Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Zareef Lakhnavi's Photo'

ظریف لکھنوی

1870 - 1937 | لکھنؤ, انڈیا

اردو اور فارسی کے شاعر،اپنا طنزیہ اور مزاحیہ کلام مخصوص انداز میں سنانے کے لیے مشہور

اردو اور فارسی کے شاعر،اپنا طنزیہ اور مزاحیہ کلام مخصوص انداز میں سنانے کے لیے مشہور

ظریف لکھنوی کے اشعار

506
Favorite

باعتبار

علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیں

چاٹ جاتا ہے کتابیں امتحاں کوئی نہیں

چائے میں ڈال کر عشاق اسے پی جاتے

در حقیقت لب معشوق جو شکر ہوتا

وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے

مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے

ہمیں بتلا نہ دیں عاشق جو ہیں روئے کتابی پر

سبق ہے کیا کوئی معشوق جس کو یاد کرتے ہیں

ظریفؔ اب فائدہ کیا شاعروں کو سردی کھانے سے

غزل ہم پڑھ چکے گھر جائیں کیوں بیکار بیٹھے ہیں

مے کو جو اصطلاح میں کہتے ہیں دخت رز

وہ مغبچہ ہے رندوں کا سالا کہیں جسے

باز آئے محبت سے اے عشق خدا حافظ

الفت میں جسے دیکھو اندھا نظر آتا ہے

زلف کے جال میں معشوق کا سر ہے خود بھی

قیدیوں مژدہ کہ صیاد تہ دام آیا

وہ بھی گونگے بنے رہے ہم بھی

گفتگو قصہ مختصر نہ ہوئی

بزم میں کچھ قدر داں اس قسم کے آ جائیں گے

چھانٹ کر اکثر نئے جوتے چرا لے جائیں گے

جو دکھاتے ہیں رہ عشق میں ثابت قدمی

ایسے عشاق کے پیروں میں ورم ہوتا ہے

ایسی جگہ پہ گر کہیں رہنے کو جا ملے

انساں کو زندگی میں لحد کا مزا ملے

ساکنان شہر اب ہشیار ہونا چاہیئے

ممبر اور ووٹر کا کچھ معیار ہونا چاہیئے

Recitation

بولیے