اتر پردیش کے شاعر اور ادیب

کل: 316

لکھنؤ کے سب سے گرم مزاج شاعر ، میر تقی میر کے ہم عصر ، مصحفی کے ساتھ چشمک کے لئے مشہور ، انہوں نے ریختی میں بھی شعر کہے اور نثر میں ’رانی کیتکی کی کہانی‘ لکھی

میر حسن

1717 - 1786

مثنوی کے انتہائی مقبول شاعر- 'سحر البیان' کے خالق

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر

میر تقی میر کے ہم عصر ممتاز شاعر، جنہوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں ، ہولی ، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لئے مشہور

اٹھارہویں صدی کے ممتاز شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر

اٹھارہویں صدی کے عظیم شاعروں میں شامل، میر تقی میر کے ہم عصر

بیسوی صدی کی اہم علمی شخصیت، مصنف، مترجم، ناول نگار، ڈرامہ نویس۔ لکھنؤ کی سماجی و تہذیبی زندگی کے رمز شناس

معروف سنسکرت عالم، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

ممتاز ما بعد جدید شاعر، رسالہ’دائرے‘ کے مدیر

ممتاز قبل از جدید شاعر، صوفیانہ رنگ کی شاعری کے لیے معروف

معروف ترقی پسند شاعر،رومانی اور انقلابی نظموں کے لیے مشہور،آل انڈیا ریڈیوکے رسالہ آواز کے پہلے مدیر،معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے ماموں

لکھنؤ کے نامور شاعر، مرزا دبیر کے صاحبزادے، علم عروض پر اپنی کتاب’مقیاس الاشعار‘ کے لیے بھی معروف

مرزا غالب کے ہم عصر، انیسویں صدی کی اردو غزل کا روشن ستارہ

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

لکھنو کے ممتاز اور رجحان ساز کلاسیکی شاعر,مرزا غالب کے ہم عصر

اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے نوکلاسیکی لہجے کے لیے معروف

بچوں کی شاعری کے لئے مشہور

ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف

اپنی شاعری میں محبوب کے ساتھ معاملہ بندی کےمضمون کے لیے مشہور،نوجوانی میں بینائی سے محروم ہوگئے

جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں نمایاں

19ویں صدی کے شاعر

معروف کلاسیکی شاعر جنہونے 1857 کے غدر میں حصّہ لیا

مشہور و معروف ناول نگار اور شہر لکھنؤ سے نکلنے والےمشہور ہفت روزہ اودھ پنچ کے مدیر

انیسویں صدی میں لکھنؤ کے ممتاز ترین شاعروں میں شامل، مشہور مثنوی گلزارِ نسیم کے خالق

اپنی غزل " دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے " کے لئے مشہور

خمریات کے لئے مشہور جب کہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شراب کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا

اردو تنقید کے بانیوں میں نمایاں، عظیم مورخ، عالم دین، سیاسی مفکر اور فارسی شاعر، اپنی تنقیدی کتاب’ شعر العجم‘ کے لئے مشہور

ممتاز قبل از جدید شاعر جنہوں نے نئی غزل کے لئے راہ ہموار کی۔ مرزا غالب کی مخالفت کے لئے مشہور

لکھنؤ کے ممتاز شاعر اور عالم، داغ اور ناطق گلاوٹھی کے شاگرد۔ غالب اور حافظ کے کلام کی شرح و ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی قدیم شاعرات کا تذکرہ بھی مرتب کیا

جید عالم دین، بے مثل ادیب، مرثیہ نگار، آب بیتی نگار، عظیم کالم نویس، صحافی، مفسر قرآن

طنز و مزاح کے شاعر

طنز پر مائل جذباتی شدت کے لئے معروف

معروف شاعر اور نقاد، اپنی تنقیدی کتاب ’دو ادبی اسکول‘ کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

اپنے ناٹک ’اندرسبھا‘ کے لیے مشہور، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے ہم عصر

عالم ،دانشور،مجاہد آزادی اورخطیب،اپنی شاعری میں مستانہ روی اور صوفیانہ رنگ کے لیے معروف

اودھ کے نواب

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

نامور کلاسیکی شاعر، داغ دہلوی کے شاگرد، مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز رہے

ہندوستان میں ہم عصر غزل کے ممتاز شاعر

ہندی کی تجدید نو کے مبلغ ، کلاسکی طرز میں اپنی اردو غزل گوئی کے لیے مشہور

معروف شاعر، امیر مینائی کے شاگرد۔ ’درددل‘ کے نام سے ایک ناول بھی تحریر کیا

مقبول ترین شاعروں میں سے ایک، اپنے مخصوص ترنم کے لیے معروف

اپنے شعر ’بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے‘ کے لیے مشہور

مولانا احمد رضا خاں کے بھائی ،بریلوی عقیدہ کے بنیاد گزار،داغ دہلوی کے شاگرد

بولیے