عارف امام کے شعر

1.1K
Favorite

باعتبار

تلاش رزق کا یہ مرحلہ عجب ہے کہ ہم

گھروں سے دور بھی گھر کے لیے بسے ہوئے ہیں

تمہارے ہجر میں مرنا تھا کون سا مشکل

تمہارے ہجر میں زندہ ہیں یہ کمال کیا

ہوس نہ جان تجھے چھو کے دیکھنا یہ ہے

تجھے ہی دیکھ رہے ہیں کہ خواب دیکھتے ہیں

سبو میں عکس رخ ماہتاب دیکھتے ہیں

شراب پیتے نہیں ہم شراب دیکھتے ہیں

اک برس ہو گیا اسے دیکھے

اک صدی آ گئی ہے سال کے بیچ

ابھی تو میں نے فقط بارشوں کو جھیلا ہے

اب اس کے بعد سمندر بھی دیکھنا ہے مجھے

بنا رہا ہوں ابھی گھر کو آئنہ خانہ

پھر اپنے ہاتھ میں پتھر بھی دیکھنا ہے مجھے

ایک پردہ ہے بے ثباتی کا

آئنے اور ترے جمال کے بیچ

اپنے ہی پیروں سے اپنا آپ روند

اپنی ہستی کو مٹا کر رقص کر

اسی کی بات لکھی چاہے کم لکھی ہم نے

اسی کا ذکر کیا چاہے خال خال کیا

یہ مٹی میرے خال و خد چرا کر

ترا چہرہ بناتی جا رہی ہے

خون کتنا بہا تھا مقتل میں

میری آنکھوں میں خون اترنے تک

عجب تھا نشۂ وارفتگیٔ وصل اسے

وہ تازہ دم رہا مجھ کو نڈھال کر کے بھی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے