noImage

علی اکبر عباس

1948 | پاکستان

30
Favorite

باعتبار

کبھی سر پہ چڑھے کبھی سر سے گزرے کبھی پاؤں آن گرے دریا

کبھی مجھے بہا کر لے جائے کبھی مجھ میں آن بہے دریا

ذرا ہٹے تو وہ محور سے ٹوٹ کر ہی رہے

ہوا نے نوچا انہیں یوں کہ بس بکھر ہی رہے

فریب ماہ و انجم سے نکل جائیں تو اچھا ہے

ذرا سورج نے کروٹ لی یہ تارے ڈوب جائیں گے

اک صدا کی صورت ہم اس ہوا میں زندہ ہیں

ہم جو روشنی ہوتے ہم پہ بھی جھپٹتی رات

میں اپنے وقت میں اپنی ردا میں رہتا ہوں

اور اپنے خواب کی آب و ہوا میں رہتا ہوں

اے شاعر! تیرا درد بڑا اے شاعر! تیری سوچ بڑی

اے شاعر! تیرے سینے میں اس جیسا لاکھ بہے دریا

اسی پیڑ کے نیچے دفن بھی ہونا ہوگا

جس کی جڑ پر میں نے اپنا نام لکھا ہے

میں کھوئے جاتا ہوں تنہائیوں کی وسعت میں

در خیال در لا مکاں ہے یا کچھ اور

اپنا آپ نہیں ہے سب کچھ اپنے آپ سے نکلو

بدبوئیں پھیلا دیتا ہے پانی کا ٹھہراؤ

میں بھری سڑکوں پہ بھی بے چاپ چلنے لگ گیا

گھر میں سوئے لوگ میرے ذہن پر یوں چھا گئے