اخبار شاعری

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

اکبر الہ آبادی

ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے

کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا

ادا جعفری

اس وقت وہاں کون دھواں دیکھنے جائے

اخبار میں پڑھ لیں گے کہاں آگ لگی تھی

انور مسعود

جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبر

ہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا

عبید اللہ علیم

ذرا سی چائے گری اور داغ داغ ورق

یہ زندگی ہے کہ اخبار کا تراشا ہے

عامر سہیل

دس بجے رات کو سو جاتے ہیں خبریں سن کر

آنکھ کھلتی ہے تو اخبار طلب کرتے ہیں

شہزاد احمد

مجھ کو اخبار سی لگتی ہیں تمہاری باتیں

ہر نئے روز نیا فتنہ بیاں کرتی ہیں

بشیر مہتاب

کون پڑھتا ہے یہاں کھول کے اب دل کی کتاب

اب تو چہرے کو ہی اخبار کیا جانا ہے

راجیش ریڈی

کوئی کالم نہیں ہے حادثوں پر

بچا کر آج کا اخبار رکھنا

عبدالصمد تپشؔ

ایسے مر جائیں کوئی نقش نہ چھوڑیں اپنا

یاد دل میں نہ ہو اخبار میں تصویر نہ ہو

خلیل مامون

گمنام ایک لاش کفن کو ترس گئی

کاغذ تمام شہر کے اخبار بن گئے

عشرت دھولپور

سرخیاں اخبار کی گلیوں میں غل کرتی رہیں

لوگ اپنے بند کمروں میں پڑے سوتے رہے

زبیر رضوی

کوئی نہیں جو پتا دے دلوں کی حالت کا

کہ سارے شہر کے اخبار ہیں خبر کے بغیر

سلیم احمد

وہ خوش نصیب تھے جنہیں اپنی خبر نہ تھی

یاں جب بھی آنکھ کھولیے اخبار دیکھیے

شہزاد احمد

بم پھٹے لوگ مرے خون بہا شہر لٹے

اور کیا لکھا ہے اخبار میں آگے پڑھیے

ظہیرؔ غازی پوری

رات کے لمحات خونی داستاں لکھتے رہے

صبح کے اخبار میں حالات بہتر ہو گئے

نصرت گوالیاری

سرخیاں خون میں ڈوبی ہیں سب اخباروں کی

آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے

مخمور سعیدی

متعلقہ موضوعات