تشریح
’’ناکام‘‘ اور ’’کام لیا‘‘ میں رعایت ظاہر ہے۔ پہلے مصرع میں ’’سلیقے‘‘ کا لفظ بہت خوب ہے، کیوں کہ اگر کسی کم کار آمد چیز سے کوئی اہم کام نکال لیا جائے تو کہتے ہیں کہ ’’فلاں کو کام کرنے کا سلیقہ ہے‘‘۔ ’’کام لیا‘‘ بھی بہت خوب ہے، کیوں کہ یہ واضح نہیں کیا کہ ناکامی ہی کو کامیابی سمجھ لیا، اور اس طرح کام نکال لیا، یا ناکامیوں پر صبر کر لیا۔ محبت میں نبھنا بھی خالی ازلطف نہیں، کیونکہ یہاں بھی یہ ظاہر نہیں کیا کہ معشوق سے نبھی، یا محض زندگی نبھی، یا اپنے آپ سے نبھی۔ بہت بلیغ شعر ہے۔ لہجے میں وقار بھی ہے اور ایک طرح کی چالاکی بھی۔ محمد حسن عسکری نے اس شعر کے بارے میں خوب لکھا ہے کہ ’’میر نفی میں اثبات ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے یہاں شکست تو مل جائے گی، لیکن شکست خوردگی نہیں۔ ان کی افسردگی ایک نئی تلاش کا بہانہ بنتی ہے۔‘‘
’’سلیقہ‘‘ کے معنی ’’عادت، سرشت‘‘ بھی ہیں۔ یہ معنی بھی یہاں مناسب ہیں۔ اسی سیاق و سباق میں لفظ ’’سلیقہ‘‘ میر نے ایک اور شعر میں خوبی سے استعمال کیا ہے؎
تمنائے دل کے لئے جان دی
سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے
(دیوان اوّل)
شمس الرحمن فاروقی