Ali Akbar Natiq's Photo'

علی اکبر ناطق

1976 - - | لاہور, پاکستان

معروف پاکستانی شاعر اور افسانہ نگار

معروف پاکستانی شاعر اور افسانہ نگار

علی اکبر ناطق کے اشعار

238
Favorite

باعتبار

کوئی نہ رستہ ناپ سکا ہے، ریت پہ چلنے والوں کا

اگلے قدم پر مٹ جائے گا پہلا نقش ہمارا بھی

اتنا آساں نہیں پانی سے شبیہیں دھونا

خود بھی روئے گا مصور یہ قیامت کر کے

مختصر بات تھی، پھیلی کیوں صبا کی مانند

درد مندوں کا فسانہ تھا، اچھالا کس نے

آدھے پیڑ پہ سبز پرندے آدھا پیڑ آسیبی ہے

کیسے کھلے یہ رام کہانی کون سا حصہ میرا ہے

آسماں کے روزنوں سے لوٹ آتا تھا کبھی

وہ کبوتر اک حویلی کے چھجوں میں کھو گیا

چراغ بانٹنے والوں پہ حیرتیں نہ کرو

یہ آفتاب ہیں، شب کی دعا میں شاد رہیں

بستیوں والے تو خود اوڑھ کے پتے، سوئے

دل آوارہ تجھے رات سنبھالا کس نے

زرد پھولوں میں بسا خواب میں رہنے والا

دھند میں الجھا رہا نیند میں چلنے والا

حجاب آ گیا تھا مجھ کو دل کے اضطراب پر

یہی سبب ہے تیرے در پہ لوٹ کر نہ آ سکا

کسی کا سایہ رہ گیا گلی کے عین موڑ پر

اسی حبیب سائے سے بنی ہماری داستاں

سرد راتوں کی ہوا میں اڑتے پتوں کے مثیل

کون تیرے شب نوردوں کو سنبھالے شہر میں

وہ شخص امر ہے، جو پیوے گا دو چاندوں کے نور

اس کی آنکھیں سدا گلابی جو دیکھے اک لال

غبار شہر میں اسے نہ ڈھونڈ جو خزاں کی شب

ہوا کی راہ سے ملا، ہوا کی راہ پر گیا

دھوپ پھیلی تو کہا دیوار نے جھک کر مجھے

مل گلے میرے مسافر، میرے سائے کے حبیب

فاختائیں بولتی ہیں بجروں کے دیس میں

تو بھی سن لے آسماں یہ گیت میرے نام کا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے