اسعد بدایونی کے 10 منتخب شعر

ممتاز ما بعد جدید شاعر، رسالہ’دائرے‘ کے مدیر

سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں

عجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں

اسعد بدایونی

گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا

ایک ہی رنگ ہے دنیا کو جدھر سے دیکھا

اسعد بدایونی

میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر

آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر

اسعد بدایونی

بچھڑ کے تجھ سے کسی دوسرے پہ مرنا ہے

یہ تجربہ بھی اسی زندگی میں کرنا ہے

اسعد بدایونی

جم گئی دھول ملاقات کے آئینوں پر

مجھ کو اس کی نہ اسے میری ضرورت کوئی

اسعد بدایونی

غیروں کو کیا پڑی ہے کہ رسوا کریں مجھے

ان سازشوں میں ہاتھ کسی آشنا کا ہے

what is it to strangers to spread this calumny

the conspiracy is the work of someone close to me

what is it to strangers to spread this calumny

the conspiracy is the work of someone close to me

اسعد بدایونی

پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیز

کانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ

اسعد بدایونی

آتے ہیں برگ و بار درختوں کے جسم پر

تم بھی اٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دعا کا ہے

اسعد بدایونی

چمن وہی کہ جہاں پر لبوں کے پھول کھلیں

بدن وہی کہ جہاں رات ہو گوارا بھی

اسعد بدایونی

پرانے گھر کی شکستہ چھتوں سے اکتا کر

نئے مکان کا نقشہ بناتا رہتا ہوں

اسعد بدایونی