Aftab Iqbal Shamim's Photo'

آفتاب اقبال شمیم

1933 | پاکستان

پاکستان کے اہم نظم گو شاعر

پاکستان کے اہم نظم گو شاعر

آفتاب اقبال شمیم

غزل 31

اشعار 9

یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی

جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا

دل اور دنیا دونوں کو خوش رکھنے میں

اپنے آپ سے دوری تو ہو جاتی ہے

عشق میں یہ مجبوری تو ہو جاتی ہے

دنیا غیر ضروری تو ہو جاتی ہے

کیا رات کے آشوب میں وہ خود سے لڑا تھا

آئینے کے چہرے پہ خراشیں سی پڑی ہیں

لمحہ منصف بھی ہے مجرم بھی ہے مجبوری کا

فائدہ شک کا مجھے دے کے بری کر جائے

کتاب 2

پاکستانی ادب-1991

انتخاب شعر

1992

زید سے مکالمہ

 

1989

 

تصویری شاعری 1

جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا کیا سوچنا کہ شوق کا انجام کیا ہوا جب اختیار پیشۂ_فرہاد کر لیا خود سے چھپا کے خود کو زمانے کے خوف سے ہم نے تو اپنے آپ کو برباد کر لیا تھا عشق کا حوالہ نیا ہم نے اس لئے مضمون_دل کو پھر سے طبع_زاد کر لیا یوں بھی پناہ‌_سایہ کڑی دھوپ میں ملی آنکھیں جھکائیں اور تجھے یاد کر لیا آیا نیا شعور نئی الجھنوں کے ساتھ سمجھے تھے ہم کہ ذہن کو آزاد کر لیا بس کہ امام_عصر کا فرمان تھا یہی منہ ہم نے سوئے_قبلۂ_اضداد کر لیا

 

مزید دیکھیے