم آنکھوں سےگم سم مجھ کو دیکھ رہے ہیںمجھ کو ان کے دکھ کا پتا ہےان کو میرے غم کی خبر ہےلیکن مجھ کو حکم سفر ہےجانا ہوگاوقت کے اگلے شہر مجھے اب جانا ہوگا
گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شامدھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے راتاور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گیاور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہاتان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہےکچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیںجانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میںٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیںآج پھر حسن دل آرا کی وہی دھج ہوگیوہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیررنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبارصندلی ہاتھ پہ دھندھلی سی حنا کی تحریراپنے افکار کی اشعار کی دنیا ہے یہیجان مضموں ہے یہی شاہد معنی ہے یہیآج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلےآدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے؟موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میںہم پہ کیا گزرے گی اجداد پہ کیا گزری ہے؟ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوقکیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہےیہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا!کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہےیہ ہر اک سمت پر اسرار کڑی دیواریںجل بجھے جن میں ہزاروں کی جوانی کے چراغیہ ہر اک گام پہ ان خوابوں کی مقتل گاہیںجن کے پرتو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغیہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گےلیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹہائے اس جسم کے کمبخت دل آویز خطوطآپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہوں گے
وہ لعل و لب کے تذکرے، وہ زلف و رخ کے زمزمےوہ کاروبار آرزو وہ ولولے، وہ ہمہمےدل و نظر کی جان تھا وہ دور جو گزر گیانہ اب کسی سے دل لگے نہ اب کہیں نظر جمےسمند وقت جا چکا رکاب ڈھونڈھتا ہوں میںجنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میںکہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویاشاخ بازو کے لیے زلف کا بادل رویامثل پیراہن گل پھر سے بدن چاک ہوئےجیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیراس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا دو نیمنوک دشنہ سے کھچی تھی مری دھرتی پہ لکیر
یاد کی راہ گزر جس پہ اسی صورت سےمدتیں بیت گئی ہیں تمہیں چلتے چلتےختم ہو جائے جو دو چار قدم اور چلوموڑ پڑتا ہے جہاں دشت فراموشی کاجس سے آگے نہ کوئی میں ہوں نہ کوئی تم ہوسانس تھامے ہیں نگاہیں کہ نہ جانے کس دمتم پلٹ آؤ گزر جاؤ یا مڑ کر دیکھوگرچہ واقف ہیں نگاہیں کہ یہ سب دھوکا ہےگر کہیں تم سے ہم آغوش ہوئی پھر سے نظرپھوٹ نکلے گی وہاں اور کوئی راہ گزرپھر اسی طرح جہاں ہوگا مقابل پیہمسایۂ زلف کا اور جنبش بازو کا سفر
عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی ناآشنا خم سےستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سےقمر اپنے لباس نو میں بیگانہ سا لگتا تھانہ تھا واقف ابھی گردش کے آئین مسلم سےابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنیامذاق زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سےکمال نظم ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویاہویدا تھی نگینے کی تمنا چشم خاتم سےسنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھاصفا تھی جس کی خاک پا میں بڑھ کر ساغر جم سےلکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسیر کا نسخہچھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سےنگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیا گر کیوہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سےبڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانبتمنائے دلی آخر بر آئی سعی پیہم سےپھرایا فکر اجزا نے اسے میدان امکاں میںچھپے گی کیا کوئی شے بارگاہ حق کے محرم سےچمک تارے سے مانگی چاند سے داغ جگر مانگااڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سےتڑپ بجلی سے پائی حور سے پاکیزگی پائیحرارت لی نفس ہائے مسیح ابن مریم سےذرا سی پھر ربوبیت سے شان بے نیازی لیملک سے عاجزی افتادگی تقدیر شبنم سےپھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حیواں کے پانی میںمرکب نے محبت نام پایا عرش اعظم سےمہوس نے یہ پانی ہستئ نوخیز پر چھڑکاگرہ کھولی ہنر نے اس کے گویا کار عالم سےہوئی جنبش عیاں ذروں نے لطف خواب کو چھوڑاگلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہم دم سےخرام ناز پایا آفتابوں نے ستاروں نےچٹک غنچوں نے پائی داغ پائے لالہ زاروں نے
تم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو موجود تھے تمآنکھ میں نور کی اور دل میں لہو کی صورتدرد کی لو کی طرح پیار کی خوشبو کی طرحبے وفا وعدوں کی دل داری کا انداز لیےتم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو تم آئے تھےرات کے سینے میں مہتاب کے خنجر کی طرحصبح کے ہاتھ میں خورشید کے ساغر کی طرحشاخ خوں رنگ تمنا میں گل تر کی طرحتم نہیں آؤ گے جب تب بھی تو تم آؤ گےیاد کی طرح دھڑکتے ہوئے دل کی صورتغم کے پیمانۂ سر شار کو چھلکاتے ہوئےبرگ ہائے لب و رخسار کو مہکاتے ہوئےدل کے بجھتے ہوئے انگارے کو دہکاتے ہوئےزلف در زلف بکھر جائے گا پھر رات کا رنگشب تنہائی میں بھی لطف ملاقات کا رنگروز لائے گی صبا کوئے صباحت سے پیامروز گائے گی سحر تہنیت جشن فراقآؤ آنے کی کریں باتیں کہ تم آئے ہواب تم آئے ہو تو میں کون سی شے نذر کروکہ مرے پاس بجز مہر و وفا کچھ بھی نہیںایک خوں گشتہ تمنا کے سوا کچھ بھی نہیں
دل تیری بزم ناز میں جب سے ہے باریابہر خار ایک گل ہے تو ہر ذرہ آفتاباک لشکر نشاط ہے ہر غم کے ہم رکابزیر نگیں ہے عالم تمکین و اضطرابباد مراد و چشمک طوفاں لئے ہوئےہوں بوئے زلف و جنبش مژگاں لئے ہوئے
زلف ضد کر کے کسی نے جو ہٹائی ہوگیروٹھے جلووں پہ خزاں اور بھی چھائی ہوگیبرق عشووں نے کئی دن نہ گرائی ہوگیرنگ چہرے پہ کئی روز نہ آیا ہوگا
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماںتجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاںتو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاںایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیےامتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندستاں ہے تومطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے توسوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے توبرف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سرخندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پرتیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہنوادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زنچوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخنتو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطنچشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال ہےدامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہےابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطےتازیانہ دے دیا برق سر کوہسار نےاے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی جسےدست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیےہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابرفیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابرجنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنیجھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلییوں زباں برگ سے گویا ہے اس کی خامشیدست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھیکہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مراکنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مراآتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئیکوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئیآئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئیسنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئیچھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کواے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کولیلئ شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسادامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صداوہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فداوہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہواکانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کوہسار پرخوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پراے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنامسکن آبائے انساں جب بنا دامن تراکچھ بتا اس سیدھی سادھی زندگی کا ماجراداغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھاہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تودوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
یہ کیسی باد بہار ہے جس میں شاخ اردو نہ پھل سکے گیوہ کیسا روئے نگار ہوگا نہ زلف جس پر مچل سکے گیہمیں وہ آزادی چاہیئے جس میں دل کی مینا ابل سکے گی
مرے بازو پہ جب وہ زلف شب گوں کھول دیتی تھیزمانہ نکہت خلد بریں میں ڈوب جاتا تھامرے شانے پہ جب سر رکھ کے ٹھنڈی سانس لیتی تھیمری دنیا میں سوز و ساز کا طوفان آتا تھا
وہ باغ میں میرا منتظر تھااور چاند طلوع ہو رہا تھازلف شب وصل کھل رہی تھیخوشبو سانسوں میں گھل رہی تھیآئی تھی میں اپنے پی سے ملنےجیسے کوئی گل ہوا سے کھلنےاک عمر کے بعد میں ہنسی تھیخود پر کتنی توجہ دی تھی!
زلف اس کوآپریٹیو سلسلے کی ہے درازچھیڑتے ہیں ہم کبھی تو وہ کبھی رشوت کا سازگاہ ہم بنتے ہیں قمری گاہ وہ بنتے ہیں بازآپ کو معلوم کیا آپس کا یہ راز و نیاز
شمیم زلف سے اس کی مہک جاتی تھی کل وادینگاہ مست سے اس کی بہک جاتی تھی کل وادیہوائیں پرفشاں روح مے و مے خانہ رہتی تھییہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی
آہ جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہےگلشن زیست جلانے کو شرر رکھتی ہےتوپ تلوار نہ یہ تیغ و تبر رکھتی ہےبنت حوا کی طرح تیر نظر رکھتی ہےاتنا پر سوز ہوا نالۂ سفاک مراکر گیا دل پہ اثر شکوۂ بے باک مرایہ کہا سن کے سسر نے کہ کہیں ہے کوئیساس چپکے سے یہ بولیں کہ یہیں ہے کوئیسالیاں کہنے لگیں قرب و قریں ہے کوئیسالے یہ بولے کہ مردود و لعیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا ہے تو ہم زلف کے بہتر سمجھامجھ کو بیگم کا ستایا ہوا شوہر سمجھااپنے حالات پہ تم غور ذرا کر لو اگرجلد کھل جائے گی پھر ساری حقیقت تم پرمیں نے اگنے نہ دیا ذہن میں نفرت کا شجرتم پہ ڈالی ہے سدا میں نے محبت کی نظرکہہ کے سرتاج تمہیں سر پہ بٹھایا میں نےتم تو بیٹے تھے فقط باپ بنایا میں نےمیں نے سسرال میں ہر شخص کی عزت کی ہےساس سسرے نہیں نندوں کی بھی خدمت کی ہےجیٹھ دیور سے جٹھانی سے محبت کی ہےمیں نے دن رات مشقت ہی مشقت کی ہےپھر بھی ہونٹوں پہ کوئی شکوہ گلہ کچھ بھی نہیںمیرے دن رات کی محنت کا صلہ کچھ بھی نہیںصبح دم بچوں کو تیار کراتی ہوں میںناشتہ سب کے لئے روز بناتی ہوں میںباسی تم کھاتے نہیں تازہ پکاتی ہوں میںچھوڑنے بچوں کو اسکول بھی جاتی ہوں میںمیں کہ انسان ہوں انسان نہیں جن کوئیمیری تقدیر میں چھٹی کا نہیں دن کوئیوہ بھی دن تھے کہ دلہن بن کے میں جب آئی تھیساتھ میں جینے کی مرنے کی قسم کھائی تھیپیار آنکھوں میں تھا آواز میں شہنائی تھیکبھی محبوب تمہاری یہی ہرجائی تھیاپنے گھر کے لیے یہ ہستی مٹا دی میں نےزندگی راہ محبت میں لٹا دی میں نےکس قدر تم پہ گراں ایک فقط ناری ہےدال روٹی جسے دینا بھی تمہیں بھاری ہےمجھ سے کب پیار ہے اولاد تمہیں پیاری ہےتم ہی کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےگھر تو بیوی سے ہے بیوی جو نہیں گھر بھی نہیںیہ ڈبل بیڈ یہ تکیہ نہیں چادر بھی نہیںمیں نے مانا کہ وہ پہلی سی جوانی نہ رہیہر شب وصل نئی کوئی کہانی نہ رہیقلزم حسن میں پہلی سی روانی نہ رہیاب میں پہلے کی طرح رات کی رانی نہ رہیاپنی اولاد کی خاطر میں جواں ہوں اب بھیجس کے قدموں میں ہے جنت وہی ماں ہوں اب بھیتھے جو اجداد تمہارے نہ تھا ان کا یہ شعارتم ہو بیوی سے پریشان وہ بیوی پہ نثارتم کیا کرتے ہو ہر وقت یہ جو تم بیزارتم ہو گفتار کے غازی وہ سراپا کرداراپنے اجداد کا تم کو تو کوئی پاس نہیںہم تو بے حس ہیں مگر تم بھی تو حساس نہیںنہیں جن مردوں کو پروائے نشیمن تم ہواچھی لگتی ہے جسے روز ہی الجھن تم ہوبن گئے اپنی گرہستی کے جو دشمن تم ہوہو کے غیروں پہ فدا بیوی سے بد ظن تم ہوپھر سے آباد نئی کوئی بھی وادی کر لوکسی کل بسنی سے اب دوسری شادی کر لو
یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئےشباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئےدھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئیچٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئےلبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہےکنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئےقدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزرادا ادا میں بے شمار بجلیاں لئے ہوئےنکلتے بیٹھتے دنوں کی آہٹیں نگاہ میںرسیلے ہونٹ فصل گل کی داستاں لئے ہوئےخطوط رخ میں جلوہ گر وفا کے نقش سر بسردل غنی میں کل حساب دوستاں لئے ہوئےوہ مسکراتی آنکھیں جن میں رقص کرتی ہے بہارشفق کی گل کی بجلیوں کی شوخیاں لئے ہوئےادائے حسن برق پاش شعلہ زن نظارہ سوزفضائے حسن اودی اودی بجلیاں لئے ہوئےجگانے والے نغمۂ سحر لبوں پہ موجزننگاہیں نیند لانے والی لوریاں لئے ہوئےوہ نرگس سیاہ نیم باز مے کدہ بہ دوشہزار مست راتوں کی جوانیاں لئے ہوئےتغافل و خمار اور بے خودی کی اوٹ میںنگاہیں اک جہاں کی ہوشیاریاں لئے ہوئےہری بھری رگوں میں وہ چہکتا بولتا لہووہ سوچتا ہوا بدن خود اک جہاں لئے ہوئےز فرق تا قدم تمام چہرہ جسم نازنیںلطیف جگمگاہٹوں کا کارواں لئے ہوئےتبسمش تکلمے تکلمش ترنمےنفس نفس میں تھرتھراتا ساز جاں لئے ہوئےجبین نور جس پہ پڑ رہی ہے نرم چھوٹ سیخود اپنی جگمگاہٹوں کی کہکشاں لئے ہوئے''ستارہ بار و مہ چکاں و خورفشاں'' جمال یارجہان نور کارواں بہ کارواں لئے ہوئےوہ زلف خم بہ خم شمیم مست سے دھواں دھواںوہ رخ چمن چمن بہار جاوداں لئے ہوئےبہ مستیٔ جمال کائنات، خواب کائناتبہ گردش نگاہ دور آسماں لئے ہوئےیہ کون آ گیا مرے قریب عضو عضو میںجوانیاں، جوانیوں کی آندھیاں لئے ہوئےیہ کون آنکھ پڑ رہی ہے مجھ پر اتنے پیار سےوہ بھولی سی وہ یاد سی کہانیاں لئے ہوئےیہ کس کی مہکی مہکی سانسیں تازہ کر گئیں دماغشبوں کے راز نور مہ کی نرمیاں لئے ہوئےیہ کن نگاہوں نے مرے گلے میں باہیں ڈال دیںجہان بھر کے دکھ سے درد سے اماں لئے ہوئےنگاہ یار دے گئی مجھے سکون بے کراںوہ بے کہی وفاؤں کی گواہیاں لئے ہوئےمجھے جگا رہا ہے موت کی غنودگی سے کوننگاہوں میں سہاگ رات کا سماں لئے ہوئےمری فسردہ اور بجھی ہوئی جبیں کو چھو لیایہ کس نگاہ کی کرن نے ساز جاں لئے ہوئےستے سے چہرے پر حیات رسمساتی مسکراتینہ جانے کب کے آنسوؤں کی داستاں لئے ہوئےتبسم سحر ہے اسپتال کی اداس شامیہ کون آ گیا نشاط بے کراں لئے ہوئےترے نہ آنے تک اگرچہ مہرباں تھا اک جہاںمیں رو کے رہ گیا ہوں سو غم نہاں لئے ہوئےزمین مسکرا اٹھی یہ شام جگمگا اٹھیبہار لہلہا اٹھی شمیم جاں لئے ہوئےفضائے اسپتال ہے کہ رنگ و بو کی کروٹیںترے جمال لالہ گوں کی داستاں لئے ہوئےفراقؔ آج پچھلی رات کیوں نہ مر رہوں کہ ابحیات ایسی شامیں ہوگی پھر کہاں لئے ہوئے(۲)مگر نہیں کچھ اور مصلحت تھی اس کے آنے میںجمال و دید یار تھے نیا جہاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے آدمیجبیں پہ شاہکار دہر کا نشاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے دیوتاطہارتوں کا فرق پاک پر نشاں لئے ہوئےخدائی آدمی کی ہوگی اس نئے جہان پرستاروں کے ہیں دل یہ پیش گوئیاں لئے ہوئےسلگتے دل شرر فشاں و شعلہ بار برق پاشگزرتے دن حیات نو کی سرخیاں لئے ہوئےتمام قول اور قسم نگاہ ناز یار تھیطلوع زندگیٔ نو کی داستاں لئے ہوئےنیا جنم ہوا مرا کہ زندگی نئی ملیجیوں گا شام دید کی نشانیاں لئے ہوئےنہ دیکھا آنکھ اٹھا کے عہد نو کے پردہ داروں نےگزر گیا زمانہ یاد رفتگاں لئے ہوئےہم انقلابیوں نے یہ جہاں بچا لیا مگرابھی ہے اک جہاں وہ بدگمانیاں لئے ہوئے
درد و غم حیات کا درماں چلا گیاوہ خضر عصر و عیسیٔ دوراں چلا گیاہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیاانساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیارقصاں چلا گیا نہ غزل خواں چلا گیاسوز و گداز و درد میں غلطاں چلا گیابرہم ہے زلف کفر تو ایماں ہے سرنگوںوہ فحر کفر و نازش ایماں چلا گیابیمار زندگی کی کرے کون دل دہینباض و چارہ ساز مریضاں چلا گیاکس کی نظر پڑے گی اب عصیاں پہ لطف کیوہ محرم نزاکت عصیاں چلا گیاوہ راز دار محفل یاراں نہیں رہاوہ غم گسار بزم عریفاں چلا گیااب کافری میں رسم و راہ دلبری نہیںایماں کی بات یہ ہے کہ ایماں چلا گیااک بے خود سرور دل و جاں نہیں رہااک عاشق صداقت پنہاں چلا گیابا چشم نم ہے آج زلیخائے کائناتزنداں شکن وہ یوسف زنداں چلا گیااے آرزو وہ چشمۂ حیواں نہ کر تلاشظلمات سے وہ چشمۂ حیواں چلا گیااب سنگ و خشت و خاک و خذف سر بلند ہیںتاج وطن کا لعل درخشاں چلا گیااب اہرمن کے ہاتھ میں ہے تیغ خوں چکاںخوش ہے کہ دست و بازوئے یزداں چلا گیادیو بدی سے معرکۂ سخت ہی سہییہ تو نہیں کہ زور جواناں چلا گیاکیا اہل دل میں جذبۂ غیرت نہیں رہاکیا عزم سر فروشیٔ مرداں چلا گیاکیا باغیوں کی آتش دل سرد ہو گئیکیا سرکشوں کا جذبۂ پنہاں چلا گیاکیا وہ جنون و جذبۂ بیدار مر گیاکیا وہ شباب حشر بداماں چلا گیاخوش ہے بدی جو دام یہ نیکی پہ ڈال کےرکھ دیں گے ہم بدی کا کلیجہ نکال کے
آج بھی جب میں بائیک پہ بیٹھوںآج بھی میرے پہلو پہ اک ہاتھ دکھائی دیتا ہےآج بھی میرے کانوں کو اک گیت سنائی دیتا ہےآج بھی کوئی زلف مرا دل خوشبو سے مہکاتی ہےیاد کسی کی آج بھی میرے پیچھے بیٹھ کے جاتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books