تعلی پر اشعار
اپنے بعض تخلیقی لمحوں
میں شاعرانا کی اس سرشاری میں جی رہا ہوتا ہے جہاں صرف اپنی ذات ہی مرکزہوتی ہے ۔ وہ اسی کے حوالے سے سوچتا ہے اوراسی کا اظہارکرتا ہے ۔ تعلی کے اشعاراسی کیفیت کے زایدہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی فنکاری ، زبان وبیان پرقدرت ، اپنی وجودی قوت اورعظمت کا اظہارکرتا ہے ۔ ہم نےتعلی کےکچھ اشعارکا انتخاب کیا ہے آپ انہیں پڑھئے اوراس کیفیت کا حصہ بنئے ۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر تعلی کی ایک عمدہ مثال ہے جس میں شاعر اپنی انفرادیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ غالب دوسروں کی خوبی کا انکار تو نہیں کرتے مگر یہ باور کراتے ہیں کہ ان کا طرزِ ادا اور بیان کا انداز دوسروں سے بالکل مختلف اور منفرد ہے، جو انہیں ممتاز بناتا ہے۔
اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا
ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غالبؔ نے شوخی اور طنز کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ذات کو موضوع بنایا ہے۔ وہ اپنی شاعرانہ عظمت کا اعتراف تو کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ معاشرے میں وہ اپنی بے باکی اور آزاد خیالی کی وجہ سے رسوا ہیں، گویا بدنامی بھی ان کی پہچان کا حصہ ہے۔
آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہم عصرو
جب بھی ان کو دھیان آئے گا تم نے فراقؔ کو دیکھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنے عہد کے لوگوں سے کہتا ہے کہ تمہاری ایک خوش نصیبی آئندہ زمانے کے لیے قابلِ رشک ہوگی۔ فراقؔ کو دیکھ لینا محض ملاقات نہیں، عظمت کی گواہی اور یادگار لمحہ ہے۔ اس شعر میں شہرت، وراثت اور یاد کا احساس ایک لطیف خود آگاہی کے ساتھ ابھرتا ہے۔
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر یہاں اپنی حیثیت اور اثر کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کہ گویا وہ سارے عالم پر چھا گئے ہیں۔ دوسرے مصرعے میں “مستند” کہہ کر وہ اپنے کلام کی حجّت اور اعتبار کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مرکزی جذبہ خود اعتمادی اور لفظ کی طاقت کا احساس ہے، جیسے شاعر کی بات خود دلیل بن گئی ہو۔
کبھی فرازؔ سے آ کر ملو جو وقت ملے
یہ شخص خوب ہے اشعار کے علاوہ بھی
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے
میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں
جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا
Interpretation:
Rekhta AI
فراق گورکھپوری یہاں اردو سے اپنی فطری وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں: زبان انہیں ابتدا ہی سے ایسے ملی جیسے گھٹی میں گھل کر وجود کا حصہ بن جائے۔ “حسنِ بیان” اس بات کی علامت ہے کہ ان کی گفتگو میں نفاست اور تاثیر خود بہ خود پیدا ہوتی رہی۔ مرکزی جذبہ اپنی زبان پر فخر اور اظہار کی بے ساختگی ہے۔
-
موضوع : اردو
اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ
دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ
اور ہوتے ہیں جو محفل میں خموش آتے ہیں
آندھیاں آتی ہیں جب حضرت جوشؔ آتے ہیں
مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں
میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ
میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا
-
موضوعات : اردواور 1 مزید
نہ دیکھے ہوں گے رند لاابالی تم نے بیخودؔ سے
کہ ایسے لوگ اب آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں
میرؔ کا طرز اپنایا سب نے لیکن یہ انداز کہاں
اعظمیؔ صاحب آپ کی غزلیں سن سن کر سب حیراں ہیں