- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
حقانی القاسمی کے مضامین
بنارس کی تخلیقی صبح
شہر بنارس مابعد الطبیعاتی شعور کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ تقدیسی مرکزیت نے اسے روحانی وجود کا روشن محور بنادیا ہے۔ یہ شہر مشرق کی ایک بڑی آبادی کے رگ وپے میں شامل ہے۔ نجات دیدہ و دل کا شہر، عرفان و آگہی کے نور سے اتنا سرشار تھا کہ غالب نے بھی اس کی مرجعیت
اردو میں بچوں کے رسائل
یہ خیال مہمل ہے کہ (الف) اردو میں بچوں کا ادب کم لکھا گیا ہے۔ (ب)ادب اطفال کو تحقیق و تنقید کا موضوع کم بنایا گیا ہے۔ (ت) اردو میں بچوں کے کم رسائل شائع ہوئے ہیں۔ (الف) مقدار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اردو میں بچوں کے ادب کا وافر ذخیرہ موجود ہے بلکہ
پولیس کا تخلیقی چہرہ
پولیس کا تخلیقی چہرہ۔۔۔ یہ عنوان جب میں نے سوچا تھا تو مجھے یقین تھا کہ چند صفحات میں ہی پوری داستان سمٹ جائے گی لیکن جب جستجو کا سفر شروع ہوا تو آنکھیں حیرت سے وا رہ گئیں کہ جسے میں کوزہ سمجھتا تھا وہ تو سمندر نکلا۔۔۔ میری جستجو کا دائرہ محدود
میڈیکل ڈاکٹروں کی ادبی خدمات
ادب اور میڈیسین کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ دونوں ہی انسانی کیفیات کا علاج کرتے ہیں اور ان دونوں کی حیثیت معاشرہ میں کارِ مسیحائی کی ہے۔ ادب سماج کی نبض کو ٹٹول کر اس کی بیماریاں بیان کرتاہے تو میڈیسین ان بیماریوں کی تشخیص کرکے ان کا علاج تلاش کرتی ہے۔ ادب
پٹنہ کا تخلیقی افق
پٹنہ مستقبل کا شہر ہے۔۔۔! مہاتما بدھ جیسے عرفانی وجود نے یہ پیش گوئی کی تھی تو یقینا صحیح ہوگی۔ اس شہر کا طبعی وجود اگر معدوم ہو جائے تو ما بعد الطبیعاتی وجود بر قرار رہے گا۔ یہ شہر بنیادی طور پر اپنے اندر ایسے عناصر رکھتا ہے جن کا تعلق میٹا فزکس
جونپور کا تخلیقی نور
وقت تاریخ کے نقشے بدل دیتا ہے اور تاریخ شہروں کے نقشے بدل دیتی ہے! انسانوں کی طرح شہروں کے آداب اور اسالیب بھی بدلتے رہتے ہیں مگر بقول قرۃ العین حیدر، ’’خیالات کے صنم خانے ہمیشہ آباد رہیں گے۔‘‘ ماضی میں ایسا ہی ایک صنم خانہ جونپور بھی تھا۔ برسوں
ادبی صحافت کے دو سو سال
اردو کی ادبی صحافت کی حتمی تاریخ کا تعین مشکل ہے ۔ڈاکٹر عبدالسلام خورشید اور جی ڈی چندن وغیرہ اس کا نقطۂ آغاز گلدستوں کو قرار دیتے ہیں۔ کچھ محققین ماہنامہ ’تہذیب الاخلاق‘، ’محب ہند‘ ، ’نور نصرت‘ اور ’مخزن الفوائد‘ کو ادبی صحافت کا نقش اول بتاتے ہیں۔
میرا جی کے تراجم
تلخیص میراجی ایک عظیم تخلیق کار کے ساتھ ساتھ ایک اچھے مترجم بھی تھے۔ انھوں نے عالمی ادبیات کے علاوہ سنسکرت شاعری کے بھی عمدہ ترجمے کیے ہیں۔ ترجمہ نگار کی حیثیت سے بھی ان کی شناخت مسلم ہے۔ انھوں نے اپنے تراجم کے ذریعے مشرقی تہذیبی روایات سے اپنے ذہنی
چشم و چراغ عالم اعظم گڑھ
عظمتیں بھی ہجر ت کرتی رہتی ہیں ۔ اس لئے اگر مغرب کا اندلس اجڑ گیا ، مشرق کا اعظم گڑھ آباد ہوگیا تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ دلی نہ اجڑتی تو لکھنؤ آباد نہ ہوتا۔ڈ علوم و فنون، تہذیب و تمدن کو بھی نئے مکانوں ، نئے زمانوں ا ور نئے قدر دانوں کی تلاش
اردو میں نسائی صحافت
فیمینزم یعنی تانیثیت کو اس کے مروجہ اصطلاحی مفہوم اور نظری تحریکی تصور کے تناظر میں دیکھا جائے تو اردو میں تانیثی صحافت کا وجود ہی نہیں ہے۔ کیونکہ بہ حیثیت تحریک یا نظریہ تانیثیت کا جو منشور ہے اور جن افکار و تصورات پر یہ مرکوز ہے اردو کی نسائی صحافت
ردولی کا تخلیقی آہنگ
ہندوستان کی دو عظیم دانش گاہوں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے ترانوں کے خالق کا تعلق جس شہر سے ہو، اس شہر کی نغمگی اور آہنگ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ مسلم یونیورسٹی کا ترانہ مجاز نے لکھا اور جامعہ ملیہ کا ترانہ محمد خلیق
لمعہ طور مظفر پور
لیچی، مظفرپور کی شناخت کا صارفی حوالہ ضرور ہے۔ مگر اس سے اس شہر کی باطنی عظمت یا حشمت ظاہر نہیں ہوتی۔اسکی داخلی توانائی اس کی تخلیق و تہذیب میں ہی مضمر ہے کہ دانش کی دنیا میں تخلیقیت ہی عظمت کا حوالہ بنتی ہے۔ تخلیق ہی اقداری نظا م کی تشکیل کرتی ہے۔Enculturationکا
اناؤ کا تخلیقی الاؤ
مادیت صارفیت نے شہروں کے مزاج بدل دیے ہیں۔ اب شہروں میں شعور نہیں شور ہے۔ حد نگاہ تک ہجوم اور اس میں گم ہوتی تہذیبی ثقافتی قدریں — یہ ہے شہر کا نیا شناخت نامہ۔ شہر کی بدلتی سائیکی میں اب صبحوں کا جمال، شاموں کی ملاحت کون تلاش کرے، جاں نثار اختر کی طرح
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
