بیسٹ ناراض شاعری

نظر بھر کے جو دیکھ سکتے ہیں تجھ کو

میں ان کی نظر دیکھنا چاہتا ہوں

تاجور نجیب آبادی

نظر آتی نہیں اب دل میں تمنا کوئی

بعد مدت کے تمنا مری بر آئی ہے

الطاف حسین حالی

نظر بچا کے جو آنسو کئے تھے میں نے پاک

خبر نہ تھی یہی دھبے بنیں گے دامن کے

آرزو لکھنوی

نظر بچا کے گزر جائیں مجھ سے وہ لیکن

میرے خیال سے دامن بچا نہیں سکتے

نامعلوم

نظر اور وسعت نظر معلوم

اتنی محدود کائنات نہیں

مائل لکھنوی

نظر آتا نہیں اب گھر میں وہ بھی اف رے تنہائی

اک آئینہ میں پہلے آدمی تھا میری صورت کا

ناطق گلاوٹھی

نظر آتی نہیں سڑکوں پہ لاشیں

امیر شہر اندھا ہو گیا ہے

اشتیاق طالب

نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں

کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر

منور بدایونی

نظر آتا نہیں مجھ کوں سبب کیا

مرا نازک بدن ہیہات ہیہات

سراج اورنگ آبادی

نظر آتی ہے ساری کائنات میکدہ روشن

یہ کس کے ساغر رنگیں سے پھوٹی ہے کرن ساقی

احسان دربھنگوی
بولیے