Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تعلی پر اشعار

اپنے بعض تخلیقی لمحوں

میں شاعرانا کی اس سرشاری میں جی رہا ہوتا ہے جہاں صرف اپنی ذات ہی مرکزہوتی ہے ۔ وہ اسی کے حوالے سے سوچتا ہے اوراسی کا اظہارکرتا ہے ۔ تعلی کے اشعاراسی کیفیت کے زایدہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی فنکاری ، زبان وبیان پرقدرت ، اپنی وجودی قوت اورعظمت کا اظہارکرتا ہے ۔ ہم نےتعلی کےکچھ اشعارکا انتخاب کیا ہے آپ انہیں پڑھئے اوراس کیفیت کا حصہ بنئے ۔

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر تعلی کی ایک عمدہ مثال ہے جس میں شاعر اپنی انفرادیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ غالب دوسروں کی خوبی کا انکار تو نہیں کرتے مگر یہ باور کراتے ہیں کہ ان کا طرزِ ادا اور بیان کا انداز دوسروں سے بالکل مختلف اور منفرد ہے، جو انہیں ممتاز بناتا ہے۔

مرزا غالب

اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

احمد فراز

ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے

شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں غالبؔ نے شوخی اور طنز کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ذات کو موضوع بنایا ہے۔ وہ اپنی شاعرانہ عظمت کا اعتراف تو کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ معاشرے میں وہ اپنی بے باکی اور آزاد خیالی کی وجہ سے رسوا ہیں، گویا بدنامی بھی ان کی پہچان کا حصہ ہے۔

مرزا غالب

آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہم عصرو

جب بھی ان کو دھیان آئے گا تم نے فراقؔ کو دیکھا ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنے عہد کے لوگوں سے کہتا ہے کہ تمہاری ایک خوش نصیبی آئندہ زمانے کے لیے قابلِ رشک ہوگی۔ فراقؔ کو دیکھ لینا محض ملاقات نہیں، عظمت کی گواہی اور یادگار لمحہ ہے۔ اس شعر میں شہرت، وراثت اور یاد کا احساس ایک لطیف خود آگاہی کے ساتھ ابھرتا ہے۔

فراق گورکھپوری

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

Interpretation: Rekhta AI

میر تقی میر یہاں اپنی حیثیت اور اثر کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کہ گویا وہ سارے عالم پر چھا گئے ہیں۔ دوسرے مصرعے میں “مستند” کہہ کر وہ اپنے کلام کی حجّت اور اعتبار کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مرکزی جذبہ خود اعتمادی اور لفظ کی طاقت کا احساس ہے، جیسے شاعر کی بات خود دلیل بن گئی ہو۔

میر تقی میر

کبھی فرازؔ سے آ کر ملو جو وقت ملے

یہ شخص خوب ہے اشعار کے علاوہ بھی

احمد فراز

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

شاد عظیم آبادی

تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے

ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

ابراہیم اشکؔ

میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں

جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا

Interpretation: Rekhta AI

فراق گورکھپوری یہاں اردو سے اپنی فطری وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں: زبان انہیں ابتدا ہی سے ایسے ملی جیسے گھٹی میں گھل کر وجود کا حصہ بن جائے۔ “حسنِ بیان” اس بات کی علامت ہے کہ ان کی گفتگو میں نفاست اور تاثیر خود بہ خود پیدا ہوتی رہی۔ مرکزی جذبہ اپنی زبان پر فخر اور اظہار کی بے ساختگی ہے۔

فراق گورکھپوری

یادگار زمانہ ہیں ہم لوگ

سن رکھو تم فسانہ ہیں ہم لوگ

منتظر لکھنوی

اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ

دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

کلیم عاجز

اور ہوتے ہیں جو محفل میں خموش آتے ہیں

آندھیاں آتی ہیں جب حضرت جوشؔ آتے ہیں

جوشؔ ملسیانی

مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں

وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

کلیم عاجز

میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ

میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

بیخود دہلوی

نہ دیکھے ہوں گے رند لاابالی تم نے بیخودؔ سے

کہ ایسے لوگ اب آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں

بیخود دہلوی

میرؔ کا طرز اپنایا سب نے لیکن یہ انداز کہاں

اعظمیؔ صاحب آپ کی غزلیں سن سن کر سب حیراں ہیں

خلیل الرحمن اعظمی
بولیے