Afzal Gauhar Rao's Photo'

افضل گوہر راؤ

1965 - | سرگودھا, پاکستان

اپنے بدن سے لپٹا ہوا آدمی تھا میں

مجھ سے چھڑا کے مجھ کو بتا کون لے گیا

ایک ہی دائرے میں قید ہیں ہم لوگ یہاں

اب جہاں تم ہو کوئی اور وہاں تھا پہلے

تمہیں ہی صحرا سنبھالنے کی پڑی ہوئی ہے

نکل کے گھر سے بھی ہم تو گھر سے بندھے ہوئے ہیں

تو پرندوں کی طرح اڑنے کی خواہش چھوڑ دے

بے زمیں لوگوں کے سر پر آسماں رہتا نہیں

چند لوگوں کی محبت بھی غنیمت ہے میاں

شہر کا شہر ہمارا تو نہیں ہو سکتا

گمراہ کب کیا ہے کسی راہ نے مجھے

چلنے لگا ہوں آپ ہی اپنے خلاف میں

مری تو آنکھ مرا خواب ٹوٹنے سے کھلی

نہ جانے پاؤں دھرا نیند میں کہاں میں نے

مری نظر تو خلاؤں نے باندھ رکھی تھی

مجھے زمیں سے کہاں آسماں دکھائی دیا

میں ایک عشق میں ناکام کیا ہوا گوہرؔ

ہر ایک کام میں مجھ کو خسارا ہونے لگا

کس پیاس سے خالی ہوا مشکیزہ ہمارا

دریا سے جو اٹھ آئے ہیں صحرا کی طرف ہم

کون سی ایسی کمی میرے خد و خال میں ہے

آئنہ خوش نہیں ہوتا کبھی مل کر مجھ سے

کیا مصیبت ہے کہ ہر دن کی مشقت کے عوض

باندھ جاتا ہے کوئی رات کا پتھر مجھ سے

ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا

ایک ہی عشق دوبارہ تو نہیں ہو سکتا

یہ کیسے خواب کی خواہش میں گھر سے نکلا ہوں

کہ دن میں چلتے ہوئے نیند آ رہی ہے مجھے

یہاں بھلا کون اپنی مرضی سے جی رہا ہے

سبھی اشارے تری نظر سے بندھے ہوئے ہیں

Added to your favorites

Removed from your favorites