خواجہ محمد وزیر کے 10 منتخب شعر

19ویں صدی کے لکھنوی شاعر

دیکھنا حسرت دیدار اسے کہتے ہیں

پھر گیا منہ تری جانب دم مردن اپنا

خواجہ محمد وزیر

جس کو آتے دیکھتا ہوں اے پری کہتا ہوں میں

آدمی بھیجا نہ ہو میرے بلانے کے لیے

خواجہ محمد وزیر

جب خفا ہوتا ہے تو یوں دل کو سمجھاتا ہوں میں

آج ہے نامہرباں کل مہرباں ہو جائے گا

خواجہ محمد وزیر

زر دیا زور دیا مال دیا گنج دیے

اے فلک کون سے راحت کے عوض رنج دیے

خواجہ محمد وزیر

بت بھی نہ بھولیں یاد خدا کی بھی کیجیے

پڑھیے نماز کر کے وضو آب گنگ سے

خواجہ محمد وزیر

سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گا

کس کی پھر جھوٹی قسم کھائیے گا

خواجہ محمد وزیر

دیکھ پچھتائے گا او بت مرے ترسانے سے

اٹھ کے کعبے کو چلا جاؤں گا بت خانے سے

خواجہ محمد وزیر

دیکھا جسے بسمل کیا تاکا جسے مارا

اس آنکھ سے ڈریے جو خدا سے نہ ڈرے آنکھ

خواجہ محمد وزیر

زمیں بھی نکلی جاتی ہے مری پاؤں کے نیچے سے

مجھے مشکل ہوا ہے ساتھ دینا اپنے منزل کا

خواجہ محمد وزیر

اپنے کوچے میں مجھے رونے تو دے اے رشک گل

باغباں پانی ہمیشہ دیتے ہیں گلزار کو

خواجہ محمد وزیر