noImage

اطہر نادر

1928 | پاکستان

غزل 19

اشعار 22

ہو گئی شام ڈھل گیا سورج

دن کو شب میں بدل گیا سورج

رات آنگن میں چاند اترا تھا

تم ملے تھے کہ خواب دیکھا تھا

دیکھو تو ہر اک رنگ سے ملتا ہے مرا رنگ

سوچو تو ہر اک بات ہے اوروں سے جدا بھی

تو ہر اک کا ہے اور کسی کا نہیں

لوگ کہتے رہیں ہمارا چاند

یہ انقلاب زمانہ نہیں تو پھر کیا ہے

امیر شہر جو کل تھا وہ ہے فقیروں میں