Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Tripurari's Photo'

تری پراری

1986 | ممبئی, انڈیا

تری پراری کے اشعار

4.2K
Favorite

باعتبار

ایک کردار نیا روز جیا کرتا ہوں

مجھ کو شاعر نہ کہو ایک اداکار ہوں میں

جن سے ملنا نہ ہوا ان سے بچھڑ کر روئے

ہم تو آنکھوں کی ہر اک حد سے گزر کر روئے

میں اپنے درمیاں سے ہٹ چکا ہوں

تو پھر کیا درمیاں رکھا ہوا ہے

جب سے گزرا ہے کسی حسن کے بازار سے دل

دل کو محسوس یہ ہوتا ہے کہ بازار ہوں میں

اے ہوا تو ہی اسے عید مبارک کہیو

اور کہیو کہ کوئی یاد کیا کرتا ہے

تم جسے چاند کہتے ہو وہ اصل میں

آسماں کے بدن پر کوئی گھاؤ ہے

میں ترے جسم کے جب پار نکل جاؤں گا

وصل کی رات بڑی غور طلب ہوگی وہ

تم مرے پاس نہ آؤ کہ یہی بہتر ہے

پاس آنے سے تو پہچان بھی جا سکتی ہے

کسی پر بھی یقیں کر لیتے ہو تم

تمہارے ساتھ کیا دھوکہ ہوا ہے

جسے تم ڈھونڈتی رہتی ہو مجھ میں

وہ لڑکا جانے کب کا مر چکا ہے

عمر بھر لڑتا رہا ہوں اس سے

وہ جو اک شخص کبھی تھا ہی نہیں

میں حاصل ہو چکا ہوں جس بدن کو

اسی سے پوچھتا ہوں کیا ملا ہے

قتل کرنا ہے نئے خواب کا سو ڈرتا ہوں

کانپ جائیں نہ مرے ہاتھ یہ خوں کرتے ہوئے

روح ہے ترجمہ پانیوں کا اگر

جسم یعنی سمندر میں اک ناؤ ہے

یہ بارش کب رکے گی کون جانے

کہیں میں مر نہ جاؤں تشنگی سے

نیند آئے تو کچھ سراغ ملے

کون ہے دفن میرے خوابوں میں

ایک تصویر بنائی ہے خیالوں نے ابھی

اور تصویر سے اک شخص نکل آیا ہے

کتنی دل کش ہیں یہ بارش کی پھواریں لیکن

ایسی بارش میں مری جان بھی جا سکتی ہے

شعر پڑھتے ہوئے یہ تم نے کبھی سوچا ہے

شعر کہتے ہوئے میں کتنی دفع مرتا ہوں

پیاس ایسی تھی کہ میں سارا سمندر پی گیا

پر مرے ہونٹوں کے یہ دونوں کنارے جل گئے

کئی لاشیں ہیں مجھ میں دفن یعنی

میں قبرستان ہوں شروعات ہی سے

محبت میں شکایت کر رہا ہوں

شکایت میں محبت کر رہا ہوں

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے