تجھ سے جدا ہوئے تو یہ ہو جائیں گے جدا

باقی کہاں رہیں گے یہ سائے ترے بغیر

جب اپنی سر زمین نے مجھ کو نہ دی پناہ

انجان وادیوں میں اترنا پڑا مجھے

خواب تعبیر کر کے دیکھ سکیں

رابطہ اس قدر بحال نہ تھا

دے حوصلے کی داد کہ ہم تیرے غم میں آج

بیٹھے ہیں محفلوں کو سجائے ترے بغیر

نیتوں کی کمی رہی ورنہ

ملنا اس کا بہت محال نہ تھا

رسم و رواج چھوڑ کے سب آ گئے یہاں

رکھی ہوئی ہیں طاق میں اب غیرتیں تمام

مرا دل ٹوٹ جانے پر میاں حیرت بھلا کیسی

اگر رستہ بدل جائے ستارے ٹوٹ جاتے ہیں