- کتاب فہرست 180366
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
مبین مرزا کے افسانے
خوف کے آسمان تلے
دن تو وہ بھی عام دنوں کی طرح شروع ہوا تھا۔ معمول کے مطابق پروفیسر کیانی نے فجر کی اذان سنتے ہوئے بستر چھوڑا، نماز پڑھ کر صبح کی سیر پر نکل گئے۔ لوٹ کر آئے تو بیگم نے چائے تیار کی ہوئی تھی، وہ چائے کے ساتھ اخبار لے کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد نہائے دھوئے
بھولی بسری عورت
پل بھر کی مخصوص موسیقی کے بعد سکتہ سا آیا پھر ایک شائستہ آواز ابھری جس نے چند منٹ بعد جہاز کے اترنے کا اعلان کیا۔ طارق آنکھیں موندے نشست سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے ذہن کی اسکرین پر کئی چہرے، کئی آوازیں اور کئی مناظر بہ یک وقت ڈوبتے ابھرتے تیر رہے
گمشدہ لوگ
مسلسل شور ہو رہا تھا۔ آخر تنگ آکر انجلی نے آنکھیں کھول دیں۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھا الارم کلاک بج رہا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کل دبائی اور پھر الکساہٹ سے ہاتھ وہیں چھوڑ دیا۔ الارم کلاک کی ٹررن۔۔۔ ٹرررن تو بند ہوگئی لیکن شور ابھی تھما نہیں تھا۔ آوازیں
امانت
اماں کی فرمائش پوری کرنے کا وقت نکل آیا تھا۔ وقت تو نکل ہی آئےگا، اس کا مجھے یقین تھا، لیکن میں اماں کو ٹالنے کے لیے کہہ رہا تھا کہ وقت ملا تو جاؤں گا۔ ظاہر ہے، مقصد یہی تھا کہ واپس آکر جب وہ سوال کریں تو میں آرام سے کہہ دوں کہ وقت ہی نہیں ملا، بہت
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
