noImage

آغا حجو شرف

1812 - 1887

لکھنؤ کے اہم کلاسیکی شاعر، آتش کے شاگرد، شاہی خاندان کے قریب رہے، لکھنؤ پر لکھی اپنی طویل مثنوی ’افسانۂ لکھنؤ‘ کے لیے معروف

لکھنؤ کے اہم کلاسیکی شاعر، آتش کے شاگرد، شاہی خاندان کے قریب رہے، لکھنؤ پر لکھی اپنی طویل مثنوی ’افسانۂ لکھنؤ‘ کے لیے معروف

بے وفا تم با وفا میں دیکھیے ہوتا ہے کیا

غیظ میں آنے کو تم ہو مجھ کو پیار آنے کو ہے

عشق ہو جائے گا میری داستان عشق سے

رات بھر جاگا کرو گے اس کہانی کے لئے

لکھا ہے جو تقدیر میں ہوگا وہی اے دل

شرمندہ نہ کرنا مجھے تو دست دعا کا

شاخ گل جھوم کے گل زار میں سیدھی جو ہوئی

پھر گیا آنکھ میں نقشہ تری انگڑائی کا

موجد جو نور کا ہے وہ میرا چراغ ہے

پروانہ ہوں میں انجمن کائنات کا

کبھی جو یار کو دیکھا تو خواب میں دیکھا

مری مراد بھی آئی تو مستعار آئی

دیکھنے بھی جو وہ جاتے ہیں کسی گھائل کو

اک نمکداں میں نمک پیس کے بھر لیتے ہیں

کیا خدا ہیں جو بلائیں تو وہ آ ہی نہ سکیں

ہم یہ کہتے ہیں کہ آ جائیں تو جا ہی نہ سکیں

عشق بازوں کی کہیں دنیا میں شنوائی نہیں

ان غریبوں کی قیامت میں سماعت ہو تو ہو

کہا جو میں نے میرے دل کی اک تصویر کھنچوا دو

منگا کر رکھ دیا اک شیشہ چکناچور پہلو میں

آمد آمد ہے ترے شہر میں کس وحشی کی

بند رہنے کی جو تاکید ہے بازاروں کو

دنیا جو نہ میں چند نفس کے لیے لیتا

جنت کا علاقہ مری جاگیر میں آتا

تیز کب تک ہوگی کب تک باڑھ رکھی جائے گی

اب تو اے قاتل تری شمشیر آدھی رہ گئی

جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا

یار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھا

تو نہیں ملتی تو ہم بھی تجھ کو ملنے کے نہیں

تفرقہ آپس میں اے عمر رواں اچھا نہیں

قریب مرگ ہوں للہ آئینہ رکھ دو

گلے سے میرے لپٹ جاؤ پھر نکھر لینا

دکھا دیتے ہو تم دل کو تو بڑھ جاتا ہے دل میرا

خوشی ہوتا ہوں ایسا میں کہ ہنس دیتا ہوں رقت میں

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی

آدھی چھٹنے کی ہوئی تدبیر آدھی رہ گئی

کیا بجھائے گا مرے دل کی لگی وہ شعلہ رو

دوڑتا ہے جو لگا کے آگ پانی کے لئے

نہیں کرتے وہ باتیں عالم رویا میں بھی ہم سے

خوشی کے خواب بھی دیکھیں تو بے تعبیر ہوتے ہیں

دل میں آمد آمد اس پردہ نشیں کی جب سنی

دم کو جلدی جلدی میں نے جسم سے باہر کیا

دو وقت نکلنے لگی لیلیٰ کی سواری

دلچسپ ہوا قیس کے رہنے سے بن ایسا

ہمیشہ شیفتہ رکھتے ہیں اپنے حسن قدرت کا

خود اس کی روح ہو جاتے ہیں جس کا تن بناتے ہیں

خلوت سرائے یار میں پہنچے گا کیا کوئی

وہ بند و بست ہے کہ ہوا کا گزر نہیں