Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Abu Shabbar's Photo'

ابو شبّر

1988 | کاکوری, انڈیا

ابو شبّر کے اشعار

ایک تم ہی نہیں ہو پاس مرے

ورنہ کس چیز کی کمی ہے مجھے

اک توجہ سے اس کی اس دل میں

مدتوں روشنی سی رہتی ہے

مٹ چکی دل سے جب تری ہر یاد

پھر ذرا سی کہاں سے آتی ہے

ہم نے اک دوسرے سے جی بھر کے

بے وفائی کی انتہا کی ہے

لٹے ہوئے نواب زادوں کا بھرم بھی خوب تھا

ریاستیں اجڑ گئیں غرور عمر بھر رہا

ظلمت فتنۂ یزیدی کو

خون ابن علی سے خطرہ ہے

کریں ہیں آبرو پوشی ذرا سے چتھڑے سے

کہاں پہ قرض لیا تھا کہاں حساب ہوا

Recitation

بولیے