Alamtaab Tishna's Photo'

عالم تاب تشنہ

1935 - 1991 | کراچی, پاکستان

168
Favorite

باعتبار

نفرت بھی اسی سے ہے پرستش بھی اسی کی

اس دل سا کوئی ہم نے تو کافر نہیں دیکھا

ہم اپنے عشق کی اب اور کیا شہادت دیں

ہمیں ہمارے رقیبوں نے معتبر جانا

وصال یار کی خواہش میں اکثر

چراغ شام سے پہلے جلا ہوں

ہر دور میں رہا یہی آئین منصفی

جو سر نہ جھک سکے وہ قلم کر دئیے گئے

اس راہ محبت میں تو ساتھ اگر ہوتا

ہر گام پہ گل کھلتے خوشبو کا سفر ہوتا

یہ کہنا ہار نہ مانی کبھی اندھیروں سے

بجھے چراغ تو دل کو جلا لیا کہنا

پہلے نصاب عقل ہوا ہم سے انتساب

پھر یوں ہوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے

میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں رات کو تنہا

چراغ لے کے کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے

حد ہو گئی تھی ہم سے محبت میں کفر کی

جیسے خدا نخواستہ وہ لاشریک تھا

یہ کہنا تم سے بچھڑ کر بکھر گیا تشنہؔ

کہ جیسے ہاتھ سے گر جائے آئینہ کہنا

شوریدگی کو ہیں سبھی آسودگی نصیب

وہ شہر میں ہے کیا جو بیابان میں نہیں

بن کے تعبیر بھی آیا ہوتا

نت نئے خواب دکھانے والا

تمام عمر کی دیوانگی کے بعد کھلا

میں تیری ذات میں پنہاں تھا اور تو میں تھا

ما سوائے کار آہ و اشک کیا ہے عشق میں

ہے سواد آب و آتش دیدہ و دل کے قریب