جاں نثاراختر کے 10 منتخب شعر

اہم ترقی پسند شاعر، اور فلم نغمہ نگار ، فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے والد

اور کیا اس سے زیادہ کوئی نرمی برتوں

دل کے زخموں کو چھوا ہے ترے گالوں کی طرح

جاں نثاراختر

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں

اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

جاں نثاراختر

زلفیں سینہ ناف کمر

ایک ندی میں کتنے بھنور

جاں نثاراختر

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں

کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے

ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے

جاں نثاراختر

میں جب بھی اس کے خیالوں میں کھو سا جاتا ہوں

وہ خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھے

جاں نثاراختر

ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا

چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے

جاں نثاراختر

کچل کے پھینک دو آنکھوں میں خواب جتنے ہیں

اسی سبب سے ہیں ہم پر عذاب جتنے ہیں

جاں نثاراختر

شرم آتی ہے کہ اس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں

نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارا ہی نہ ہو

جاں نثاراختر