Aftab Iqbal Shamim's Photo'

آفتاب اقبال شمیم

1933 | پاکستان

پاکستان کے اہم نظم گو شاعر

پاکستان کے اہم نظم گو شاعر

آفتاب اقبال شمیم کی اشعار

یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی

جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا

دل اور دنیا دونوں کو خوش رکھنے میں

اپنے آپ سے دوری تو ہو جاتی ہے

عشق میں یہ مجبوری تو ہو جاتی ہے

دنیا غیر ضروری تو ہو جاتی ہے

کیا رات کے آشوب میں وہ خود سے لڑا تھا

آئینے کے چہرے پہ خراشیں سی پڑی ہیں

لمحہ منصف بھی ہے مجرم بھی ہے مجبوری کا

فائدہ شک کا مجھے دے کے بری کر جائے

خواب کے آگے شکست خواب کا تھا سامنا

یہ سفر تھا مرحلہ در مرحلہ ٹوٹا ہوا

لفظوں میں خالی جگہیں بھر لینے سے

بات ادھوری، پوری تو ہو جاتی ہے

کہا تھا کس نے کہ شاخ نحیف سے پھوٹیں

گناہ ہم سے ہوا بے گناہیوں جیسا

پھر سے تالیف دل ہو پھر کوئی

اس صحیفے کی رونمائی کرے