سراج لکھنوی کے 10 منتخب شعر

آنکھیں کھلیں تو جاگ اٹھیں حسرتیں تمام

اس کو بھی کھو دیا جسے پایا تھا خواب میں

as my eyes did ope my yearnings did rebound

for I lost the person who in my dreams I found

as my eyes did ope my yearnings did rebound

for I lost the person who in my dreams I found

سراج لکھنوی

آپ کے پاؤں کے نیچے دل ہے

اک ذرا آپ کو زحمت ہوگی

سراج لکھنوی

ہاں تم کو بھول جانے کی کوشش کریں گے ہم

تم سے بھی ہو سکے تو نہ آنا خیال میں

سراج لکھنوی

اس سوچ میں بیٹھے ہیں جھکائے ہوئے سر ہم

اٹھے تری محفل سے تو جائیں گے کدھر ہم

سراج لکھنوی

دیا ہے درد تو رنگ قبول دے ایسا

جو اشک آنکھ سے ٹپکے وہ داستاں ہو جائے

سراج لکھنوی

کچھ اور مانگنا میرے مشرب میں کفر ہے

لا اپنا ہاتھ دے مرے دست سوال میں

سراج لکھنوی

آنکھوں پر اپنی رکھ کر ساحل کی آستیں کو

ہم دل کے ڈوبنے پر آنسو بہا رہے ہیں

سراج لکھنوی

اس دل میں تو خزاں کی ہوا تک نہیں لگی

اس پھول کو تباہ کیا ہے بہار نے

سراج لکھنوی

وہ بھیڑ ہے کہ ڈھونڈھنا تیرا تو درکنار

خود کھویا جا رہا ہوں ہجوم خیال میں

سراج لکھنوی

خوشا وہ دور کہ جب مرکز نگاہ تھے ہم

پڑا جو وقت تو اب کوئی روشناس نہیں

سراج لکھنوی