ہنر پر شعر

ہنرمندی انسان کی شخصیت

کو نکھارتی ہے ۔ ہر شخص اپنے اندر کچھ صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتا ہے جن کو پہچان کر وہ ایک بڑے ہنر میں تبدیل کر لیتا ہے اور یہی ہنر اس کی شخصیت کی پہچان بنتا ہے ۔ ہنر کے عنوان سے ہم جو اشعار آپ تک پہنچا رہے ہیں وہ زندگی میں نئے حوصلوں سے بھرتے ہیں اور نئی منزلوں پر گامزن کرتے ہیں ۔

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

بہادر شاہ ظفر

ہمارے عیب نے بے عیب کر دیا ہم کو

یہی ہنر ہے کہ کوئی ہنر نہیں آتا

مرزارضا برق ؔ

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے

میر تقی میر

ہمارے عیب میں جس سے مدد ملے ہم کو

ہمیں ہے آج کل ایسے کسی ہنر کی تلاش

ناطق گلاوٹھی

مجھ میں تھے جتنے عیب وہ میرے قلم نے لکھ دیئے

مجھ میں تھا جتنا حسن وہ میرے ہنر میں گم ہوا

حکیم منظور

جس کی خاطر میں بھلا بیٹھا تھا اپنے آپ کو

اب اسی کے بھول جانے کا ہنر بھی دیکھنا

عطاء الحق قاسمی

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا

انجم عرفانی

قائمؔ میں اختیار کیا شاعری کا عیب

پہنچا نہ کوئی شخص جب اپنے ہنر تلک

قائم چاندپوری

خوبان جہاں ہوں جس سے تسخیر

ایسا کوئی ہم نے ہنر نہ دیکھا

شیخ ظہور الدین حاتم
بولیے