عزیز لکھنوی کے 10 منتخب شعر

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

پیدا وہ بات کر کہ تجھے روئیں دوسرے

رونا خود اپنے حال پہ یہ زار زار کیا

create that aspect in yourself that others cry for thee

create that aspect in yourself that others cry for thee

عزیز لکھنوی

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن

بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا

عزیز لکھنوی

زبان دل کی حقیقت کو کیا بیاں کرتی

کسی کا حال کسی سے کہا نہیں جاتا

عزیز لکھنوی

ہجر کی رات کاٹنے والے

کیا کرے گا اگر سحر نہ ہوئی

عزیز لکھنوی

تم نے چھیڑا تو کچھ کھلے ہم بھی

بات پر بات یاد آتی ہے

عزیز لکھنوی

وہی حکایت دل تھی وہی شکایت دل

تھی ایک بات جہاں سے بھی ابتدا کرتے

عزیز لکھنوی

لطف بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار

دل ہی اجڑ گیا کہ زمانہ اجڑ گیا

عزیز لکھنوی

مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں

یہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوں

عزیز لکھنوی

تمہیں ہنستے ہوئے دیکھا ہے جب سے

مجھے رونے کی عادت ہو گئی ہے

عزیز لکھنوی

دل کی آلودگیٔ زخم بڑھی جاتی ہے

سانس لیتا ہوں تو اب خون کی بو آتی ہے

عزیز لکھنوی