بیسٹ سکسیس شاعری

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

علامہ اقبال

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

جگر مراد آبادی

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر

جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

راحت اندوری

آئنہ دیکھ کر غرور فضول

بات وہ کر جو دوسرا نہ کرے

مضطر خیرآبادی

ہم اور لوگ ہیں ہم سے بہت غرور نہ کر

کلیم تھا جو ترا ناز سہہ گیا ہوگا

عبد الحمید عدم

سر کو نہ پھینک اپنے فلک پر غرور سے

تو خاک سے بنا ہے ترا گھر زمین ہے

میر حسن

زاہد سنبھل غرور خدا کو نہیں پسند

فرش زمیں پہ پاؤں دماغ آسمان پر

پروین ام مشتاق

غرور سے جو زمیں پر قدم نہیں رکھتی

یہ کس گلی سے نسیم بہار آتی ہے

جلیل مانک پوری

اسے عجب تھا غرور شگفت رخساری

بہار گل کو بہت بے ہنر کہا اس نے

افضال احمد سید

ترا غرور جھک کے جب ملا مرے وجود سے

نہ جانے میری کمتری کا چہرہ کیوں اتر گیا

اشہر ہاشمی