محمد رضا حیدری کے اشعار
جس کو مانگا تھا عمر بھر کے لیے
وہ مجھے عمر بھر ملا ہی نہیں
چھوڑا نہیں ہے آج بھی مصروفیات نے
اتوار لگ رہا ہے مجھے پیر کی طرح
مجھ کو دین تھمایا لیکن
خود اس نے چمکا لی دنیا
برا لگتا ہے کیوں شکوہ ہمارا
نہیں شاید کوئی رشتہ ہمارا
رضاؔ وہ غم بھی ہمیں ٹھیک سے نہیں دیتا
ہم اپنی ساری خوشی جس کے نام کرتے ہیں
بہانہ مسکرانے کا تلاشو
رلانے کے لیے دنیا پڑی ہے
تب سے یہ دھوپ میرے مقدر میں آ گئی
سایہ جب ایک پیڑ کا سر سے چلا گیا
لاپتہ ہوں میں جس کی چاہت میں
مجھ کو اس کا پتہ پتہ ہی نہیں
اب اور ہمت نہیں ہے ہم میں تمہاری چالوں سے تھک چکے ہیں
یقین تم پر ذرا بھی ہوتا تو پھر سے یاری ضرور کرتے
گیا جو مندر تو پھر نہ مسجد کی چھت پہ بیٹھا
مزاج لوگوں کے اک پرندے میں آ گئے تھے
پھر نہ رشتہ کوئی آیا ہو جواں بیٹی کا
گھر میں آتے ہوئے مہمان سے ڈر لگتا ہے
ہمیں بھی فاقہ کشی نے کافر بنا دیا ہے
خیال روٹی کے آج سجدے میں آ گئے تھے
مجھ کو کافر بنا کے چھوڑیں گی
آپ جیسوں کی مذہبی باتیں