- کتاب فہرست 179123
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
مبین مرزا کے افسانے
خوف کے آسمان تلے
دن تو وہ بھی عام دنوں کی طرح شروع ہوا تھا۔ معمول کے مطابق پروفیسر کیانی نے فجر کی اذان سنتے ہوئے بستر چھوڑا، نماز پڑھ کر صبح کی سیر پر نکل گئے۔ لوٹ کر آئے تو بیگم نے چائے تیار کی ہوئی تھی، وہ چائے کے ساتھ اخبار لے کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد نہائے دھوئے
بھولی بسری عورت
پل بھر کی مخصوص موسیقی کے بعد سکتہ سا آیا پھر ایک شائستہ آواز ابھری جس نے چند منٹ بعد جہاز کے اترنے کا اعلان کیا۔ طارق آنکھیں موندے نشست سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے ذہن کی اسکرین پر کئی چہرے، کئی آوازیں اور کئی مناظر بہ یک وقت ڈوبتے ابھرتے تیر رہے
گمشدہ لوگ
مسلسل شور ہو رہا تھا۔ آخر تنگ آکر انجلی نے آنکھیں کھول دیں۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھا الارم کلاک بج رہا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کل دبائی اور پھر الکساہٹ سے ہاتھ وہیں چھوڑ دیا۔ الارم کلاک کی ٹررن۔۔۔ ٹرررن تو بند ہوگئی لیکن شور ابھی تھما نہیں تھا۔ آوازیں
امانت
اماں کی فرمائش پوری کرنے کا وقت نکل آیا تھا۔ وقت تو نکل ہی آئےگا، اس کا مجھے یقین تھا، لیکن میں اماں کو ٹالنے کے لیے کہہ رہا تھا کہ وقت ملا تو جاؤں گا۔ ظاہر ہے، مقصد یہی تھا کہ واپس آکر جب وہ سوال کریں تو میں آرام سے کہہ دوں کہ وقت ہی نہیں ملا، بہت
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
