مہمان پر شاعری

مہمان کے حوالے سے ہندوستانی تہذیبی روایات میں بہت خوشگوار تصورات پائے جاتے ہیں ۔ مہمان کا آنا گھر میں برکت کا اور خوشحالی کا شگون سمجھا جاتا ہے ۔ یہ شاعری مہمان کی اس جہت کے ساتھ اور بہت سی جہتوں کو موضوع بناتی ہے ۔ مہمان کے قیام کی عارضی نوعیت کو بھی شاعروں نے بہت مختلف دھنگ سے برتا ہے ۔ آپ ہمارے اس انتخاب میں دیکھیں گے کہ مہمان کا لفظ کس طرح زندگی کی کثیر صورتوں کیلئے ایک بڑے استعارے کی شکل میں دھل گیا ہے ۔

دنیا میں ہم رہے تو کئی دن پہ اس طرح

دشمن کے گھر میں جیسے کوئی میہماں رہے

قائم چاندپوری

برق کیا شرارہ کیا رنگ کیا نظارہ کیا

ہر دئے کی مٹی میں روشنی تمہاری ہے

نامعلوم

تنہائی کا اک اور مزہ لوٹ رہا ہوں

مہمان مرے گھر میں بہت آئے ہوئے ہیں

شجاع خاور

یقین برسوں کا امکان کچھ دنوں کا ہوں

میں تیرے شہر میں مہمان کچھ دنوں کا ہوں

اطہر ناسک

کمرے میں دھواں درد کی پہچان بنا تھا

کل رات کوئی پھر مرا مہمان بنا تھا

ابرار اعظمی

نہ جب تک کوئی ہم پیالہ ہو میں مے نہیں پیتا

نہیں مہماں تو فاقہ ہے خلیل اللہ کے گھر میں

حیدر علی آتش

سمیٹ لے گئے سب رحمتیں کہاں مہمان

مکان کاٹتا پھرتا ہے میزبانوں کو

آصف ثاقب

متعلقہ موضوعات