میر مہدی مجروح کے 10 منتخب شعر

چرا کے مٹھی میں دل کو چھپائے بیٹھے ہیں

بہانا یہ ہے کہ مہندی لگائے بیٹھے ہیں

میر مہدی مجروح

یہ جو چپکے سے آئے بیٹھے ہیں

لاکھ فتنے اٹھائے بیٹھے ہیں

میر مہدی مجروح

کیا ہماری نماز کیا روزہ

بخش دینے کے سو بہانے ہیں

میر مہدی مجروح

غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا

سمجھے بھی تو کیا سمجھے جانا بھی تو کیا جانا

میر مہدی مجروح

شغل الفت کو جو احباب برا کہتے ہیں

کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا کہتے ہیں

میر مہدی مجروح

جان انساں کی لینے والوں میں

ایک ہے موت دوسرا ہے عشق

میر مہدی مجروح

اپنی کشتی کا ہے خدا حافظ

پیچھے طوفاں ہے سامنے گرداب

میر مہدی مجروح

زاہد پیالہ تھام جھجھکتا ہے کس لیے

اس مفت کی شراب کے پینے سے ڈر نہیں

میر مہدی مجروح

ہزاروں گھر ہوئے ہیں اس سے ویراں

رہے آباد سرکار محبت

میر مہدی مجروح

یہ کیا کہ ہمیں مرتے رہیں لطف تو جب ہے

تاثیر محبت جو ادھر ہو تو ادھر بھی

میر مہدی مجروح