بے کسی پر شاعری

زندگی کسی ایک رخ پر نہیں چلتی ،اس میں اتار چڑھاؤ کی کیفیتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں ۔ کبھی وقت انسان کے موافق ہوتا ہے اور ساری چیزیں اس کی مرضی کی ہوتی رہتی ہیں لیکن زندگی میں وہ لمحے بھی آتے ہیں جب سب کچھ اس کے اختیار سے باہر ہوتا ہے اور ہر طرف بے کسی کی فضا طاری ہوتی ہے۔ یہ تو زندگی کا عام سا عمل ہے لیکن شاعری میں بے کسی اپنی بیشتر صورتوں میں عاشق کی بے کسی ہے ۔ عشق میں انسان کس حد تک بے کس اور مجبور ہوتا ہے اور اس کی کیا کیا صورتیں ہوتی ہیں اس کا ایک چھوٹا سا اندازہ ہمارے اس انتخاب سے لگا یا جاسکتا ہے۔

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

conversing has never been so diffficult for me

your company now is no more as it used to be

conversing has never been so diffficult for me

your company now is no more as it used to be

بہادر شاہ ظفر

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ

ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر چلے جاتے

امید فاضلی

میں بولتا ہوں تو الزام ہے بغاوت کا

میں چپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے

بشیر بدر

آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ

کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد

مرزا غالب

مجھ کو مری شکست کی دوہری سزا ملی

تجھ سے بچھڑ کے زندگی دنیا سے جا ملی

ساقی فاروقی

کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری

اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو

باقی صدیقی

سب نے غربت میں مجھ کو چھوڑ دیا

اک مری بے کسی نہیں جاتی

بیدم شاہ وارثی

ادھر سے آج وہ گزرے تو منہ پھیرے ہوئے گزرے

اب ان سے بھی ہماری بے کسی دیکھی نہیں جاتی

اثر لکھنوی

عبث دل بے کسی پہ اپنی اپنی ہر وقت روتا ہے

نہ کر غم اے دوانے عشق میں ایسا ہی ہوتا ہے

خاں آرزو سراج الدین علی

عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیے

مجنوں پہ کیا گزر گئی صحرا گواہ ہے

حفیظ جونپوری

زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا

ہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویا

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

آنکھیں بھی ہائے نزع میں اپنی بدل گئیں

سچ ہے کہ بے کسی میں کوئی آشنا نہیں

خواجہ میر درد

اری بے کسی تیرے قربان جاؤں

برے وقت میں ایک تو رہ گئی ہے

شرف الدین الہام

کر کے دفن اپنے پرائے چل دیے

بیکسی کا قبر پر ماتم رہا

احسن مارہروی

کیوں مزاحم ہے میرے آنے سے

کوئی ترا گھر نہیں یہ رستا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم