noImage

آغا حجو شرف

1812 - 1887

لکھنؤ کے اہم کلاسیکی شاعر، آتش کے شاگرد، شاہی خاندان کے قریب رہے، لکھنؤ پر لکھی اپنی طویل مثنوی ’افسانۂ لکھنؤ‘ کے لیے معروف

لکھنؤ کے اہم کلاسیکی شاعر، آتش کے شاگرد، شاہی خاندان کے قریب رہے، لکھنؤ پر لکھی اپنی طویل مثنوی ’افسانۂ لکھنؤ‘ کے لیے معروف

323
Favorite

باعتبار

عشق ہو جائے گا میری داستان عشق سے

رات بھر جاگا کرو گے اس کہانی کے لئے

بے وفا تم با وفا میں دیکھیے ہوتا ہے کیا

غیظ میں آنے کو تم ہو مجھ کو پیار آنے کو ہے

لکھا ہے جو تقدیر میں ہوگا وہی اے دل

شرمندہ نہ کرنا مجھے تو دست دعا کا

شاخ گل جھوم کے گل زار میں سیدھی جو ہوئی

پھر گیا آنکھ میں نقشہ تری انگڑائی کا

موجد جو نور کا ہے وہ میرا چراغ ہے

پروانہ ہوں میں انجمن کائنات کا

کبھی جو یار کو دیکھا تو خواب میں دیکھا

مری مراد بھی آئی تو مستعار آئی

دیکھنے بھی جو وہ جاتے ہیں کسی گھائل کو

اک نمکداں میں نمک پیس کے بھر لیتے ہیں

کیا خدا ہیں جو بلائیں تو وہ آ ہی نہ سکیں

ہم یہ کہتے ہیں کہ آ جائیں تو جا ہی نہ سکیں

دنیا جو نہ میں چند نفس کے لیے لیتا

جنت کا علاقہ مری جاگیر میں آتا

نہیں کرتے وہ باتیں عالم رویا میں بھی ہم سے

خوشی کے خواب بھی دیکھیں تو بے تعبیر ہوتے ہیں

قریب مرگ ہوں للہ آئینہ رکھ دو

گلے سے میرے لپٹ جاؤ پھر نکھر لینا

عشق بازوں کی کہیں دنیا میں شنوائی نہیں

ان غریبوں کی قیامت میں سماعت ہو تو ہو

کہا جو میں نے میرے دل کی اک تصویر کھنچوا دو

منگا کر رکھ دیا اک شیشہ چکناچور پہلو میں

آمد آمد ہے ترے شہر میں کس وحشی کی

بند رہنے کی جو تاکید ہے بازاروں کو

جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا

یار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھا

دکھا دیتے ہو تم دل کو تو بڑھ جاتا ہے دل میرا

خوشی ہوتا ہوں ایسا میں کہ ہنس دیتا ہوں رقت میں

تو نہیں ملتی تو ہم بھی تجھ کو ملنے کے نہیں

تفرقہ آپس میں اے عمر رواں اچھا نہیں

تیز کب تک ہوگی کب تک باڑھ رکھی جائے گی

اب تو اے قاتل تری شمشیر آدھی رہ گئی

کیا بجھائے گا مرے دل کی لگی وہ شعلہ رو

دوڑتا ہے جو لگا کے آگ پانی کے لئے

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی

آدھی چھٹنے کی ہوئی تدبیر آدھی رہ گئی

رگڑی ہیں ایڑیاں تو ہوئی ہے یہ مستجاب

کس عاجزی سے کی ہے دعا کچھ نہ پوچھئے

دل میں آمد آمد اس پردہ نشیں کی جب سنی

دم کو جلدی جلدی میں نے جسم سے باہر کیا

دو وقت نکلنے لگی لیلیٰ کی سواری

دلچسپ ہوا قیس کے رہنے سے بن ایسا

ہمیشہ شیفتہ رکھتے ہیں اپنے حسن قدرت کا

خود اس کی روح ہو جاتے ہیں جس کا تن بناتے ہیں

خلوت سرائے یار میں پہنچے گا کیا کوئی

وہ بند و بست ہے کہ ہوا کا گزر نہیں