Ajiz Matvi's Photo'

عاجز ماتوی

1932 | لکھنؤ, ہندوستان

ہنومان پرساد شرما عاجز ماتوی ماہر عروض اور عربی و فارسی کے اسکالر ہیں

ہنومان پرساد شرما عاجز ماتوی ماہر عروض اور عربی و فارسی کے اسکالر ہیں

118
Favorite

باعتبار

جمہوریت کا درس اگر چاہتے ہیں آپ

کوئی بھی سایہ دار شجر دیکھ لیجئے

جس کی ادا ادا پہ ہو انسانیت کو ناز

مل جائے کاش ایسا بشر ڈھونڈتے ہیں ہم

میں جن کو اپنا کہتا ہوں کب وہ مرے کام آتے ہیں

یہ سارا سنسار ہے سپنا سب جھوٹے رشتے ناطے ہیں

ستم یہ ہے وہ کبھی بھول کر نہیں آیا

تمام عمر رہا جس کا انتظار مجھے

ایک ہم ہیں ہم نے کشتی ڈال دی گرداب میں

ایک تم ہو ڈرتے ہو آتے ہوئے ساحل کے پاس

ہو بجلیوں کا مجھ سے جہاں پر مقابلہ

یارب وہیں چمن میں مجھے آشیانہ دے

منتظر ہوں میں کفن باندھ کے سر سے عاجزؔ

سامنے سے کوئی خنجر نہیں آیا اب تک

انسان حادثات سے کتنا قریب ہے

تو بھی ذرا نکل کے کبھی اپنے گھر سے دیکھ

ہوتا ہے محسوس یہ عاجزؔ شاید اس نے دستک دی

تیز ہوا کے جھونکے جب دروازے سے ٹکراتے ہیں

حسرتیں آ آ کے جمع ہو رہی ہیں دل کے پاس

کارواں گویا پہنچنے والا ہے منزل کے پاس

محو حیرت ہوں خراش دست غم کو دیکھ کر

زخم چہرے پر ہیں یا ہے آئینہ ٹوٹا ہوا

آغاز محبت میں عاجزؔ رکتی نہ تھی موج اشک رواں

انجام اب ان خشک آنکھوں سے اک اشک نکلنا مشکل ہے