- کتاب فہرست 180976
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1370 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح599 صحافت200 زبان و ادب1698 خطوط741
طرز زندگی30 طب972 تحریکات272 ناول4270 سیاسی351 مذہبیات4772 تحقیق و تنقید6544افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2012نصابی کتاب439 ترجمہ4223خواتین کی تحریریں5783-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1263
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1594
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی739
- مسدس44
- نعت586
- نظم1207
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ66
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
راہی معصوم رضا
مضمون 1
اشعار 5
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہاں انہیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں
ہاں وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دل کی کھیتی سوکھ رہی ہے کیسی یہ برسات ہوئی
خوابوں کے بادل آتے ہیں لیکن آگ برستی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
زندگی ڈھونڈھ لے تو بھی کسی دیوانے کو
اس کے گیسو تو مرے پیار نے سلجھائے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غزل 40
نظم 17
کتاب 16
تصویری شاعری 9
ہم تو ہیں پردیس میں دیس میں نکلا ہوگا چاند اپنی رات کی چھت پر کتنا تنہا ہوگا چاند جن آنکھوں میں کاجل بن کر تیری کالی رات ان آنکھوں میں آنسو کا اک قطرہ ہوگا چاند رات نے ایسا پینچ لگایا ٹوٹی ہاتھ سے ڈور آنگن والے نیم میں جا کر اٹکا ہوگا چاند چاند بنا ہر دن یوں بیتا جیسے یگ بیتے میرے بنا کس حال میں ہوگا کیسا ہوگا چاند
ہم کیا جانیں قصہ کیا ہے ہم ٹھہرے دیوانے لوگ اس بستی کے بازاروں میں روز کہیں افسانے لوگ یادوں سے بچنا مشکل ہے ان کو کیسے سمجھائیں ہجر کے اس صحرا تک ہم کو آتے ہیں سمجھانے لوگ کون یہ جانے دیوانے پر کیسی سخت گزرتی ہے آپس میں کچھ کہہ کر ہنستے ہیں جانے پہچانے لوگ پھر صحرا سے ڈر لگتا ہے پھر شہروں کی یاد آئی پھر شاید آنے والے ہیں زنجیریں پہنانے لوگ ہم تو دل کی ویرانی بھی دکھلاتے شرماتے ہیں ہم کو دکھلانے آتے ہیں ذہنوں کے ویرانے لوگ اس محفل میں پیاس کی عزت کرنے والا ہوگا کون جس محفل میں توڑ رہے ہوں آنکھوں سے پیمانے لوگ
آؤ واپس چلیں رات کے راستے پر وہاں نیند کی بستیاں تھیں جہاں خاک چھانیں کوئی خواب ڈھونڈیں کہ سورج کے رستے کا رخت_سفر خواب ہے اور اس دن کے بازار میں کل تلک خواب کمیاب تھا آج نایاب ہے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
