Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Muhammad Raza Hyderi's Photo'

محمد رضا حیدری

2000 | سندھ, پاکستان

محمد رضا حیدری کے اشعار

16
Favorite

باعتبار

جس کو مانگا تھا عمر بھر کے لیے

وہ مجھے عمر بھر ملا ہی نہیں

چھوڑا نہیں ہے آج بھی مصروفیات نے

اتوار لگ رہا ہے مجھے پیر کی طرح

مجھ کو دین تھمایا لیکن

خود اس نے چمکا لی دنیا

برا لگتا ہے کیوں شکوہ ہمارا

نہیں شاید کوئی رشتہ ہمارا

رضاؔ وہ غم بھی ہمیں ٹھیک سے نہیں دیتا

ہم اپنی ساری خوشی جس کے نام کرتے ہیں

بہانہ مسکرانے کا تلاشو

رلانے کے لیے دنیا پڑی ہے

تب سے یہ دھوپ میرے مقدر میں آ گئی

سایہ جب ایک پیڑ کا سر سے چلا گیا

لاپتہ ہوں میں جس کی چاہت میں

مجھ کو اس کا پتہ پتہ ہی نہیں

اب اور ہمت نہیں ہے ہم میں تمہاری چالوں سے تھک چکے ہیں

یقین تم پر ذرا بھی ہوتا تو پھر سے یاری ضرور کرتے

گیا جو مندر تو پھر نہ مسجد کی چھت پہ بیٹھا

مزاج لوگوں کے اک پرندے میں آ گئے تھے

پھر نہ رشتہ کوئی آیا ہو جواں بیٹی کا

گھر میں آتے ہوئے مہمان سے ڈر لگتا ہے

ہمیں بھی فاقہ کشی نے کافر بنا دیا ہے

خیال روٹی کے آج سجدے میں آ گئے تھے

مجھ کو کافر بنا کے چھوڑیں گی

آپ جیسوں کی مذہبی باتیں

طوائف مر گئی فاقہ کشی سے

نگر سارا نمازی ہو چکا تھا

Recitation

بولیے