آغا اکبرآبادی
غزل 24
اشعار 32
رقیب قتل ہوا اس کی تیغ ابرو سے
حرام زادہ تھا اچھا ہوا حلال ہوا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کسی کو کوستے کیوں ہو دعا اپنے لیے مانگو
تمہارا فائدہ کیا ہے جو دشمن کا ضرر ہوگا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہم نہ کہتے تھے کہ سودا زلف کا اچھا نہیں
دیکھیے تو اب سر بازار رسوا کون ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
میکشوں میں نہ کوئی مجھ سا نمازی ہوگا
در مے خانہ پہ بچھتا ہے مصلیٰ اپنا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دیگر شعرا کو پڑھیے
-
وزیر علی صبا لکھنؤی
-
مرزا محمد تقی ہوسؔ
-
عبدالرحمان احسان دہلوی
-
اسد علی خان قلق
-
سید یوسف علی خاں ناظم
-
خواجہ محمد وزیر
-
آسی غازی پوری
-
آغا حجو شرف
-
سخی لکھنوی
-
زین العابدین خاں عارف
-
شاد لکھنوی
-
شیخ علی بخش بیمار
-
قربان علی سالک بیگ
-
پروین ام مشتاق
-
ظہیرؔ دہلوی
-
حیدر علی آتش
-
اکبر الہ آبادی
-
ساحر لدھیانوی
-
انور دہلوی
-
احمد فراز