Gulzar's Photo'

گلزار

1936 | ممبئی, ہندوستان

سمپورن سنگھ۔ ممتاز فلم ساز و ہدایت کار، فلم نغمہ نگار اور افسانہ نگار۔ مرزا غالب پر ٹیلی ویژن سیریل کے لئے مشہور۔ ساہتیہ اکادمی اوارڈ یافتہ

سمپورن سنگھ۔ ممتاز فلم ساز و ہدایت کار، فلم نغمہ نگار اور افسانہ نگار۔ مرزا غالب پر ٹیلی ویژن سیریل کے لئے مشہور۔ ساہتیہ اکادمی اوارڈ یافتہ

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے

آج پھر آپ کی کمی سی ہے

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا

قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف

کسی کی آنکھ میں ہم کو بھی انتظار دکھے

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر

عادت اس کی بھی آدمی سی ہے

عادتاً تم نے کر دیے وعدے

عادتاً ہم نے اعتبار کیا

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے

ہم نے اکثر تمہاری راہوں میں

رک کر اپنا ہی انتظار کیا

جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں

اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے

آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں

ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں

ایک پرانا خط کھولا انجانے میں

دیر سے گونجتے ہیں سناٹے

جیسے ہم کو پکارتا ہے کوئی

تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں

سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں

جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے

جانے کون آس پاس ہوتا ہے

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی

جیسے احساں اتارتا ہے کوئی

رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے

قرار دے کے ترے در سے بے قرار چلے

چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں

دل کو پگھلائیں تو ہو سکتا ہے سانسیں نکلیں

یہ شکر ہے کہ مرے پاس تیرا غم تو رہا

وگرنہ زندگی بھر کو رلا دیا ہوتا

بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میں

اجالا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں

اپنے ماضی کی جستجو میں بہار

پیلے پتے تلاش کرتی ہے