ابو شبّر کے اشعار
ایک تم ہی نہیں ہو پاس مرے
ورنہ کس چیز کی کمی ہے مجھے
اک توجہ سے اس کی اس دل میں
مدتوں روشنی سی رہتی ہے
مٹ چکی دل سے جب تری ہر یاد
پھر ذرا سی کہاں سے آتی ہے
ہم نے اک دوسرے سے جی بھر کے
بے وفائی کی انتہا کی ہے
لٹے ہوئے نواب زادوں کا بھرم بھی خوب تھا
ریاستیں اجڑ گئیں غرور عمر بھر رہا